پاکستان میں فوج بمقابلہ عدلیہ

حالانکہ ہر ایک کو معلوم ہے کہ پاکستان میں وہاں کی فوج کو چیلنج کرنے والے کسی بھی شخص کو کامیابی نہیں ملتی اور ہر اس عہدیدار اور بااثر شخص کو گھوم پھرکر شکست کا ہی سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن پھر بھی فوجی ٹولے کا ٹکراؤ کسی نہ کسی سے اکثر ہوتا ہی رہتا ہے۔ گویا یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگرچہ فوج براہ راست تو  یہ نعرہ نہیں بلند کرتی کہ ‘‘جو ہم سے ٹکرائے گا وہ مٹی میں مل جائے گا’’ لیکن زمینی حقیقت عین یہی ہے۔ زیادہ نہیں ابھی کوئی دو ڈھائی سال قبل کی بات ہے کہ غالب اکثریت سے حکومت بنانے والی پارٹی پاکستان مسلم لیگ (نواز) اور اس کے وزیراعظم نواز شریف سے فوج کا اختلاف ہوگیا۔اختلاف کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ حکومت بعض معاملات میں اپنے آئینی حقوق کا استعمال کرکے فوج کوکچھ ہدایتیں دینے لگی تھی۔ اس پر فوج کچھ اتنی برہم ہوئی کہ اس نے تہیہ کرلیا کہ نواز شریف کو نہ صرف اقتدار سے ہٹانا ہے بلکہ انہیں جیل بھی بھیجنا ہے۔ سو،  اسی کے مطابق منصوبہ بندی کی گئی اور پھر ریاست کے مختلف آئینی اداروں کے اشتراک سے ایسے حالات پیدا کردیے گئے کہ بالآخر نواز شریف کو باحسرت و یاس اپنا عہدہ چھوڑنا ہی پڑا۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ مختلف مقدمات میں ماخوذ کرکے انہیں سزا بھی دلوا دی گئی۔ فوج کے ساتھ اشتراک کرنے والے اداروں میں خود عدلیہ اور احتساب بیورو بھی شامل ہیں۔ ویسے بھی پاکستان میں عدلیہ کی شبیہ کچھ اچھی نہیں رہی ہے۔ اس نے اکثر غاصب فوجی جر نیلوں کےدباؤ میں آکر غیر آئینی فوجی بغاوتوں کو ‘‘نظریہ ضرورت’’ کہہ کر جائز قرار دیاہے۔ اسوقت اتفاق سے سویلین حکومت اور فوج کے درمیان مکمل ہم آہنگی کا ماحول ہے۔ کیوں کہ موجودہ حکومت کو برسراقتدار لانے کے لیے حالات اور فضا کو ‘‘سازگار’’ بنانے میں فوج اور اس کی ایجنسیوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا تھا۔

بہرحال اس طرح کے واقعات پاکستان میں آئے دن ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن اس وقت سپریم کورٹ کے انتہائی صاف ستھری امیج کے ایک سینئر جج اور فوج کے درمیان ٹھنی ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ ہی میں ایک مقدمہ زیر سماعت ہے۔ یہ مقدمہ جس جج سے تعلق رکھتا ہے، ان کے ایک فیصلے سے فوجی اسٹیبلشمنٹ کچھ اتنا برہم ہے کہ انہیں ’’بے ایمان’’ اور ‘‘مالی گھپلوں میں ملوث’’ ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے۔ پہلے اس فیصلے کا ذکر ہوجائے جس سے فوجی ٹولہ چراغ پا ہوا۔ دوہزار سترہ میں ایک انتہاپسند مذہبی گروپ تحریک لبیک نے اس وقت کی حکومت کے خلاف ایک پرتشدد مظاہرہ کیا تھا اور کئی دن تک راجدھانی اسلام آباد کو یرغمال بنائے رکھا۔ اس وقت عام تاثر یہی تھا، جس کے ثبوت بھی سامنے آئے تھے کہ فسادیوں کوپاکستان کی خفیہ ایجنسی کی حمایت حاصل تھی۔ مقدمہ عدالت میں پہنچا تھا۔ اس کا فیصلہ جن جج صاحب نے سنایا تھا وہ تھے جسٹس قاضی فائز عیسی۔ اپنی رولنگ میں جسٹس عیسی نے کہاتھا کہ ‘‘ آئین مسلح افواج کو کسی بھی سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے سے سختی سے منع کرتا ہے۔ اس طرح کی سرگرمیوں میں کسی سیاسی پارٹی یا فرد کی حمایت کرنا بھی شامل ہے’’۔ انہوں نے اپنے فیصلہ میں حکومت سے یہ بھی کہا تھا کہ وہ وزارت دفاع کے توسط سے فوج، بحریہ اور فضائیہ کے سربراہوں کو یہ ہدایت دے کہ وہ ایسے غلط کار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کریں جنہوں نے اپنے حلف سے انحراف کرتے ہوئے غیر آئینی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔

جسٹس عیسی کا یہ فیصلہ فوجی ہیڈکوارٹر میں بھونچال لانے کے لیے کافی تھا۔ انہوں نے یہ فیصلہ فروری 2019 میں سنایا تھا۔ اس کے بعد مئی 2019 میں حکومت پاکستان نے سپریم جوڈیشیل کونسل میں جسٹس عیسی کے خلاف یہ شکایت درج کرائی کہ غیر ممالک میں ان کے رشتہ داروں کے غیر اعلان شدہ اثاثے ہیں اس لیے ان کے خلاف ضروری کارروائی کی جانی چاہیے۔اسی مقدمہ کی کارروائی شروع ہورہی ہے۔ حکومت نے جو شکایت درج کرائی تھی اس کے خلاف جسٹس فائز عیسی نے ایک مقدمہ گزشتہ سال ہی درج کرایا کہ اس کا مقصد انہیں جج کے عہدے سے ہٹانا ہے اور اس کے لیے غیراعلان شدہ اثاثہ کو ایک جواز کے طورپر پیش کیا گیا ہے۔

تین جون کو سپریم کورٹ نے مقدمہ کی سماعت شروع کی۔ دس رکنی اس بینچ کے سربراہ ہیں جسٹس عمر عطا بندیال (Bandial)۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس عیسی کے خلاف کرپشن یا بےایمانی کا الزام نہیں لگایا گیا ہے۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ ان کے رشتہ داروں کی جو املاک غیر ممالک میں ہیں، ان کے خلاف چھان بین کرانے کے پیچھے حکومت کا کیا مقصد ہوسکتا ہے۔ اس پر حکومت کے وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ ججوں کو سماج میں بہت عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے لہذا انہیں انتہائی صاف ستھری امیج کا ہوناچاہیے۔ یاد رہے کہ فروغ نسیم ایک سیاست داں ہیں اور پارٹیاں بدلنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ وہ یکم جون تک وزیر قانون تھے لیکن بطور وکیل حکومت کی نمائندگی کرنے کے لیے انہوں نے استعفی دے دیا۔ بینچ کے ایک دوسرے جج جسٹس مقبول باقر نے کہاکہ جسٹس عیسی کو اس کارروائی کا سامنا اس لیے کرناپڑرہاہے کہ ان کا فیصلہ کچھ لوگوں کو پسند نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ یہی تصورعام ہے۔ ججوں کے مطابق انہوں نے وکیل سرکار سے یہ بھی پوچھا کہ جسٹس عیسی کے خلاف شکایت کی بنیادی وجہ بھی تو بتائی جائے۔ جسٹس عیسی کے خلاف حکومت کی اس کارروائی سے برہم ہوکر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بطور احتجاج استعفی دے دیا تھا۔ سننے میں یہ بھی آیا ہے کہ خود اٹارنی جنرل انور منصور خان بھی مستعفی ہوگئے ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ جسٹس عیسی کے خلاف کارروائی شروع کرنے کے حکومت کے عمل سے ماہرین قانون کا بڑا حصہ اور وکلا ناراض ہیں لیکن فوج کی کارگزاریوں پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بالآخرہوگا وہی جو فوجی ہیڈکوارٹر چاہے گا۔