26.06.2020

امن معاہدوں کی خلاف ورزی اور لداخ میں ایل اے سی پر بڑی تعداد میں فوجوں کی تعیناتی پر ہندوستان نے کی چین کی مذمت

ہندوستان کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ مئی کے اوائل ہی سے چین کی فوجوں نے حقیقی کنٹرول لائن پر بڑی تعداد میں اپنے دستوں کی تعیناتی اور اسلحہ جات اکٹھا کرنا شروع کردیا تھا۔ اس حوالے سے آل انڈیا ریڈیو نے بتایا ہے کہ نامہ نگاروں سے ورچوئل اخباری کانفرنس کے دوران، وزارت کے ترجمان انوراگ سری واستو نے کہا کہ یہ مختلف باہمی معاہدوں خصوصاً ہند ۔چین سرحدی علاقوں میں حقیقی کنٹرول لائن پر امن و ہم آہنگی کے سلسلے میں 1993 کے کلیدی سمجھوتےکے خلاف ہے۔ ریڈیو نے اپنی خبر میں مزید بتایا ہے کہ چین کی اس خلاف ورزی کے نتیجے میں پیدا تعطل کو باہمی معاہدوں اور پروٹوکولس کے مطابق، سرحدی کمانڈروں نے دور کردیا تھا۔ مئی کے وسط میں مغربی سیکٹر کے دیگر علاقوں میں چین نے سرحد کی اصل صورت حال کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جس کے خلاف ہندوستان نے سفارتی اور فوجی ذرائع سے چینی کارروائیوں کے خلاف احتجاج کیا تھا اور واضح کردیا تھا کہ  اس طرح کی تبدیلیاں ناقابل قبول ہیں۔ ریڈیو نے انوراگ سری واستو کے حوالے سے مزید بتایا ہے کہ اس کے بعد 6 جون کو سینئر کمانڈروں کی ایک میٹنگ میں حقیقی کنٹرول لائن پر صورت حال کو بہتر بنانے اور  فوجوں کو پیچھے ہٹانے اور سرحد کی اصل حال کو بدلنے کے لئے کسی سرگرمی کو انجام نہ دینےپر اتفاق ہوا تھا مگر چین گلوان وادی میں ایل اے سی کے سلسلے میں اس اتفاق رائے سے پیچھے ہٹ گیا اور ایل اے سی کے بالکل نزدیک اسٹرکچر کھڑے کرنے کی کوشش کی تھی۔ جب ان کوششوں کو ناکام بنادیا گیا تو چینی دستے 15 جون کو تشدد پر اترآئے جس کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں اور جوان زخمی ہوئے۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے دستے بڑی تعداد میں وہاں تعینات رہے جب کہ فوجی اور سفارتی ذرائع سے اس معاملے کو سلجھانے کی کوششیں جاری رہیں۔ ترجمان نے واضح کیا کہ ہندوستانی فوجی دستے، ان تمام معاہدوں اور مفاہمتوں کے مطابق  گلوان وادی سمیت ایل اے سی پر گشت کرتے رہے ہیں اس کے علاوہ ہندوستان نے جتنے بھی اسٹرکچر تعمیر کئے ہیں وہ اس کی اپنی سرحد کے اندر ہی ہیں، فوج نے کبھی سرحد کے پار جاکر کوئی کارروائی نہیں کی اور نہ ہی سرحد کی اصل صورت حال کو بدلنے کی کوشش کی۔ دوسری جانب، چین نے اس طرح کے جوابی جذبے کا مظاہرہ نہیں کیا جس کے نتیجے میں وقتاً فوقتاً تعطل پیدا ہوتے رہے۔ ترجمان کے مطابق، چین کے ذریعے بڑی تعداد میں فوجی دستوں کی تعیناتی اور برتاؤ میں تبدیلی میں بھی بے بنیاد اور ناقابل جواز دعووں کی وجہ سے شدت پیدا ہوئی ہے جس کی تازہ مثال گلوان وادی میں چین کی پوزیشن میں حالیہ تبدیلی ہے۔ہندوستان کو توقع ہے کہ چین سرحدی علاقوں میں تیزی کے ساتھ امن و ہم آہنگی کی بحالی کے لئے فوری اقدام کرے گا اور اگرموجودہ صورت حال برقرار رہی تو اس سے تعلقات کے فروغ کے لئے ماحول پراثرپڑے گا۔

باہمی مفاہمت سے اختلافات دور کرنے کے لئے چین  کی ہندوستان سے اپیل

روزنامہ ہندو نے خبر دی ہے کہ لداخ میں جاری کشیدگی کے پس منظر میں چین نے ہندوستان کے ساتھ رابطہ قائم کرتے ہوئے جمعرات کے روز کہا ہے کہ اس تعطل کو دور کرنے کے لئے وہ ہندوستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے تیار ہے۔ کچھ آپ آگے بڑھیں، کچھ ہم آگے بڑھیں کی اپیل کرتے ہوئے، چین نے زور دیا کہ شک اور ٹکراؤ کا راستہ غلط ہے جو دونوں ممالک کے عوام کی توقعات کے خلاف ہے۔پی ٹی آئی کو دیئے گئے چین کے سفیر سن وی ڈانگ کےایک انٹرویو کے حوالے سے اخبار آگے لکھتا ہے کہ  ہندوستان اور چین دونوں ہی اپنے اپنے اختلافات دور کرنے کے اہل ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی انھوں نے یہ کہتے ہوئے کشیدگی دور کرنے کی ذمہ داری نئی دہلی پر ڈال دی کہ وہ ایسے دعووں سے گریز کرے جن سے صورت حال کشیدہ ہوتی ہو۔

پاکستانی  ہائی کمیشن کے عہدیدار، دہشت گردوں کی بھرتی میں ملوث

حال ہی میں ہندوستان نے پاکستان سے اپنے نئی دہلی  ہائی کمیشن کے عملے کی تعداد نصف کر نے کے لئےکہا تھا۔ اس حوالے سے ہندوستان ٹائمس نے تحریرکیا ہے کہ اس اقدام کی وجہ، پاکستان ہائی کمیشن کے عہدیداروں کے ذریعے دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لئے طویل عرصے سے جاری کشمیری نوجوانوں کی مبینہ بھرتی ہے۔نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس صورت حال کے واقف کاروں نے بتایا ہے کہ خفیہ اداروں کی رپورٹوں کے مطابق، جنوری 2017 سے پاکستانی ہائی کمیشن نے جموں و کشمیر کے 399 نوجوانوں کو  ویزا جاری کئے تھے جن میں سے 218 نوجوانوں  کے ٹھکانوں کا کچھ پتہ نہیں ہے۔ خیال رہے کہ ہندوستان نے 23 جون کو پاکستان سے کہا تھا کہ وہ اپنے ہائی کمیشن کے عملے کی تعداد میں 50 فی صد کمی کرے کیوں کہ کمیشن کے عہدیداروں کی سرگرمیاں سرحد پار سےتشدد اور دہشت گردی کی حمایت کرنے کی پالیسی کاحصہ ہیں۔ اس کے جواب میں پاکستان نے ہندوستان سے کہا تھا کہ وہ بھی اپنے اسلام آباد ہائی کمیشن میں عملے کی تعداد میں 50 فی صد کی کمی کرے۔اس صورت حال کے واقف کاروں نے بتایا ہے کہ خفیہ اداروں کی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کی تربیت کے لئے کشمیری نوجوانوں کو بھرتی کررہا ہے تاکہ ان کو مسلح کرکے فروری 2019 میں پلوامہ جیسے حملوں کے لئے تیار کیا جاسکے۔

عمران خان نے پارلیمان میں اوسامہ بن لادن کو قرار دیا شہید، حزب اختلاف کی مذمت

‘‘عمران خان نے پارلیمان میں اوسامہ بن لادن کو قرار دیا شہید، حزب اختلاف کی مذمت’’۔ یہ سرخی ہے روزنامہ انڈین ایکسپریس کی۔ خبر کے مطابق، پاکستان کے وزیر اعظم نے پارلیمان کے بجٹ اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے نائن الیون حملوں کے سرغنہ اوسام بن لادن کو شہید قرار دیا اور کہا کہ  امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شریک ہونے پر اسلام آباد کو شرمندگی کا سامنا ہے۔ اخبار ان کی تقریر کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ حکومت کو مطلع کئے بغیر امریکی فوجیں پاکستان میں داخل ہوئی تھیں اور اوسامہ بن لادن کو شہیدکردیا جس کے بعد ہر ایک نے پاکستان کو برا بھلا کہنا شروع کردیا۔ شاید ہی کوئی ایسا ملک ہوگا جو دہشت گردی کےخلاف جنگ کی حمایت بھی کرتا ہو اور اسی کو شرمندگی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہو۔یہی نہیں، افغانستان میں امریکہ کی ناکامی کے لئے بھی پاکستان کو الزام دیا جاتا ہے۔اخبار آگے لکھتا ہے کہ ان کے اس بیان کی حزب اختلاف نے سخت مذمت کی اور کہا کہ اوسامہ بن لادن ایک دہشت گرد تھا اور وزیر اعظم اس شخص کو شہید کہہ کر پکار رہے ہیں جسکی گردن پر ہزاروں لوگوں کا خون ہے۔اخبار کے مطابق، اس سے قبل امریکی وزارت خارجہ کی ایک رپورٹ میں پاکستان کو علاقائی دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ قرار دیا گیا تھا جس پر اسلام آباد حکومت نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔

پاکستان اورشمالی کوریا، جرمنی کی ہائی ٹیک کمپنیوں سے نیوکلیائی مصنوعات اورمعلومات حاصل کرنے کے لئے کوشاں

روزنامہ ہندوستان ٹائمس کی ایک خبر کے مطابق پاکستان اور شمالی کوریا، جرمنی کی ہائی ٹیک کمپنیوں سے نیوکلیائی مصنوعات  اورمعلومات حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہیں تاکہ اپنے ایٹمی اسلحہ جات پروگرام کو  مزید فروغ دے سکیں۔2019 کی  سالانہ رپورٹ،  بیڈن۔وُرٹم  میں پروٹیکشن آف دی کانسٹی ٹیوشن  کے دفتر نے جاری کی ہے۔ اخبار  اس رپورٹ کے حوالے سے لکھتا ہے کہ نیوکلیائی معلومات کے حصول کے لئے، پاکستان، شمالی کوریا، ایران اور شام کی خفیہ کوششوں کے لئے جرمنی ایک اہم مرکز ہے کیوں کہ یہ ایک بڑا صنعتی ملک ہے اور یہاں بہت سی ہائی ٹیک فرمس موجود ہیں۔ اس رپورٹ کو 16 جون کو عام کیا گیا ہے۔

او آئی سی کو جموں کشمیر سمیت، ہندوستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کا کوئی حق نہیں: وزارت خارجہ

اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی نے جموں و کشمیر کے خصوصی درجہ کی منسوخی کے فیصلے کو مسترد کردیا تھا جس کے بعد ہندوستان نے ایک بار پھر کہا ہے کہ او آئی سی کو جموں کشمیر سمیت اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے نیز یہ کہ وہ ہندوستان کے خلاف اس طرح کی غیر ضروری بیان بازی سے گریز کرے۔ روزنامہ انڈین ایکسپریس وزارت خارجہ کے ترجمان کے حوالے سےلکھتا ہے کہ اس سلسلے میں نئی دہلی کا موقف اٹل ہے کیوں کہ یہ ہندوستان کا اندرونی معاملہ اور اس میں کوئی ابہام نہیں ہے۔اس سلسلے میں او آئی سی سے پہلے بھی کہا جاچکا ہے کہ وہ ایسے غیر ضروری بیان دینے سے احتراز کرے۔ اسی اخبار کی ایک اور خبر کے مطابق، ہندوستان نے کہا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی فہرست سے پاکستان کے نام کی تنسیخ   نہ ہونےسے اس کے اس موقف کی تائید ہوتی ہےکہ دہشت گردی کے لئے رقوم اور دہشت گردوں کو اپنی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہوں کی فراہمی کے سلسلے میں بین الاقوامی برادری کو جو تشویش ہے اس کو دور کرنے کے لئے اسلام آبادنے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا ہے۔ حکومت ہند نے افغانستان میں ایک ہندوستانی شہری کے اغوا کے خلاف بھی پاکستان پر تنقید کی کیوں کہ اس نے اس اغوا کے لئے بیرونی عناصر کو مورد الزام ٹھہرایا تھا۔

جموں و کشمیر میں لشکر طیبہ کے دو ملٹنٹ ہلاک

جموں و کشمیر کے سوپور علاقے میں جمعرات کے روز،سلامتی دستوں کی کاروائی میں لشکر طیبہ کے دو ملٹنٹ  ہلاک کردیئے گئے۔ روزنامہ انڈین ایکسپریس کی خبر میں مطلع کیا گیا ہے کہ علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات ملنے کے بعد تلاشی کی کارروائی  شروع کی گئی تھی جو ملٹنٹوں کی فائرنگ کے بعد جھڑپ میں تبدیل ہوگئی۔ اخبار جموں و کشمیر پولیس کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ اس نے بڈگام ضلع میں ملٹنٹوں کے پانچ ساتھیوں کو گرفتار کرکے لشکر طیبہ کے ایک گروہ کا خاتمہ کردیا ہے۔ ان کے قبضے سے ایک اے کے 47 رائفل کی میگزین، 28 اے کے 47 رائفلوں کے راؤنڈس اور لشکر طیبہ کے 20 پوسٹر بھی برآمد کئے گئے ہیں۔