29.06.2020

 ‘‘آتم نربھر بھارت، لداخ میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کو بہترین خراج عقیدت: وزیر اعظم کی من کی بات

آج ملک کے تمام اخبارات اوت سرکاری ذرائع ابلاغ نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ماہانہ پروگرام من کی بات کو پنی اشاعتوں اور نشریات میں نمایاں جگہ دی ہے۔ اس حوالے سے  آل انڈیا ریڈیو نے بتایا ہے کہ  آتم نربھر بھارت، ہمارے شہداء کو بہترین خراج عقیدت ہوگا۔ ہر ہندوستانی کو چاہئےکہ  وہ  ملک کو مضبوط تر، زیادہ با صلاحیت اور خود کفیل بنانے کا عزم کرے۔ اپنے پروگرام میں، وزیر اعظم نے دفاعی شعبے کی تیاری کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ  دفاعی اور تیکنالوجی شعبے میں ملک خود کفیل بننے کے لئے بہت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔روزنامہ راشٹریہ سہارا کے مطابق، وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان کی تاریخ آفات اور چیلنجوں پر فتح حاصل کرنے اور اپنی صلاحیتوں میں زیادہ نکھار پیدا کرنے سے  عبارت رہی ہے۔ روزنامہ انڈین ایکسپریس نے اس حوالے سے تحریر کیا ہے کہ اسی جذبے اور صلاحیت کے تحت، ہندوستان نے حال ہی میں اپنی علاقائی سالمیت کے تحفظ کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ، کووڈ۔19 کے دوران، دنیا نے ہندوستان کی عالمی اخوت کے جذبے کا بھی مشاہدہ کیا ہے اور اسی کے ساتھ جب اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کی بات آئی تو اس نے اس کے پختہ عزم کا بھی مشاہدہ کیا۔ جن لوگوں نے لداخ میں اس کی زمین پر نگاہ بد ڈالی ان کو بھی منہ توڑ جواب دیا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک طرف اگر ہندوستان جذبۂ رفاقت کی پاسداری کرتا ہے تو دوسری طرف بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنے خلاف کسی کارروائی کا جواب دینے کی بھی اہلیت رکھتا ہے۔ لداخ میں اپنی جانوں کا بیش بہا نذرانہ پر ہندوستانی فوجیوں کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہمارے بہادر فوجیوں نے  ثابت کردیا کہ وہ کسی کو اپنی مادر وطن کی عزت و احترام کی طرف نگاہ بد ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اسی اخبار نے وزیر داخلہ امت شاہ کو دیئے گئے ایک انٹرویو کے حوالے سے مزید لکھا ہے کہ  ہندوستان اس وقت دو محاذوں پر جنگ لڑ رہا ہے۔ پہلی کووڈ کے خلاف اور دوسری کا تعلق چینی افواج کے ذریعے دراندازی کی کوششوں سے ہے۔ انھوں نے یقین دہانی کرائی کہ مودی جی کی قیادت میں یہ دونوں جنگیں ہم جیتیں گے۔ خیال رہے کہ مشرقی لداخ کا علاقہ جہاں ہندوستان اور چین کے درمیان مئی کے اوائل سے کشیدگی ہے، اقصائے چن کے مغرب میں ہے۔

مسعود اظہر اور اکا مجید کو پاکستان میں آئی ایس آئی کازبردست تحفظ حاصل

دہشت گردی کے تعلق سے امریکہ نے اپنی کنٹری سالانہ رپورٹ میں اسلام آباد پر الزام لگایا ہے کہ حکومت پاکستان نے 2019 میں پلوامہ حملے کے سازشی اور جیش محمد کےسرغنہ مسعود اظہر نیز لشکر طیبہ سے تعلق رکھنے والے 11؍26 کے ممبئی حملوں کے کرتا دھرتا ساجد میر اکّا ماجد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے حالانکہ زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ یہ دونوں سازشی وہاں موجود ہیں۔ اپنی خبر میں ہندوستان ٹائمس لکھتا ہے کہ عمران خان حکومت، وہاں میر اور اظہر کی موجودگی سے انکار کرتی رہی ہے مگر یہ  دونوں دہشت گرد آئی ایس آئی کی زبردست حفاظت میں اس سر زمین پر آزاد ہیں۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ لشکر طیبہ کے سربراہ کے تحفظ کا ذمہ دار میر نہ صرف بیرون ملک دہشت گردوں کی بھرتی اور پاکستان کے تربیتی کیمپوں میں ان کو تربیت دینے میں ملوث ہے بلکہ آئی ایس آئی کے انڈین مجاہدین آپریشن کا بھی حصہ رہا ہے جس کو کراچی پروجیکٹ بھی کہا جاتا ہے۔اخبار نے ہندوستانی خفیہ اداروں کے حوالے سے آگے مطلع کیا ہے کہ میر کو لیول سات کا تحفظ حاصل ہے جو آئی ایس آئی عام طور پر سربراہ مملکت کو فراہم کرتی ہے۔ دوسری جانب مسعود اظہر ہندوستان کے خلاف کارروائی کی منصوبہ بندی کرتا ہے تو اس کا بھائی رؤف اصغر اور اس کی ٹیم ان حملوں کو انجام تک پہونچاتے ہیں۔ اخبار کے مطابق، میر اور مسعود کو بالترتیب 2012 اور 2019 میں بین الاقوامی دہشت گرد قرار دیا گیا تھا۔

گلگت۔ بلتستان میں انتخابات 18 اگست کو

‘‘ گلگت۔ بلتستان میں انتخابات 18 اگست کو۔’’ یہ سرخی ہے روزنامہ انڈین ایکسپریس کی۔خبر کے مطابق، ملک کی عدالت عظمیٰ کے ذریعے انتخابات کی اجازت کے بعد، حکومت نے اعلان کیا ہے کہ گلگت۔بلتستان میں عام انتخابات 18 اگست کو منعقد ہوں گے۔ اخبار لکھتا ہے کہ جبری اور غیر قانونی طور پر قابض ان علاقوں صورت حال میں کسی تبدیلی کی کوششوں کے خلاف حکومت ہند کے زبردست احتجاج کے باوجود، پاکستان نے ان انتخابات کا اعلان کیا ہے۔ خیال رہے کہ 30 اپریل کو پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے اس علاقے میں عام انتخابات کے انعقاد کے لئے 2018 کے ایڈمنسٹریٹو آرڈر میں ترمیم کی اجازت دی تھی جس کے بعد صدر  عارف علوی نے اب گلگت۔ بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کا اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ  نئی دہلی حکومت نے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ گلگت۔بلتستان سمیت مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر اور لداخ کے تمام علاقے ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہیں۔

بحر ہند میں ہندوستانی اور جاپانی بحریاؤں کی مشقیں

 روزنامہ ہندوستان ٹائمس نے ہندوستان اور جاپان کے حوالے سے خبر دی ہے کہ  دونوں ممالک کی بحریاؤں نے سنیچر کے روز بحر ہند میں مشقیں انجام دی ہیں۔ جاپان کی میری ٹائم ڈیفنس فورس نے ان مشقوں کا مقصددونوں ممالک کے درمیان باہمی مفاہمت  قرار دیا ہے جن میں ہر ملک کے دو دو جہازوں نے حصہ لیا۔اخبار آگے لکھتا ہے کہ ہندوستان اور جاپان کے درمیان بحری مشقیں معمول کے مطابق کی جاتی ہیں لیکن موجودہ مشقیں اس وقت کی گئی ہیں جب ہندوستان اور چین کے درمیان لداخ میں فوجی تعطل موجود ہے۔ ڈی جی نیشنل میری ٹائم فاؤنڈیشن،  وائس ایڈمرل پردیپ چودھری نے کہا ہے کہ یہ مشقیں اسٹریٹجک کمیونی کیشن کے مقصد سے کی گئی ہیں اور دونوں ملکوں کی بحریائیں یہاں سگنلنگ  کےمقصد سے موجود ہیں نہ کہ جنگی مقاصد سے کیوں کہ ہمیں اپنے دوستوں سے قربت بڑھانے کی ضرورت ہے۔اخبار دہلی میں جاپانی سفارت خانے کے حوالے سے آگے رقم طراز ہے کہ پچھلے تین برس میں یہ 15 ویں مشق ہے اورجاپانی بحریہ، ہندوستانی بحریہ کی ایک اہم شراکت دار بن چکی ہے۔ ہندوستانی جہازوں نے اپنے جاپانی ہم منصبوں کے ساتھ باہمی مشقیں کی ہیں جو امریکہ سمیت مالابار مشقوں کا حصہ ہیں۔

افغانستان میں امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنے کے لئے روس کے ذریعے انعام کی پیش کش کا معاملہ، ٹرمپ نے خبروں کو کیا مسترد

روزنامہ ہندوستان ٹائمس نے نیویارک ٹائمس کے حوالے سے خبر دی ہے کہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنے کے لئے طالبان سے تعلق رکھنے والے ملٹنٹوں کو روس نے انعام دینے کی جو کوششیں کی تھیں ان سے صدر ٹرمپ کو آگاہ کیا گیا تھا مگر اتوار کے روز امریکی صدر نے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے۔ خیال رہے کہ وہائٹ ہاؤس اور ڈائریکٹر، نیشنل ڈیفنس اس بات سے پہلے ہی انکار کرچکے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے ٹوئیٹ میں لکھا ہے کہ اس سے ہر ایک انکار کررہا ہے اور امریکی افواج پر زیادہ حملے نہیں کئے گئے ہیں۔ خیال رہے کہ نیو یارک ٹائمس نے امریکی خفیہ اداروں کے حوالے سے جمعے کے روز خبر دی تھی کہ یوروپ میں قتل کی کوششوں سے تعلق رکھنے والی روس کی فوجی انٹلی جنس یونٹ نے گذشتہ سال امریکی اور اتحادی افواج پر کامیاب حملے کرنے کے لئے انعام کی پیش کش کی تھی اور خیال کیا جاتا ہے کہ اسلامی ملٹنٹ یا ان سے متعلق افراد نے انعام کی کچھ رقوم وصول بھی کی تھی۔ روس کی وزارت خارجہ نے ان خبروں کو مسترد کردیا ہے۔ دوسری جانب طالبان نے بھی یہ کہتے ہوئے اس خبر کو مسترد کردیا ہے کہ وہ فروری میں امریکہ کے ساتھ طے شدہ معاہدے پر قائم ہیں جس کے تحت اگلے سال تک افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا عمل میں آئے گا اور جس سے امریکہ کی طویل ترین جنگ کا خاتمہ ہوجائے گا۔