موضوع: چین کی جارحانہ حرکتوں کی بین الاقوامی سطح پر تنقید

ایسے وقت میں جب کووڈ۔19 سے متعلق اطلاعات چھپانے کے باعث چین کی شبیہ کو زبردست دھچکا لگا ہے، اس کے جارحانہ برتاؤ کو بھی دس ملکوں کے آسیان گروپ کی جانب سے بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ گزشتہ ہفتہ منیلا میں اپنی ورچوول میٹنگ کے دوران گروپ نے اپنے اس موقف کو دوہرایا کہ سمندری علاقوں پر خود مختارانہ حقوق اور جائز مفادات طے کرنے کیلئے لا آف دی سی “Law of the Sea” کے بارے میں اقوام متحدہ کا 1982 کا کنونشن ہی بنیاد ہے۔آسیان گروپ کے اس بیان سے صاف ظاہر ہے کہ چین کتنا ضدّی ہے جسے بین الاقوامی قانون کی  کوئی پروا نہیں۔

یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ ایسے وقت میں جب ساری دنیا کووڈ-19 جیسی وبا سے مقابلہ کرنے میں مصروف ہے، چین اپنی جارحانہ حرکتوں سے باز نہیں آرہا۔ وہ چاہے ہانگ کانگ ہو یا آبنائے تائیوان یا پھر ہند۔چین سرحد پر اصل کنٹرول لائن ہر جگہ پر چین کی نازیبا حرکتیں نظر آئیں گی۔ اس سال اپریل میں جنوبی بحرۂ چین میں متنازعہ پاریسل (Parecel)  جزیرے کے نزدیک چین کے ایک جہاز نے ویتنام کی ایک کشتی کو ڈبو دیا جس پر 8 افراد سوار تھے۔ ویتنام کے ماہی گیروں کی دو کشتیوں نے جب اس ڈوبتی کشتی پر سوار لوگوں کو بچانے کی کوشش کی تو انہیں حراست میں لے لیا گیا۔ در اصل آسیان نے  پچھلے ہفتہ جو بیان جاری کیا اس کے پیچھے چین کی ہی نازیبا حرکت کارفرما تھی۔ چین کی اس حرکت کی بین الاقوامی سطح پر مذمت کی گئی۔ جنوب مشرق ایشیاء کے کچھ ملکوں کے سفارتکاروں نے کہا ہے کہ اس بیان میں متنازعہ علاقہ پر قانون کی حکمرانی پر زور دے کر گروپ نے اپنے موقف کو ایک بار پھر واضح کردیا ہے۔ اس سے پہلے آسیان متنازعہ سمندری علاقہ میں چین کی جارحانہ حرکت پر صرف تنقید کرکے خاموش ہوجاتا تھا اور سربراہ کانفرنس کے بعد جو بھی بیان جاری کیا جاتا تھا اس میں اس کی سرزنش نہیں کی جاتی تھی لیکن اس بار گروپ کو اپنی بات واضح کرنی پڑی۔ اتفاق سے ویتنام آسیان کا موجودہ چیئرمین ہے۔ بھارت اور ویتنام کے درمیان رشتے ہمیشہ مضبوط رہے ہیں۔ دونوں ملک ثقافتی، تاریخی اور سیاسی طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ جنوبی بحرۂ چین کے تنازعہ پر بھارت کے موقف سے ہند۔ویتنام تعلقات میں ایک نیا رخ آگیا ہے۔ نہ صرف ویتنام کے ساتھ بلکہ علاقے کے دوسرے ملکوں کے ساتھ بھارت کے رشتے مضبوط ہوئے ہیں۔ چین کی نازیبا حرکتوں کے باعث ہی علاقہ میں امن واستحکام کیلئے ویتنام سمیت علاقے کے دوسرے ملکوں کو بھارت کے قریب آنا پڑا۔ 

بھارت نے آسیان جیسے کثیر جہتی فورموں اور امریکہ، جاپان، انڈونیشیا اور ویتنام جیسے ملکوں کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات میں بھی کشتی رانی کی آزادی کی حمایت کی ہے۔ جنوبی بحرۂ چین میں بھارت کی بحری مشقیں اور سمندر کی نگرانی بھی اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہیں کہ ویتنام کو نئی دہلی کی اسٹریٹجک حمایت حاصل ہے۔ بھارت کا ویتنام کے ساتھ دفاعی خاص طور پر بحریہ کے شعبہ میں تعاون ہے۔ اس کے علاوہ وزیراعظم نریندرمودی نے اپنے دورے کے دوران ویتنام کو قرض بھی دینے کا وعدہ کیا تھا تاکہ وہ بھارت سے نگرانی کرنے والی کشتیاں خرید سکے۔ یہ تمام باتیں ثابت کرتی ہیں کہ بھارت کو ویتنام کی علاقائی سلامتی اور خودمختاری کی کتنی فکرہے۔

دنیا اس وقت نہ صرف زمین پر اور سمندر میں چین کی جارحانہ حرکتوں کا مقابلہ کررہی ہے بلکہ کووڈ-19 سے بھی برسرپیکار ہے۔ بہت سے ملکوں کا خیال ہے کہ اگر چین نے وقت پر اس وبا کے بارےمیں اطلاعات ساجھا کی ہوتی تووبا کی روک تھام کیلئے مناسب اقدامات کئے جاسکتےتھے جس سے جانوں کا ضیاع کافی کم ہوسکتا تھا۔

 ورلڈ ہیلتھ اسمبلی نے 20 مئی کو ایک قرارداد منظور کی جس کی 122 ملکوں نے تائید کی۔ اس قرارداد میں تمام ملکوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس بات کا پتہ لگائیں کہ کورونا وائرس جانوروں سے انسانوں میں کیسے منتقل ہوتاہے ۔ بھارت اس سال عالمی صحت تنظٰیم کے ایگزیکیوٹیوبورڈ کا چیئرمین ہے۔ اس حیثیت سے  وہ کووڈ۔19 کے بارے میں منظور کی گئی قراداد پر کوئی فیصلہ لینے کا پابند ہے۔ نئی دہلی کا خیال ہے کہ یہ قرارداد وبا کا مقابلہ کرنے کیلئے حقائق اور سائنس کا استعمال کرنے کا موقع فراہم کرے گی۔ اس سے ہمیں مستقبل کیلئے مناسب اقدامات کرنے کا بھی موقع ملے گا۔