30.06.2020

ہندوستان نے ٹک ٹاک سمیت 59 چینی ایپلی کیشنس پر لگائی پابندی

 آج ملک کے تمام اخبارات نے حکومت ہند کے ذریعے چین کے ایپس پر پابندی کی خبروں کو نمایاں انداز میں اپنی اشاعتوں میں جگہ دی ہے۔ اس حوالے سے روزنامہ ہندو لکھتا ہے کہ حکومت ہند نے  قومی سلامتی اور سالمیت کو درپیش خطرات کے پیش نظر،  چین کے 59 مقبول عام ایپلی کیشنس پر پیر کے روز پابندی لگادی جن میں ٹک ٹاک، شیراِٹ، ایم آئی ویڈیو کال، کلب فیکٹری، اور کیم اسکینر شامل ہیں۔ یہ پابندی دونوں ممالک کے درمیان جاری سرحدی کشیدگی کے پس منظر میں عائد کی گئی ہے اور اس میں ای کامرس سے لے کر گیمنگ، سوشل میڈیا، انسٹینٹ میسیجنگ (Instant messaging)، براؤزرس، اور فائل شیرنگ جیسی مختلف ایپلی کیشنس کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اخبار الیکٹرانکس اور اطلاعاتی تیکنالوجی کی وزارت  کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ حالیہ قابل بھروسہ اطلاعات کے بعد کہ ان ایپس سے ملک کی سالمیت اور خود مختاری کو خطرہ ہے، حکومت ہند نے موبائل اور غیر موبائل انٹرنیٹ ڈیوائس پر ان کے استعمال پر پابندی کردی ہے۔ اخبار ذرائع کے حوالے سے آگے رقم طراز ہے کہ وزارت نے گوگل اور ایپل کوبھی ہدایات جاری کردی ہیں کہ وہ ان ممنوعہ ایپس کو متعلقہ ایپلی کیشنس سے ہٹا دے۔ مزید برآں، ٹیلیکام آپریٹرس اور انٹر نیٹ سروس پرووائڈرس سےبھی کہا جائے گا کہ وہ اپنے نیٹ ورکس پر ان ایپس تک رسائی اور ان کے استعمال پر روک لگادیں۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر ممنوعہ بلوچستان لبریشن آرمی کا حملہ، 7 ؍افراد ہلاک

اخبارات کی دوسری اہم خبروں میں پاکستان اسٹاک ایکس چینج پر ممنوعہ بلوچ دہشت گرد گروپ ، بلوچستان لبریشن آرمی  کے ملٹنٹوں کے حملے کی خبر بھی شامل ہے۔ روزنامہ انڈین ایکسپریس نے  اپنی خبر میں مطلع کیا ہے کہ   پیر کے روز کئے گئے اس حملے میں سات افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں چار سکیورٹی گارڈس،ایک  پولیس افسر  اور دو شہری شامل ہیں ۔ بعد میں ان سلامتی دستوں نے ان دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔بی ایل اے نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ خبر کے مطابق،  خود کار ہتھیاروں، گرینیڈس اور دھماکہ خیز مادوں سے لیس کار سوار دہشت گردوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کی تھی اور اسٹاک ایکسچینج کی عمارت میں گھسنے کی کوشش کی مگر سلامتی دستوں نے ان کی اس کوشش کو ناکام بنادیا۔ اس حملے کے چند گھنٹے بعد، حکومت پاکستان نے اشاروں اشاروں میں ہندوستان پر اس کاالزام عائد کیا۔پاکستان کی سماع ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کچھ عناصر، پاکستان میں امن و امان کو درہم برہم کرنا چاہتے ہیں اور اگر بی ایل نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے تو یہ دیکھنا ہوگا کہ ان کے کس کس سے رابطے ہیں۔ان کے اس حوالے کو ہندوستان کی طرف اشارے کے بطور دیکھا جارہا ہے۔اخبار کے مطابق، ہندوستان کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس کو لغو قرار دیا اور کہا کہ پاکستان اپنے اندرونی مسائل کے لئے ہندوستان کو الزام نہیں دے سکتا۔نیز یہ کہ پاکستان کے برعکس، ہندوستان کو دنیا میں کہیں بھی دہشت گردی کی مذمت کرنے میں ہچکچاہٹ نہیں ہے۔ نیز یہ کہ وزیر خارجہ عالمی دہشت گردی  پر وزیر اعظم سمیت اپنی حکومت کا موقف واضح کریں جنھوں نے اوسامہ بن لادن کو شہید قرار دیا تھا۔ اخبار نے یاددہانی کرائی ہے کہ بلوچستان لبریشن آرمی پر امریکہ اور برطانیہ میں پابندی عائد ہے۔ گذشتہ سال گوادر، بلوچستان میں پرل کانٹی ننٹل ہوٹل پر حملے میں بھی اس  علیحدگی پسند گروپ کا ہاتھ تھا جس میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ سندھ کے ڈائریکٹر جنرل، رینجرس، میجر جنرل عمر احمد بخاری نے ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ دہشت گرد اسٹاک ایکسچینج کی عمارت میں داخل ہوکر لوگوں کو یرغمال بنانا چاہتے تھے۔اخبار بی ایل اے کے ترجمان کے حوالے سے آگے رقم طراز ہے کہ ان کے حملے کا مقصد پاکستان کی معیشت کو نشانہ بنانا تھا جو بلوچستان کے عوام کے استحصال پر کھڑی کی گئی ہے۔ اس کا ایک اور مقصد چین کو ایک پیغام بھی دینا تھا جس کا شنگھائی اسٹاک ایکسچینج کے توسط سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 40 فی صد حصہ ہے۔ خیال رہے کہ بی ایل اے، صوبے میں چین کے انفرا اسٹرکچر سرمایہ کاری کی مخالف ہے۔

کشمیر میں کنٹرول لائن پر پاکستان کے ذریعے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں اضافہ، اننت ناگ میں تین ملٹنٹوں کی ہلاکت کے بعد، وادئ چناب سے ملٹنسی کا خاتمہ

روزنامہ انڈین ایکسپریس لکھتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ کنٹرول لائن پر اس سال کشیدگی میں کوئی کمی نہیں آئی ہےلیکن اس کے باوجود وادی کشمیر میں ملٹنسی مخالف کارروائیوں میں پچھلے سال کے مقابلے اس سال اضافہ ہوا ہے۔ اخبارآگے لکھتا ہے کہ کنٹرول لائن پر پاکستان کے ذریعے  مئی میں جنگ بندی کی 382 اور جون میں 302 خلاف ورزیاں ہوئی ہیں جبکہ پچھلے سال  انہی مہینوں میں یہ تعداد بالترتیب 221 اور 181 تھی۔ اسی دوران سلامتی دستوں کے ذریعے انسداد دہشت گردی کارروائیوں میں جون میں ہی 41 ملٹنٹوں ہلاک کیا ہے۔اخبار موصولہ سرکاری ذرائع ابلاغ کے حوالے سے لکھتا ہے کہ اس سال 25 جون تک 2215 خلاف ورزیاں ہوئی ہیں جبکہ 2019 میں یہ تعداد 3168 اور  2018 میں 1629 رہی ہے۔ تعداد میں یہ اضافہ حکومت کے ذریعے آرٹیکل 370 کی تنسیخ کے بعد ہوا ہے۔ پاکستانی فوج لگاتار سرحد پار سے ملٹنٹوں کو بھیج رہی ہے کیوں کہ کشمیر میں امن ا مان درہم برہم کرنے کے لئے وہ موسم گرما میں اپنی سرگرمیوں کو بڑھانا چاہتی ہے۔لیکن ہندوستان ان کا مناسب جواب دے رہا ہے ۔اسی اخبار کی ایک اور خبر کے مطابق، جموں و کشمیر کے ڈوڈا ضلع میں پیر کے روز ایک جھڑپ میں تین ملٹنٹوں کو ہلاک کردیا گیا۔ ان میں حزب المجاہدین کا ایک کمانڈر بھی شامل ہے۔ روزنامہ ہندو  نے اپنی خبر میں پولیس کے حوالے سے مطلع کیا ہے کہ ان ملٹنٹوں کی ہلاکت بعد وادی چناب سے اب ملٹنٹسی کا خاتمہ ہوگیا ہے۔

افغانستان کے صوبہ ہلمند میں دھماکے، 23 افراد ہلاک

‘‘افغانستان کے صوبہ ہلمند میں دھماکے، 23 افراد ہلاک’’ یہ سرخی ہے روزنامہ ہندوستان ٹائمس کی۔ اخبار سرکاری اور طالبانی ذرائع کے حوالے سے لکھتا ہے کہ سینگین (Sangin) ضلع میں مویشیوں کے بازار پر کئے گئے ان دھماکوں میں بہت سے لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔ متحارب طرفین اس حملے کے لئے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرارہے ہیں۔ ہلمند گورنر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ طالبان کے ذریعے چھوڑے گئے کئی راکٹ مویشی بازار کے قریب گرے تھے جن سے یہ جان نقصان ہوا ہے دوسری جانب طالبان ترجمان کا کہنا ہے کہ افغان فوج نے مورٹر بموں کے کئی راؤنڈ داغے تھے جو مکانات اور مویشی بازار پر گرے تھے۔ جن کے نتیجے میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

ٹرمپ کی گرفتاری کے لئے ایران نے انٹرپول سے مانگی مدد

روزنامہ ہندوستان ٹائمس نے ایران کے مقامی پراسیکیوٹر کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ تہران حکومت نے امریکی صدر ڈونل ٹرمپ کی گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا ہے اور انٹر پول سے صدر اور30 دیگر افراد کی گرفتاری میں مددکی درخواست کی ہے۔ اس کا خیال ہے کہ یہ لوگ بغداد میں ڈرون حملے میں ایران کے ایک اعلیٰ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت میں ملوث ہیں۔اخبار لکھتا ہے کہ ڈونل ٹرمپ کوگرفتاری کا کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن ان الزامات کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوسکتا ہے جس کی شروعات ایران کے ساتھ عالمی  طاقتوں کے نیوکلیائی معاہدے سےامریکہ کی علیحدگی سے ہوئی تھی۔ دوسری جانب، انٹر پول کی جناب سے ایران کی اس درخواست کا ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے۔

بنگلہ دیش میں کشتی کا حادثہ، 32 افراد ہلاک

اسی اخبار کی ایک اورخبر کے مطابق، بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں کشتی ڈوبنے سے 32 افراد ہلاک ہوگئے ہیں اور ایک درجن لاپتہ ہیں۔ یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب یہ کشتی مارننگ برڈ نامی ویسل سے ٹکراگئی۔ حادثے کے وقت کشتی پر  کم از کم 50 افراد سوار تھے۔کوسٹ گارڈس کے مطابق لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے۔خبر میں مزید بتایا گیا ہے کہ یہ کشتی منشی گنج ضلع سے روانہ ہوئی تھی اور جب وہ صدر گھاٹ کے لئے روانہ ہونے والی تھی تو حادثے کا شکار ہوگئی۔اخبار آگے لکھتا ہے کہ  بہت سی ندیوں والے ملک بنگلہ دیش میں کشتیوں کے حادثے بہت عام ہیں۔

چینی حکومت کے ظالمانہ اقدامات: ایغور افراد کو برتھ کنٹرول کے، لئے کیا جارہا ہے مجبور

چین میں مسلم آبادی پر کنٹرول کی مہم کے تحت، ایغور مسلم اور دیگر اقلیتوں میں شرح پیدائش کو کم کرنے کے لئے حکومت،  ظالمانہ اقدامات کررہی ہے۔ اس حوالے سے روزنامہ ہندوستان ٹائمس نے خبر دی ہے کہ اس کے برخلاف بچوں کی تعداد بڑھانے کے لئے وہ ملک کی اکثریتی آبادی  ہین (Han)کی حوصلہ افزائی کررہی ہے۔ کچھ ماہرین مغربی خطے شینجیانگ میں پچھلے چار سال سے جاری اس مہم کو آبادیاتی نسل کشی قرار دے رہے ہیں۔ اخبار آگے رقم طراز ہے کہ خواتین کے انٹرویو اور اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتظامی ادارے پابندی کے ساتھ خواتین میں حمل کی جانچ کرتے رہتے ہیں اور ان کو  درون رحمی ڈیوائس یعنی آئی یو ڈی  کے استعمال، نسبندی اور یہاں تک کہ اسقاط حمل کے لئےبھی مجبور کرتے ہیں۔قابل غور ہے کہ پورے ملک میں آئی یو ڈیز  کے استعمال میں کمی آرہی ہے لیکن شنجیانگ میں اس کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ بچوں کی بڑھی ہوئی تعداد کی وجہ سے بھی لوگوں کو حراستی کیمپوں میں بھیجا جاتا ہے یا پھر تین یا تین سے زیادہ بچوں کے والدین کو جرمانہ کے بطور خطیر رقم جمع کرنا پڑتی ہے۔اگر لوگ اپنے بچوں کو چھپاتے ہیں تو پولیس ان کے گھروں پر بچوں کی تلاش میں چھاپے بھی مارتی ہے۔