29.07.2020

۔ ایل اے سی کے بیشتر مقامات سے فوجوں کی واپسی مکمل: چین کا دعویٰ

۔ چین نے کہا ہے کہ اس نے حقیقی کنٹرول لائن پر بیشتر مقامات سے اپنی فوجوں کو واپس بلالیا ہے لیکن دفاع کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ان میں سےایک مقامات سے جزوی طور پر فوجوں کی واپسی ہوئی ہے جن کابیجنگ نے حوالہ دیا ہے۔ اپنی خبر میں روزنامہ ہندو لکھتا ہے کہ  اس کے علاوہ چین نے پہلی بار تسلیم کیا ہے کہ پینگانگ جھیل سے متعلق امور کو ابھی سلجھایا جانا باقی ہے  جو اس ہفتے کے آخر میں کور کمانڈروں کی میٹنگ میں زیر غور آئیں گے۔ دفاع کے ذرائع کے مطابق، گلوان وادی میں پٹرولنگ پوائنٹ 14 پرتعطل کے مقام اور گلوان ہاٹ اسپرنگس علاقوں میں پی پی 15 سے فوجیں واپس ہوئی ہیں تاہم پی پی  اے 17سے  جزوی واپسی ہوئی ہے جب کہ پینگانگ جھیل پر ابھی واپسی نا مکمل ہے۔ اخبار آگے رقم طراز ہے کہ منگل کے روز چین کے ذرائع ابلاغ نے وزارت خارجہ سے تصدیق کرنے کو کہا تھا کہ آیا گلوان وادی، ہاٹ اسپرنگس اور  کونگ کا  درے سے چینی اور ہندوستانی افواج کی واپسی ہوئی ہے نیز یہ کہ جس مقام سے فوجوں کی واپسی نہیں ہوئی ہے کیا وہ پینگانگ جھیل ہے۔ اخبار نے خیال ظاہر کیا ہے کہ ایسا پہلی بار ہوا ہے جب چین کے ذرائع ابلاغ نے حقیقی کنٹرول لائن پر گوگرا ہاٹ اسپرنگس اور پینگانگ جھیل کے علاقوں سے متعلق امور کا خصوصی حوالہ دیا ہے۔ اس سے قبل ذرائع ابلاغ صرف گلوان وادی میں تنازعات کی بات کرتے رہے تھے۔

۔ چین کی کسی بھی غیر معمولی سرگرمی کے خلاف ہندوستانی بحریہ نے اپنی نگرانی میں کیا اضافہ

۔ روزنامہ ہندوستان ٹائمس کی ایک خبر کے مطابق، ہندوستانی بحریہ نے بحر ہند خطے یعنی آئی او آر میں اپنی نگرانی اور دیگر سرگرمیوں میں اضافہ کردیا ہے جس کے بارے میں اس کا خیال ہے کہ عالمی طاقت بننے کے کے لئے چین کا داخلہ وہاں اسی طرح  ناگزیر ہے جس طرح وہ جنوبی بحر چین کے بیشتر حصے پر اپنا دعویٰ جتاتا ہے۔  اس صورتحال سے واقفیت رکھنے والے ذرائع کا کہنا ہے کہ ان سرگرمیوں کا مقصد آئی او آر میں پڑوسی مالدیپ، ماریشس، سیشلس اور مڈغاسکر  اور امریکہ اور جاپان جیسی ہم خیال بحریاؤں سے رابطہ قائم کرنا ہے تاکہ چین کے توسیع پسندانہ عزائم کو روکا جاسکے۔ یہ رائے زنی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب   کہ مشرقی لداخ میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی موجود ہے۔ اخبار ایک افسر کے حوالے سے آگےلکھتا ہے کہ ہندوستان، جنوبی بحر چین میں بیجنگ کی معاندانہ سرگرمیوں پر بھی نگاہ رکھے ہوئے ہے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کررہا ہے کہ چینی بحریہ بحر ہند میں غلبہ حاصل نہ کرسکے جہاںہندوستانی  بحریہ کے جنگی جہاز کسی غیر معمولی سرگرمی پر دن و رات نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔

۔ نیپال:اقتدار کی جنگ میں وزیر اعظم اولی کو زبردست جھٹکا

۔ نیپال کے وزیر اعظم کے پی شرما اولی کو اس وقت ایک زبردست جھٹکا لگا جب برسر اقتدار  پارٹی کی مجلس قائمہ نے ایک اور پینل میٹنگ ملتوی کئے جانے کے لئے اولی کے آخری وقت کے فیصلے پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔اس حوالے سے روزنامہ انڈین ایکسپریس نے خبر دی ہے کہ اس سے پہلے کی غیر رسمی میٹنگ میں پینل نے اولی کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کے استعفے کے سلسلے میں ان کو ایک چھ نکاتی لائحۂ عمل پیش کیا جائے گا جس کو ایک سینیر رکن نے تیار کیا تھا اور جس میں ان کے اختیارات کم کرتے ہوئے، حکومت کے کام کاج میں برسراقتدار نیپال کمیونسٹ پارٹی اور حریف پشپ کمل ڈھل پرچنڈ کو زیادہ اختیارات تفویض کئے ہیں۔اخبار نے توجہ دلائی ہے کہ کٹھمنڈو میں اقتدار کی جنگ چھڑنے کے بعد سے اب تک ساتویں بار، این سی پی کے اہم فیصلہ ساز ادارے یعنی مجلس قائمہ کو اجلاس بلانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ واضح ہو کہ کے پی شرما اولی، میٹنگ ملتوی کرنے اور اس کو باضابطہ قرارداد منظور کرنے کی اجازت نہ دینے کے لئے ہر ممکن کوشش کررہے ہیں کیوں کہ ارکان کی اکثریت، ان سے پارٹی کے چیر پرسن اور وزارت عظمیٰ کے عہدوں سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ سینئر رکن بام دیو گوتم نے مسئلے کے حل کے لئے ایک فارمولا تیار کیا ہے جس میں دیگر امور کے علاوہ یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ اولی کو موجودہ پارلیمنٹ کی بقیہ نصف مدت کے لئے وزیر اعظم رہنے دیا جائے جب کہ اولی کو پارٹی کےچیر پرسن  کے عہدے پر برقرار رکھتے ہوئےپرچنڈ کو پارٹی تنظیم کے کُل ایگزیکٹو اختیارات دیئے جائیں ۔ اس کے علاوہ اس فارمولے میں یہ تجویز بھی ہے کہ اہم پالیسی امور، آئینی اداروں کی تقرری اور سینئر عہدیداروں کی ترقی کے سلسے میں کابینہ، پارٹی  سے صلاح مشورہ کرے گی۔

۔ ملیشیا کے سابق وزیر اعظم کے خلاف بدعنوانی کے الزامات ثابت، 12 سال کے عمر قید

۔ ‘‘ملیشیا کے سابق وزیر اعظم کے خلاف بدعنوانی کے الزامات ثابت، 12 سال کے عمر قید۔’’ یہ سرخی ہے روزنامہ راشٹریہ سہارا کی۔ خبر کے مطابق، ملیشیا کی عدالت نے سابق وزیر اعظم نجیب رزاق کے خلاف کئی ملین ڈالر کی بدعنوانی کے سلسلے میں تمام الزامات ثابت ہوجانے کے بعد ان کو مجرم قرار دیا ہے اور ان کو سزائے قید دی ہے۔ نجیب رزاق پر اپنے دور اقتدار میں بدعنوانی کے 7 مقدمات قائم کئے گئے تھے جن میں منی لانڈرنگ، اختیارات کے بے جا استعمال اور دھوکہ دہی کے  مقدمات بھی شامل ہیں۔ اخبار، ملیشیا کے ذرائع ابلاغ کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ نجیب رزاق ملک کے پہلے رہنما ہیں جن کے خلاف بدعنوانی کے الزامات ثابت ہوئے ہیں اور ان پرزبردست جرمانے بھی عائد کئے گئے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سزا کے خلاف اپیل خارج کئے جانے تک، اس سزا پر عمل درآمد کا امکان نہیں ہے۔

۔ ایران نے آبنائے ہرمز میں مشق کے دوران مصنوعی امریکی جنگی جہاز کو بنایا نشانہ

۔ روزنامہ ہندو نے ایران کے سرکاری ٹیلیویژن کے حوالے سے خبر دی ہے کہ تہران کے نیم فوجی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں ہیلی کاپٹرسے مصنوعی امریکی طیارہ بردار جہاز پر میزائل داغے ہیں۔ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کے پس منظر میں اس مشق کا مقصد امریکہ کو دھمکی دینا ہے۔ خیال رہے کہ آبنائے ہرمز کے راستےسے 20 فی صد تیل کا کاروبار ہوتا ہے اور اس مشق کے بعد دونوں ممالک کے درمیان فوجی ٹکراؤ کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔پچھلے موسم گرما میں ان خطے میں تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے کئی واقعات ہوئے تھے۔ اخبارآگے تحریر کرتا ہے کہ اس مشق کے دوران، ایرانی دستوں نے ایک ایسے مقام سے طیارہ شکن بیٹریز سے ایک ڈرون کو بھی نشانہ بنایا جس کے بارے میں سرکاری ٹیلیویژن کا کہنا ہے یہ بندر عباس سے کافی قریب ہے۔

۔ عیدالاضحیٰ کے موقعے پر طالبان نے کیا تین روزہ جنگ بندی کا اعلان

۔ اسی اخبار نے ایک اور خبر میں بتایا ہے کہ افغانستان میں عیدالاضحیٰ کے موقعے پر طالبان نے جمعے کے روز سے تین دن  کی جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔ یہ پیش کش اس وقت کی گئی ہے جب صدر اشرف غنی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ طالبان کے ساتھ امن مذاکرات ایک ہفتے کے اندر شروع ہوجائیں گے۔ اس پیش کش کا اعلان کرتے ہوئے طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ اس دوران دشمن کی جانب سے کسی حملے کا طاقت کے ذریعے جواب دیا جائے گا۔ دوسری جانب، افغان حکومت نے اس پیش کش کا خیر مقدم کرتے ہوئے،اپنی افواج کو ہدایت دی ہے کہ اس مجوزہ جنگ بندی پر پوری طرح عمل کیا جائے لیکن اگر طالبان کی طرف سے کوئی حملہ ہو تو اس کا جواب دیا جائے۔

۔ چین نے  برطانیہ، آسٹریلیا اور کناڈا کے ساتھ ہانگ کانگ کے حوالگی معاہدے کئے معطل

۔ منگل کے روز، چین نے اعلان کیا کہ وہ کناڈا، آسٹریلیا اور برطانیہ کے ساتھ کئے گئے ہانگ کانگ کے حوالگی معاہدے معطل کررہا ہے۔اپنی خبر میں اخبار ہندوستان ٹائمس نے تحریر کیا ہے کہ اس سے قبل ان  تینوں ممالک نے ہانگ کانگ میں  متنازعہ قومی سلامتی قانون کی مخالفت میں چین سے حوالگی کے معاہدے معطل کئے تھے جس پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے بیجنگ نے یہ قدم اٹھایا ہے۔ چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے حوالگی معاہدوں کی معطلی سے متعلق ان تینوں ممالک کے فیصلوں کو غلط قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ان کا ملک، ان ممالک کے ساتھ کئے گئے مجرمین سے متعلق انصاف تعاون کے معاہدے بھی معطل کررہا ہے۔ اس سے قبل نیوزی لینڈ نے بھی کہا تھا کہ وہ ہانگ کانگ کے ساتھ حوالگی معاہدہ معطل کردے گا۔ اس کا اعلان کرتے ہوئے وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرس نے کہا کہ نیا قانون، چین کے اس وعدے کے خلاف ہے جو اس نے بین الاقوامی برادری سے کیا تھا۔