31.07.2020

سرحد پر فوجوں کی واپسی کی تکمیل کے چینی دعوے کی ہندوستان نے کی تردید

آج ملک کے تمام اخبارات نے چینی فوجوں کی واپسی کے دعوے کے سلسلے میں  ہندوستان کی تردید سے متعلق خبروں کو جلی سرخیوں کے تحت شائع کیا ہے۔ روزنامہ ہندوستان ٹائمس اپنی خبر میں ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے حوالے سے لکھتا ہے کہ ہندوستان نے چین کے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہ تعطل کے بیشتر مقامات سے چینی فوجوں کی واپسی مکمل ہوگئی ہے، کہا کہ بیجنگ حکومت کو حقیقی کنٹرول لائن پر امن کی بحالی اور کشیدگی کے خاتمے کے لئے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ ترجمان نے اس کے ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کیا کہ فوجوں کی واپسی اور کشیدگی میں کمی کی جانب کچھ پیش رفت ہوئی ہے لیکن یہ عمل تکمیل سے بہت دور ہے۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ اس عمل کی تکمیل کے سلسلے میں دونوں ممالک کے سینئر کمانڈر پانچویں میٹنگ کے لئے تیار ہیں۔ روزنامہ ہندو نے نئی دہلی میں چینی سفیر سَن وی ڈانگ کے حوالے سے خبر دی ہے کہ چین حقیقی کنٹرول لائن کے تشریح کے عمل کو دوبارہ شروع کرنے کے حق میں نہیں ہے کیوں کہ اس سے نیا تنازعہ پیدا ہوجائے گا۔ انھوں نے تسلیم کیا کہ پینگانگ جھیل کے شمالی کنارے کی روایتی سرحد پر چین کی جانب ان کی فوجیں موجود ہیں جہاں دونوں جانب سے فوجوں کی واپسی ہونا ہے اور توقع ہے کہ اس ہفتے کے آخر میں کور کمانڈروں کی پانچویں میٹنگ میں یہ معاملہ زیر غور آئے گا۔اخبار آگے لکھتا ہے کہ چین کی وزارت دفاع نے جمعرات کے روز کہا تھا کہ کشیدگی میں کمی کے لئے صورت حال موافق ہورہی ہے اور دونوں ممالک کے سرحدی دستوں کی واپسی کا عمل بتدریج آگے بڑھ رہا ہے۔ اس کے برخلاف چینی وزارت خارجہ نے اس ہفتے کے اوائل میں کہا تھا کہ بیشتر مقامات سے فوجوں کی واپسی کا عمل مکمل ہوچکا ہے۔ اخبار ہندوستان ٹائمس نے  آسٹریلیا کے ہائی کمشنر بیری او فیرل  کے حوالے خبر دی ہے کہ ان کا ملک، چین کے ساتھ تعطل سے متعلق ہندوستان کے موقف کی حمایت کرتا ہےاور بیجنگ کے ذریعے حقیقی کنٹرول لائن کی اصل حیثیت میں کسی تبدیلی کا مخالف ہے۔ آسٹریلیا کے اس موقف کا اظہار، ہائی کمشنر نے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے ساتھ ایک میٹنگ میں کیا جس کے دوران، کووڈ کے پس منظر میں ہند بحرالکاہل خطے میں پیدا ہونے والی صورت حال زیر غور آئی۔ 

تبت کے پٹھار میں چین کی فوجی مشقیں

چین کی پیوپلز آرمی نے ہندوستان کی سرحد سے ملحق تبت کے پٹھار میں طویل دوری تک مار کرنے والی ڈرلس کی ہیں اور جنوبی بحر چین پر اپنے جدید ترین جیٹ بمبار اڑائے ہیں۔ اس مشق میں تبت کے ملٹری ریجن نے بھی حصہ لیا۔ روزنامہ ہندوستان ٹائمس نے چین کی وزارت دفاع کے ترجمان رین گواجینگ   کےحوالے سے خبر دی ہے کہ ان مشقوں میں پی ایل اے کی آرٹیلری کے دن و رات میں مار کرنے کی صلاحیت کی آزمائش کی گئی ہے۔ ترجمان نے کسی ملک کا نام لئے بغیر یہ بھی کہا کہ یہ مشقیں سالانہ تربیتی پروگرام کا حصہ ہیں اور یہ کسی ملک کے خلاف نہیں ہیں۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ یہ مشق ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایک طرف نئی دہلی اور بیجنگ کے درمیان سرحدی تعطل جاری ہے تو دوسری طرف چین اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے۔

تبت کے پٹھار میں پی ایل اے کی فوجی مشقیں

اخبارات نے جن دیگر خبروں کو اہمیت کے ساتھ شائع کیا ہے ان میں وزیر اعظم کا یہ  بیان بھی شامل ہے کہ ہندوستان اپنے پڑوسی ممالک کو بنا کسی پیشگی شرائط کے ترقیاتی امداد فراہم کرتا رہا ہے۔ روزنامہ ہندوستان ٹائمس کے مطابق، ان کا مبہم اشارہ چین اور اس کے بڑے بڑے پروجیکٹوں کے لئے قرضوں کے جال کی طرف تھا۔ ماریشس کے اپنے ہم منصب پروند جگناتھ کے ساتھ پورٹ لوئس میں عدالت عظمیٰ کی نئی عمارت کا  ایک ورچوئل تقریب کے دوران افتتاح کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ  اپنے پڑوسی ممالک کے لئے ہندوستان  نے ہمیشہ  باہمی جذبۂ احترام کے تحت، تنوع، بہتر مستقبل اور پائیدار ترقی کے مقصد سے امداد فراہم کی  ہے۔اخبار آگے تحریرکرتا ہے کہ وزیر اعظم مودی نے پڑوسی ممالک کے لئے امداد فراہم کرنے والے کسی دوسرے ملک کا نام تو نہیں لیا لیکن ان کے اس بیان سے ہندوستان اور چین کے حمایت یافتہ پروجیکٹوں میں انفرادیت کا واضح اظہار ہوتا ہے۔ ان میں چین کے امداد یافتہ  بیلٹ اور روڈ پیش قدمی بھی شامل ہے جس کی وجہ سے کئی ملک قرضوں کا جال میں پھنس گئے ہیں۔

جادھو کی جان کے تحفظ کے کئے ہندوستان پرعزم

ہندوستان کو اپنی بحریہ کے سابق افسر کلبھوشن جادھو کو سزا سے بچانے کے لئے مزید تدارکی اقدامات کا حق حاصل ہے۔ اس سلسلے میں، روزنامہ ہندو نے وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ سری واستو کے حوالے سے خبر دی ہے کہ پاکستان میں سزائے موت یافتہ کلبھوشن جادھو کے لئے اسلام آباد نے جو قانونی اور سفارتی سہولیات فراہم کی ہیں وہ محض دکھاوا اور مضحکہ خیز نوعیت کی ہیں۔ خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس سزائے موت پر نظر ثانی کے لئے حکومت پاکستان کی عرضداشت پر سماعت کے لئے جمعرات کو  دو رکنی بنچ تشکیل دی ہے۔ اس سے قبل ہندوستان نے شکایت کی تھی کہ جادھو کو قانونی امداد حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی کیوں کہ 16 جولائی کو جب ہندوستانی سفارت کار جادھو سے ملاقات کے لئے گئے تھے تو ان کے ساتھ اس مقدمے کے سلسلے میں بلا رکاوٹ بات چیت کرنے کا موقع نہیں دیا گیا تھا۔ واضح ہو کہ 2019 میں  پاکستان کو بین الاقوامی عدالت نے حکم دیا تھا کہ جادھو کو قونصل رسائی فراہم کی جائے جن کو پاکستانی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لئےدہشت گردانہ حملوں کے الزام میں موت کی سزا سنائی گئی ہے۔ 

ٹرمپ کے خاندان پر انتخابی مہم میں کروڑوں ڈالر خرچ کرنے کا الزام، ڈونل ٹرمپ نے پیش کی صدارتی انتخابات ملتوی کرنے کی تجویز

‘‘ٹرمپ کے خاندان پر انتخابی مہم میں کروڑوں ڈالر خرچ کرنے کا الزام، ڈونل ٹرمپ نے پیش کی صدارتی انتخابات ملتوی کرنے کی تجویز’’ یہ سرخی ہے روزنامہ راشٹریہ سہارا کی۔ اخبار سی این بی سی کے حوالے سے تحریر کرتا ہے کہ  فیڈرل الیکشن کمیشن میں دائر درخواست میں صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کے دوران قانون کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ 17 کروڑ ڈالر  اہم افراد پر خرچ کئے گئے اور ساتھ ساتھ خاندان کے افراد اور قریبی ساتھیوں کو کمپنیوں کے ذریعے خطیر رقوم منتقل کی گئیں۔ اسی دوران، صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات ملتوی کئے جائیں کیوں کہ ڈاک کے ذریعے زیادہ ووٹنگ کی وجہ سے فراڈ کا امکان ہے اور غلط نتائج آسکتے ہیں۔ اخبار برطانوی خبر رساں ادارے کے حوالے سے لکھتا ہے کہ ان کے مشورے کے مطابق، انتخابات اس وقت تک ملتوی رہیں جب تک لوگ بقول ان کے مناسب اور محفوظ طریقے سے ووٹ نہیں ڈال سکتے۔ خیال رہے کہ امریکی ریاستیں چاہتی ہیں کہ کورونا وبا کے پس منظر میں احتیاط برتتے ہوئے ڈاک کے ذریعے ووٹنگ آسان ہوگی۔

بشارالاسد حکومت کے خلاف مزید امریکی پابندیاں

اسی اخبار نے ایک رپورٹ میں مطلع کیا ہے کہ امریکہ نے شام کے صدر بشار الاسد  اور ان کی افواج کی بدترین کارروائیوں کی وجہ سے مزید پابندیاں عائد کردی ہیں۔خیال رہے کہ 9 برس قبل 2011 میں شامی افواج نے حما شہر پر بدترین ظالمانہ کارروائی کرتے ہوئے پرامن شہریوں کو قتل کردیا تھا جب کہ پچھلے سال ان کی فوجوں نے میرات النعمان کے پرہجوم بازار میں بمباری کی تھی جس کے نتیجے میں 42 بے گناہ شہری ہلاک ہوگئے تھے۔  وزارت خارجہ کی جانب سےجاری بیان کے مطابق، اسد حکومت، جبر، ظلم و ستم اور بدعنوانی کی علامت بنی ہوئی ہے جس نے ہزاروں شہریوں کو قتل کیا اور پرامن افراد کو حراست میں لے کر ان کو تشدد کا نشانہ بنایا۔اخبار بیان کےحوالے سے آگے رقم طراز ہے کہ بشارالاسد کی فوجوں نے انسانی جانوں کے ضیاع کی پرواہ کئے بغیر اسکولوں،اسپتالوں  اور بازاروں کو تباہ و برباد کیا ہے۔

ہانگ کانگ میں جمہوریت حامیوں کے خلاف کارروائی، 4 افراد گرفتار، 12 امیدوار قرار دیئے گئے نااہل

روزنامہ انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق، چند ہفتے قبل، چین کی حکومت نے ہانگ کانگ میں نئے قومی سلامتی قوانین کا نفاذ کیا تھا جس کی وجہ سے اس نیم خودمختار علاقے میں مزید سخت کارروائیوں کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا۔اب اس قانون کی مخالفت میں، حکام نے جمہوریت حامی افراد کے خلاف معاندانہ کارروائیاں شروع کردی ہیں۔ اخبارآگے تحریر کرتا ہے کہ حکام نے جمہوریت حامی امیدواروں سمیت 12 امیدواروں کو ستمبر میں قانون ساز انتخابات کے لئے نااہل قرار دے دیا ہے۔ اس سے ایک دن قبل پولیس نے آزادی کی حمایت میں پیغامات آن لائن پوسٹ کرنے پر چار کارکنوں کو گرفتار کر لیا تھا ۔ دوسری جانب حزب اختلاف نے امید ظاہر کی ہے کہ اس کے بعد عوام مزید احتجاج کریں گے اور اپنی ناراضگی کا اظہار کریں گے۔لیکن اس کے ساتھ ہی انھوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ حکومت غیر واضح وجوہ سے امید واروں کو ان اہل قرار دے گی۔