عیدالاضحی  اور ہندستان  کی مشترکہ  ثقافت کا امین کشمیر 

ہندستان ہزاروں سال سے مختلف تہوراوں کا گہوارہ  رہاہے  اور وقت گزرنے کے ساتھ ہی   ان میں اضافہ اور تنوع پیداہوتاگیا۔ یہاں مختلف مذاہب کے لوگ ایک دوسرے  کے ساتھ مل جل کر رہتے ہیں اور خوشی و غم میں برابر  شریک ہوتے ہیں ۔عید، بقرعید ہو یاہولی ،دیوالی سبھی  ملکر مناتے ہیں اور ایک دوسرے سے پیار ومحبت کے ساتھ گلے ملتے ہیں اور مبارک باد دیتے ہیں ۔یہ موقع ہے  عیدالاضحی کا، لوگوں میں اس کے تئیں کافی جوش وخروش پایاجارہا ہے ۔یہ دیگر بات ہے کہ کورونا کی عالمی وبا نے  سرگرمیوں کو محدود کردیاہے اورلوگوں نے  بھی  حکومت کی ہدایات کے مطابق اس تہوار کو منانے  کا فیصلہ کیاہے  جو ایک مثبت قدم ہے ۔ 

آج جس ہندستان کو ہم دیکھتے ہیں ،  جس میں اخوت ورواداری کی  خوشبو رچی بسی ہے  وہ بہت حد تک صوفیائے کرام کی دین ہے ۔ہم انکی محنت اور لگن کو کبھی فراموش نہیں کرسکتے ۔ صوفیوں نے ہمیشہ  اعتدال پسندی  ، رواداری اور کھلی ذہنیت کا مظاہرہ کیا اس لیے لوگ ان سے کترانے کے بجائے  قریب آتے گئے ۔انھوں نے اپنی تعلیمات  کو عوام کے سامنے پیش کرنے میں یہاں مروجہ تصورات کا احترام  بھی ملحوظ رکھا اور اپنے عقائد  اور تصورات مسلط کرنے  کے بجائے  مقامی مزاج کی  رعایت رکھتے ہوئے  سمجھانے  کی کوشش کی ۔ صوفیا نے  اپنی برتری  کامظاہر ہ یا  اس پر غرور کرنے  کے بجائے  مقامی  ثقافت کا حصہ بننے میں دلچسپی لی ۔انکے یہاں موسیقی  جو ہندستانی تہذیب  کا ایک اہم جزو تھی ، بھی باقاعدہ جائز اور رائج رہی ۔جس کے توسط سے  ان کا روحانی  پیغام  عوام میں زیادہ پھیلا ۔روحانی  تربیت کا جوطریقہ صوفیا کے یہاں رائج تھا وہ بھی بالکل اچھوتا نہیں تھا  اور یہاں کے رشی  منیوں کے یہاں اس سے ملتی جلتی روایت پہلے سے موجودتھی  جسے عوام اور خواص میں قدرکی نگاہ سے دیکھاجاتاتھا۔صوفیوں کے یہاں روحانی تربیت کے لیے عبادت وریاضت ، مراقبہ ، چلہ کشی  اور گوشہ نشینی وغیرہ  کا باقاعدہ اہتمام ملتاہے جس کی مماثلت ہندستانی سادھو سنتوں کے یہاں بھی  موجودتھی ۔انسانی مساوات ، اخلاقی اقدار ، رواداری بھائی چارہ ، حق پسندی ، راست بازی  وغیرہ صوفیا  کی تعلیمات کا اہم حصہ  ہیں  جن کا کسی بھی سماج میں  قبولیت پانا فطری ہے ۔

ہندستان میں صوفی ازم کی  چھاپ خاص طور سے  پنجاب اور کشمیر میں دیکھنے کو ملتی ہے ۔ سید علی ہمدانی سے شروع ہونے والی روایت کو مخدوم صاحب ، لل دید، نند ریشی اور دوسرے صوفیانے  آگے بڑھایا۔یہاں کی صوفی روایت جسے مقامی طورپر ریشیت کانام دیاجاتاہے  انتہائی  جاندار روایت رہی ہے ۔مقامیت کا گہرااثر لے کر یہ روایت  ہندو اور مسلم دونوں میں یکساں اہمیت کی حامل رہی ہے ۔صوفی روایت نے کشمیری سماج کو ایک اکائی کے طورپر باندھے  رکھنے میں بڑاکردار اداکیاہے ۔

صوفی ازم اپنی آفاقی تعلیمات ، اعلی انسانی اقدار کی حمایت  اورصلح کل مزاج کی وجہ سے ہندستان کی ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی ضرورت ہے ۔

تہواروں سے دولت اور وسائل کی تقسیم ، رواداری ، محبت و اخوت اور سماجی رشتوں کو فروغ ملتا ہے ۔ یہ ایسے مواقع ہوتے ہیں جب انسان اپنی خوشیاں ہی نہیں بلکہ ساجھا وراثت کو بھی بانٹتے ہیں جسے گنگا جمنی تہذیب کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے ۔یہ ساجھا وراثت ہی ہم  ہندستانیوں  کی پہچان ہے جو ہمیں دوسرو ں سے الگ کرتی ہے شاید ان تہواروں کی بدولت ہی ہم مل کر رہنے اور مل کر ساتھ چلنے میں یقین رکھتے ہیں ۔ ضرورت ہے تہواروں کی اہمیت  کو سمجھنے اور ان میں پوشیدہ پیغام کو آگے بڑھانے کی کیونکہ یہی ہمارا مزاج ہے اور اسی میں ہمارے قلب اور ملک کی امن و آشتی  چھپی ہے ۔

تہوار کسی بھی  تہذیب  ومعاشرت کا  حسن ہیں  جو اپنے اندر ان گنت خوشیوں ، احساسات و جذبات  اور رنگوں روشنیوں  کی ایک قوس قزح  سی سمیٹے ہیں ۔ دیگر تہوار وں کی طرح  عیدالاضحی   کا تعلق بھی   نیت ، نیکی اور ثواب سے جڑاہے ۔یعنی ہمارا رب تہوار کی صورت بھی ہمیں نیکیاں کمانے کا موقع فراہم کرتاہے ۔ امید ہے کہ صوفیائے کرام نے  ہندستانی معاشرہ میں اور خاص طورسے تہواروں کے موقع پر  جس مشترکہ تہذیب ، اخوت ، ہمدردی اور رواداری  کو فروغ دیاہے  اسکی خوشبو پورے ہندستان میں  کشمیر سے  لیکر کنیاکماری تک لوگوں کے دل ودماغ  کو معطر کرتی رہے گی۔