03.08.2020

سرحدی تعطل کے بارے میں  بے بنیادچینی اطلاعاتی جنگ کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ

اس موسم گرما میں سوشل میڈیا پر جو چینی اکاؤنٹس کی بھرمار ہوئی اور جن کے ذریعے ہندوستان کے ساتھ سرحدی تصادم کے بارے میں جو گمراہ کن معلومات پھیلائی گئیں، تحقیقیات کے بعد،ان کا تعلق پاکستان سے پایا گیا۔ اس سے خیال پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب ہندوستان کے خلاف گمراہ کن اور بے بنیاد مہم کا حصہ تھے۔ اپنی خبر میں روزنامہ ہندو لکھتا ہے کہ مئی میں ہندوستان اور چین کے درمیان جو سرحدی کشیدگی پیدا ہوئی تھی اور جس کے بعد گلوان وادی میں15 جون کو تصادم ہوا تھا، اس کے نتیجے میں  سوشل میڈیا پر اپنی نوعیت کی پہلی اطلاعاتی جنگ شروع ہوگئی تھی اور ٹوئٹر، فیس بک اور یو ٹیوب پر ہندوستانی اور چینی اکاأنٹس پر تصاویر نیز ویڈیوز ڈالے گئے تھے۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ دونوں طریقوں سے جھوٹی اطلاعات پھیلائی گئیں۔ لیکن چینی سوشل میڈیا پر ان پوسٹس کو دیکھنے والے صارفین کو یہ بات نہیں معلوم تھی کہ یہ اکاؤنٹس درحقیقتاً پاکستانی ہیں۔خیال رہے کہ چین میں ٹوئٹر پر پابندی عائد کردی گئی ہے حالانکہ ورچوئل نجی نیٹ ورکس کے ذریعے اس تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔اخبار آگے لکھتا ہے کہ ٹوئٹر پر سرحدی تصادم کے متعلق ان میں سے بیشتر چینی ایکٹو اکاؤنٹس کے تجزیئے سے یہ بات سامنے ّئی ہے کہ اس سے قبل ان اکاؤنٹس کے مختلف نام اور ہینڈل تھے۔ یہاں تک کہ ان میں سے کچھ اکاؤنٹس کے یوزر بائیوس تھے اورجو اردو میں تھے لیکن راتوں رات ان کو  مینڈارن  میں تبدیل کردیا گیا۔ اخبار کے مطابق، ان اکاؤنٹس کے ذریعے تصادم میں ہونے والے جانی نقصان کے بارے میں جھوٹی خبریں پھیلائی گئیں، زخمی سپاہیوں کے بارے میں ایسی تصاویر اور ویڈیوز ڈالے گئے تھے جن کا تعلق پچھلے سرحدی تصادموں سے تھا۔ خاص بات یہ ہے کہ ان پوسٹس کو حقیقی ثابت کرنے لئے چینی نام استعمال کئے گئے تھے۔

 

ہندوستان اور چین کے فوجی کمانڈروں کے درمیان پانچویں دور کی بات چیت

اخبار انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق،لداخ میں حقیقی کنٹرول لائن پر تعطل کے حل کے لئے چودھویں کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ہریندر سنگھ اور ساؤتھ شنجیانگ ریجن کے ان کے چینی ہم منصب میجر جنرل  لِیو لِن کے درمیان بات چیت کا پانچواں دور اتوار کے روز شروع ہوا  جو اس دن شام تک جاری تھا۔ یہ میٹنگ چین کی سرحد کے اُس جانب چشول۔مولڈو پر شروع ہوئی جو پیگانگ ٹسو جھیل کے جنوب میں واقع ہے۔ یہ وہی مقام ہے جو دونوں افواج کے درمیان متنازعہ ہے۔ خیال رہے کہ  فوجی تعطل اس وقت شروع ہوا تھا جب اس جھیل کے جنوب میں دونوں افواج کے درمیان ٹکراؤ ہوا تھا۔ اسی سلسلے میں روزنامہ ہندوستان ٹائمس لکھتا ہے کہ مشرقی لداخ میں 1597 کلومیٹر طویل حقیقی کنٹرول لائن سے فوجوں کی واپسی کے بارے میں  حالانکہ ہندوستانی فوج اور چین کی پیوپلز لیبریشن آرمی کے درمیان بات چیت جاری رہی، دونوں ممالک کے سفارت کار پٹرولنگ پروٹوکول کو بحال کرنے پر غور کررہے ہیں تاکہ مستقبل میں گلوان وادی میں 15 جون جیسے حالات سے بچا جاسکے۔ اخبار ساؤتھ بلاک کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ ایک طرف  لداخ میں ایل اے سی پر جب پی ایل اے سڑکوں کی تعمیر کررہی ہے، فایبر آپٹک کیبل بچھارہی ہے اور تصادم کے مقام تک  سولرپینل سے آراستہ  چوکیاں قائم کررہی ہے، جس کے جواب میں ہندوستانی فوج بھی ویسے ہی اقدامات کررہی ہے، تو ضروری ہے کہ ایسی طویل مدتی تدابیر اختیار کی جائیں کہ پٹرولنگ پارٹیوں کے درمیان دوبارہ تصادم نہ ہو۔ اسی درمیان روزنامہ ہندو کے مطابق،  وزارت تعلیم نےچینی زبان کی تعلیم و تربیت دینے والے کئی اداروں کو جانچ کے دائرے میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے قبل وزارت نے قومی تعلیمی پالیسی کے تحت فیصلہ کیا تھا کہ مجوزہ زبانوں کی فہرست سے مینڈُرن کو ہٹا دیا جائے جو  چینی زبان کی ادبی اور سرکاری شکل ہے۔وزارت تعلیم خاص طور پر ان یونیورسٹیوں پر نگاہ رکھے ہوئے ہے جن کا ماضی میں بیجنگ کی سرکاری زبان کے تربیتی شعبے ہین بن  سے رابطہ رہا ہے اور جس کے زیر اہتمام بیرون ملک سیکڑوں کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ قائم ہیں۔

 

افغانستان میں داعش کی خفیہ یونٹ کا سربراہ ہلاک ، جنگ بندی کے دوران 300 طالبان قیدی رہا

روزنامہ راشٹریہ سہارا کی ایک خبر کے مطابق، افغانستان میں نیشنل ڈائریکٹوریٹ فار سکیورٹی یعنی این ڈی ایس کی کارروائی میں دہشت گرد تنظیم داعش کی خفیہ یونٹ کا سربراہ اسد اللہ اورک زئی ہلاک کردیا گیا۔ این ڈی ایس نے ایک بیان میں یہ اطلاع دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ضیاء الرحمٰن عرف اسد اللہ اورک زئی، پاکستان کے اکھالی اورک زئی پاکستان ایجنسی کا چیف ریزیڈنٹ تھا۔یہ کارروائی سنیچر کے روز صوبہ ننگر ہار کے شہر جلال آباد میں کی گئی۔اخبار، بیان کے حوالے سے آگے رقم طراز ہے کہ اورک زئی نہ صرف خطے میں آئی ایس کے مواصلاتی نظام کو مضبوط کرنے کا ذمہ دار تھا بلکہ وہ افغانستان میں عام شہریوں پر دہشت گردانہ حملوں کا مجرم اور اپنی حریف تنظیموں کی اراکین کا سنگ دل قاتل بھی تھا۔ ایک اور خبر میں اخبار ہندوستان ٹائمس لکھتا ہے کہ مسلح افراد نےافغانستان کے جلال آباد شہر میں ایک جیل پر حملہ کرکے تین افراد کو ہلاک کردیا جس کی وجہ سے جنگ بندی کی وجہ سے قائم امن و امان کی فضا درہم برہم ہوگئی۔طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔ افغانستان کے تعلق ہی سے روزنامہ ہندو کی ایک خبر ہے کہ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان عیدکے موقع پر،بے نظیر جنگ بندی کا اتوار کو تیسرا اور آخری دن تھا جس کے دوران، امن مذاکرات کو جلد شروع کرنے کی کوشش کے تحت سیکڑوں ملٹنٹ قیدیوں کو رہا کردیا گیا لیکن سنگین جرائم کے مرتکبین کو حکام نے رہا کرنے سے انکار کردیا ہے۔اس جنگ بندی کے دوران پورے ملک میں امن و سکون رہا اور حکام کے مطابق حکومت اور طالبان کے درمیان کسی بڑے تصادم کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ صدر اشرف غنی اور طالبان دونوں ہی نے اشارہ دیا ہے کہ  عید الاضحیٰ کے فوراً بعد، طویل مدت سے موخر امن مذاکرات شروع ہو سکتے ہیں۔

 

برطانیہ مہاتما گاندھی کی یاد میں جاری  کرے گا سکہ

برطانیہ، بابائے قوم مہاتما گاندھی کی یاد میں ایک سکہ جاری کرنے پر غور کررہا ہے۔ روزنامہ  ہندو نے اس حوالے سے خبر دی ہے کہ برطانوی حکومت نے یہ فیصلہ سیاہ فام، ایشیائی اور دیگر نسلی اقوام کی خدمات کے اعتراف میں لوگوں کے بڑھتی ہوئی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے کیا ہے۔ وزارت خزانہ نے ایک ای میل میں بتایا ہے کہ اس سلسلے میں برطانوی وزیر خزانہ رشی سَونک نے رائل مِنٹ ایڈوائزری کمیٹی یعنی آر ایم اے سی  کو ایک مراسلہ بھیجا ہے جس میں کہا گیاہے کہ ان اقوام کی خدمات کو تسلیم کرنے کے لئےاقدامات کئے جائیں لہٰذا آر ایم اے سی،  مہاتما گاندھی کی یاد میں ایک سکہ جاری کرنے پر غور کررہی ہے۔ خیال رہے کہ مہاتما گاندھی کا یوم پیدائش بین الاقوامی یوم عدم تشدد کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اخبار نے توجہ دلائی ہے کہ عالمی پیمانے پر تاریخ، نو آبادیات اور امریکہ میں پولیس کے ہاتھوں، سیاہ فام  جارج فلائیڈ کی موت کے بعد نسل پرستی کے خلاف احتجاج کا اس سر نوجائزہ لینے کےلئے، کچھ برطانوی اداروں نے ماضی کا دوبارہ جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔

 

کیمرون میں بوکوحرام ملٹنٹوں کے ہاتھوں 13 افراد ہلاک

روزنامہ انڈین ایکسپریس کی ایک خبر کے مطابق، اسلامسٹ گروپ بوکو حرام کے مشتبہ ملٹنٹوں نے اتوار کے روزکیمرون میں ایک گرینیڈ حملے میں 13 افراد کو ہلاک اور 8 دیگر لوگوں کو زخمی کردیا۔ مقامی حکام نے رائٹرس کو بتایا ہے کہ نامعلوم افراد نے فار نارتھ ریجن میں، نائیجیریا کی سرحد کے قریب بے گھر لوگوں کے ایک کیمپ پر گرینیڈ سے حملہ کیا۔ خیال رہے کہ بوکو حرام، نائیجیریا میں اسلامی خلافت قائم کرنے کے لئے کئی دہائیوں سے  لڑائی کررہی ہے۔جس کے نتیجے میں کیمرون، نائیجر اور چاڈ میں پر تشدد واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ گذشتہ جون میں 300 مشتبہ بوکو حرام ملٹنٹوں نے کیمرون کی چاڈ جھیل میں حملہ کرکے 24 افراد کو ہلاک کردیا تھا۔

 

چینی کمپنیوں کے خلاف صدر ٹرمپ کریں گے کارروائی

روزنامہ ہندو نے امریکی وزیر خارجہ مائیک پامپیو  کے حوالے سےخبر دی ہے کہ امریکی صدر ڈونل ٹرمپ جلد ہی چین کی ان سافٹ ویر کمپنیوں کے خلاف کارروائی کریں گے جو بیجنگ حکومت کو براہ راست ڈاٹا بھیج رہی ہیں جس کی وجہ سے قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ جمعے کے روز، ایر فورس ون کے سفر کے دوران، ٹرمپ نے نامہ نگاروں سے کہا تھا کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹیک پر پابندی کے لئے حکم جاری کریں گے۔واضح ہو کہ پچھلے کئی ہفتوں سے امریکی حکام یہ کہتے رہے ہیں کہ بیجنگ میں قائم، اپنی موجودہ اصل چینی سافٹ ویرکمپنی بائٹ ڈانس کے تحت ٹک ٹاک، اپنے پرسنل ڈاٹا کی وجہ سے امریکہ کی قومی سلامتی کے لئے خطرہ بنی ہوئی ہے۔ اخبار وزیر خزانہ اسٹیون منیوچن کے ایک علیحدہ انٹرویو کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ امریکہ میں غیر ملکی تجارتی سودوں کے اثرات کا جائزہ لینے والی غیر ملکی سرمایہ کاری سے متعلق کمیٹی اس معاملے کو دیکھ رہی ہے۔