اہانت دین روکنے کا قانون یا لاقانونیت پھیلانے کا ایک وسیلہ

اہانت دین قانون کوئی نیا قانون نہیں ہے، یہ کسی نہ کسی شکل میں مختلف ملکوں میں نافذ ہے اور دین کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو سزا بھی دی جاتی ہے۔ خود برصغیر میں ایک قانون 1927 میں نافذ ہوا تھا لیکن پاکستان میں جنرل ضیا الحق کے دورِ اقتدار میں اس میں ترمیم کرکے اتنا سخت بنادیا گیا کہ اس کی سزا موت بھی ہوسکتی ہے لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوجاتی۔ ایک انتہائی تکلیف دہ بات یہ ہوئی کہ اس قانون کے تئیں لوگوں کو اتنا جذباتی  بنادیا گیا کہ لوگ قانون کی پاسداری کرنا ہی بھول گئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اس قانون کا غلط استعمال اس بڑے پیمانے پر ہونے لگا کہ بس کسی پر یہ لزام لگانا ہی کافی سمجھ لیا گیا کہ فلاں شخص نے اسلام کی شان میں گستاخی کی۔ کسی پر یہ الزام لگاکہ اس نے قرآن  مجید کی بے حرمتی کی، اس کے اوراق جلائے یا پیغمبر اسلام کے خلاف گستاخانہ جملے ادا کئے۔ صرف الزام یا افواہ کی بنیاد پر ماحول میں اتنا اشتعال پیدا ہوجاتا ہے یا اشتعال پیدا کردیا جاتا ہے کہ لوگ خود ہی ملزم کو سزا دینے کی ٹھان لیتے ہیں اور جہاں کہیں موقع ملتا ہے، اس کا کام تمام کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں تصور کرتے۔ شاید اس طور پر وہ اپنے کو ایک سچا مسلمان ثابت کرنا چاہتے ہیں، یا پھر کسی کو قتل کرنے کو ‘کار ثواب’ سمجھتے ہیں۔ قانون کی قطعی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔ یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ ملزم کے خلاف مقدمہ قائم کیا جاچکا ہے اور اب یہ کام عدالت کا ہے کہ وہ گواہی اور ثبوت کی روشنی میں اسے سزا کا مستحق قرار  دے یا چھوڑ دے۔ عدالت کے فیصلے کا انتظار کئے بغیر وہ گھات لگاکر ملزم کو فنا کے گھاٹ اتارنے کا موقع تلاش کرتے ہیں۔

چند روز قبل پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی راجدھانی پشاور کی ایک عدالت کا منظر دیکھئے۔ 29 جولائی کو ایک عدالت میں ایڈیشنل سیشن جج کے سامنے ایک ملزم طاہر احمد نسیم کو کمرۂ عدالت میں لایا جاتا ہے۔ وہ ایک معمر شخص ہے اور کہا جاتا ہے کہ احمدیہ فرقہ سے تعلق رکھتا ہے۔ دو سال قبل اسے اہانت دین قانون کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اور وہ ایک جیل میں بند تھا۔ ابھی کمرۂ عدالت میں کوئی کارروائی شروع بھی  نہیں ہوپائی تھی کہ ایک شخص اسے گولی مار دیتا ہے اور ملزم وہیں موقع واردات پر دم توڑ دیتا ہے۔ قاتل کے خلاف مقدمہ درج کیا جاتا ہے۔ وہ گرفتار کرلیا جاتا ہے اور مقتول کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دیا جاتا ہے۔ ممکن ہے قاتل کو عدالت سے سزا بھی ملے لیکن سماجی صورتحال میں کسی تبدیلی کے آثار نظر نہیں آتے۔

بہرحال اس منظر کے بارے میں اگر بات کی جائے، تو یہ پاکستان کا کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی اہانت دین کے بعض ملزموں کو اسی طور پر نشانہ بنایا جاچکا ہے۔ کسی کو عدالت کے احاطے میں مارا گیا،کسی عیسائی جوڑے کو زندہ آگ کی بھٹی میں جھونک دیا گیا، کہیں عیسائی بستی کو نذر آتش کیا گیا اور کہیں کسی ملزم کو عدالت نے بے قصور قرار دے کر چھوڑ دیا تو بھیڑ نے اس کا کام تمام کردیا۔ اس حالیہ واقعہ کے تعلق سے ایک بات بطور خاص قابل ذکر ہے کہ عدالت ہائی سکیورٹی زون میں واقع ہے۔ صوبائی راجدھانی ہونے کے باعث وزیراعلی کا دفتر گورنر ہاؤس، ہائی کورٹ اور دوسرے اہم دفاتر اسی علاقے میں واقع ہیں۔ اس کے باوجود ایسے محفوظ اور حساس علاقے میں پستول کے ساتھ ایک شخص آرام سے عدالت کے کمرے میں جاتا ہے اور ملزم کا کام تمام کردیتا ہے۔اب نہ تو کسی عدالتی کارروائی کی ضرورت باقی رہی اور نہ کسی فیصلے کی! اس قانون کے تعلق سے لوگ کچھ اتنے زیادہ جذباتی ہوگئے ہیں یا بنادیئے گئے ہیں کہ اس میں مناسب ترمیم کی کوئی تجویز پیش کی جاتی ہے تو بہت سے مولوی صاحبان اور مذہبی حلقے چراغ پا ہو جاتے ہیں اور احتجاج اور دھرنے پر اتر آتے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران حکمراں جماعت کی ایک رکن شیری رحمان نے اس قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے ایک بل پیش کیا تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ انہوں نے اس قانون کو ختم کرنے کا کوئی بل پیش کیا تھا لیکن اس کے خلاف ایک ایسا طوفان اٹھ کھڑا ہوا کہ خود ان کی پارٹی نے بھی اس بل کے معاملے میں ان کا ساتھ نہیں دیا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ معاملہ وہیں ختم ہوگیا یعنی مین اسٹریم سیاسی پارٹیاں تک یہ جرأت نہیں کرپاتیں کہ اس قانون کے غلط استعمال پر بھی کوئی روک لگا سکیں۔ پولیس اور انتظامیہ میں موجود افراد بھی شاید اپنی ذمہ داریاں نہیں نبھا پاتے ورنہ اتنے بڑے پیمانے پر لاقانونیت کو بڑھاوا نہ ملتا۔ اب پشاور کے حالیہ واقعہ کو ہی دیکھئے۔ اگر انتظامیہ واقعی چوکس ہوتی تو کیا عدالت کے کمرے میں کوئی شخص ہائی سکیورٹی زون میں پستول یا دوسرے اسلحہ کے ساتھ داخل ہوپاتا؟ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو انتہاپسند حلقے یا مذہب کے نام نہاد ٹھیکیدار اس قانون کے غلط استعمال تک پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کرتے، کیا پشاور کے اس وقعہ پر کوئی رائے ظاہر کرنا چاہیں گے۔

ایک ایسا ملک جو آئینی طور پر ایک اسلامی ملک ہے اور جہاں متعدد نوعیت کی اسلامی کونسل اور بورڈ بھی قائم ہیں، وہاں بھی اگر اپنی ہی عدالت اور قانون کی پاسداری کے تئیں لوگ اتنے غیر حساس واقع ہوں کہ عدالتی کارروائی میں بھی کھلم کھلا رخنے ڈالتے ہوں تو کیا کہا جائے گا؟ دراصل سماج کی اسی بے حسی اور لاقانونیت پسندی کی بھی ایک بدترین مثال وہ تھی جس میں صوبہ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو انہی کے ایک باڈی گارڈ ممتاز قادری نے دن دہاڑے گولیوں سے چھلنی کردیا تھا۔ ان کا قصور یہ تھا کہ وہ بھی اس قانون کے غلط استعمال کے خلاف تھے اور ایک عیسائی خاتون آسیہ بی بی کو،جسے ایک نچلی عدالت نے پھانسی کی سزا سنائی تھی، اس سزا سے بچانے کی کوشش کررہے تھے۔ بلا شبہ ان کے قاتل کو تو سزا ہوئی لیکن اس کو ہیرو ماننے والوں کا پاکستانی سماج میں بڑا دبدبہ ہے۔ تحریک لبیک یا رسول اللہ ایسے ہی لوگوں کی تنظیم ہے جس کے ناجائز مطالبات کو تسلیم کرانے کے لئے پاکستان کے آرمی چیف تک سامنے آتے ہیں اور وزیراعظم سے مل کر ان کے حق میں فیصلے کراتے ہیں۔ 

یاد رہے کہ آسیہ بی بی کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی بے قصور قرار دے کر اسے رہا کرنے کا حکم دیا تھا لیکن مذہب کے ٹھیکیدار اسے کسی بھی حال میں بخشنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ بالآخر حکومت وقت نے اسے کسی صورت پاکستان سے باہر بھجوانے کا خفیہ طور پر کوئی انتظام کیا تھا۔ گویا اسے رہائی تو ملی لیکن اس کی قیمت اسے اپنا وطن اور گھر چھوڑکر چکانی پڑی اور اب ایک طاہر احمد نسیم کو عدالتی کارروائی سے پہلے ہی کمرہ عدالت میں اپنی جان گنوانی پڑی! یہ ہے مملکت خداداد میں انصاف کا نظام!