05.08.2020

۔ لبنان کے دارالحکومت بیروت میں زبردست دھماکہ، 70 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی

۔ لبنان کے دارالحکومت بیروت میں کل ایک زبردست دھماکہ ہوا جس میں کم از کم 70 افراد ہلاک اور ہزاروں دیگر زخمی ہوگئے۔ اس دھماکہ نے تمام شہر کو ہلاکے رکھ دیا۔ اس خبر کو روزنامہ ٹائمز آف انڈیا  نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اخبار تحریر کرتا ہے کہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ مکانات کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں اور ان کی بالکنیاں بھی ٹوٹ کر گر گئیں۔ اخبار کے مطابق برسوں بعد بیروت میں ایسا شدید ترین دھماکہ دیکھنے کو ملا ہے جس کے باعث زمین ہلنے لگی اور لوگوں نے سمجھا کہ زلزلہ آگیا ہے۔روتے ہوئے لوگ جن میں کچھ زخمی تھے، اپنے اپنے گھروں سے باہر نکل آئے۔ یہ دھماکہ شہر کے بندرگاہ علاقہ میں ہوا۔ لبنان کے وزیر داخلہ نے بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق برسوں پہلے جو انتہائی دھماکہ خیز مادے پکڑے گئے تھے وہ وہاں کے ویئر ہاؤس میں رکھے ہوئے تھے،جن میں آگ لگ گئی جس کے بعد یہ دھماکہ ہوا۔ لبنان کے براڈ کاسٹر مایا دین نے ملک کے کسٹم ڈائرکٹر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ویئر ہاؤس میں کئی ٹن نائٹریٹ رکھا ہوا تھا جس کے باعث یہ دھماکہ ہوا۔ سوشل میڈیا پر جو ویڈیو ساجھہ کی گئیں اس میں صاف دکھائی دے رہا ہے کہ بندرگاہ کے علاقہ سے دھوئیں کا بادل اٹھ رہا ہے جس کے بعد زبردست دھماکہ ہوتا ہے اور جو لوگ دوسرے علاقوں سے اس حادثے کی فلم بنا رہے تھے، دھماکہ کی شدت کے باعث فرش پر گر پڑے۔ لبنان کے صدر مشل عون نے حادثہ کے فوراً بعد سپریم ڈیفنس کونسل کی ہنگامی میٹنگ طلب کی اور وزیراعظم حسن ریاب نے آج یوم سوگ منانے کا اعلان کیا۔ اسی دوران اسرائیل کے ایک اہلکار نے کہا کہ ان کے ملک کا اس دھماکے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسرائیل کے وزیر خارجہ گابی اشکینازی نے اسرائیلی این 12 ٹیلی ویژن کو بتایا کہ ایسا معلوم ہوتاہے کہ یہ دھماکہ ایک حادثہ تھا جو آگ لگنے کی وجہ سے ہوا۔ادھر اقوام متحدہ کے ترجمان فرحان حق نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ دھماکہ کی وجہ کیا تھی۔ اسی دوران بیروت میں ہندوستانی سفیر ایس اعزاز خان نے کہا کہ سفارت خانے کے تمام اہلکار محفوظ ہیں اور ہم ہندوستانی برادری سے رابطہ بنائے ہوئے ہیں۔

 

۔ فنانشل ایکشن ٹاکس فورس کی میٹنگ سے قبل بھارت اجاگر کرے گا پاکستان کا ناکارہ پن

۔ فنانشل ایکشن ٹاکس فورس کی اگلی میٹنگ اکتوبر میں ہونے والی ہے جس میں دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا لیکن اس میٹنگ سے قبل ہندوستانی ایجنسیاں اس بات کو اجاگر کرنے کا منصوبہ بنارہی ہیں کہ پلوامہ، 11/26 ممبئی حملوں اور صحافی ڈینیئل پرل قتل کے معاملات میں پاکستان کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اس خبر کو روزنامہ ہندو نے اپنے صفحات میں نمایاں جگہ دی ہے۔ ایک سرکاری اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے اخبار تحریر کرتا ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ دہشت گردی کی معاونت کرنے والے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے میں سنجیدہ ہے۔ یہ تبھی ممکن ہے جب ایسے لوگوں اور تنظیموں کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنایا جائے جو دہشت گردی کی نہ صرف مالی معاونت کرتے ہیں بلکہ دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی بھی کرتے ہیں۔ چونکہ اس سلسلہ میں کوئی بھی قدم نہیں اٹھایا جارہا ہے، ان تمام معاملات کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنا نہایت ضروری ہے۔ ہندوستانی ایجنسیاں فروری 2019 کے پلوامہ حملے کی تفصیلات ایف اے ٹی ایف کے اہم ممبران کے ساتھ ساجھا کررہی ہیں۔ اس حملے میں سی آر پی ایف کے 40 جوان شہید اور بہت سے دوسرے زخمی ہوئے تھے۔ اخبار آگے تحریر کرتا ہےکہ تقریباً ایک ماہ قبل این آئی اے  نے جیش محمد کے لئے مبینہ طور پر کام کرنے والے ایک شخص کو گرفتار کیا تھا جس کے یہاں حملہ میں ملوث لوگ آکر قیام کیا کرتے تھے۔ این آئی اے نے بتایا کہ ملزم بلال احمد کوچے نے سازش رچنے والوں کےلئے فون کا انتظام کیا تھا تاکہ وہ پاکستان میں بیٹھے اپنے آقاؤں سے بات کرسکیں۔ اس معاملہ میں ایجنسی اب تک سات لوگوں کو گرفتار کرچکی ہے۔

دوسرے معاملہ کا تعلق 2008 میں ہوئے ممبئی حملوں سے ہے جس میں لشکر طیبہ ملوث تھا۔ ان حملوں میں چھ امریکی شہری مارے گئے تھے۔ ذکی الرحمن لکھوی سمیت سات ملزمین کے خلاف معاملہ پاکستان کی ایک دہشت گرد مخالف عدالت میں 2009 سے زیر سماعت ہے۔ حافظ سعید جیسے بڑے دہشت گردوں پر ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ڈینیئل پرل کے اغوا اور قتل میں جو لوگ ملوث تھے، ان کے خلاف بھی ابھی تک کوئی حتمی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔

 

۔ بھارت نے پاکستان کے نئے نقشہ کا دیا سخت جواب۔ کہا، یہ سیاسی بکواس اور بے وقوفی کے سوا کچھ نہیں

۔ جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرکے اسے مرکز کے زیر انتظام دو علاقوں میں تقسیم کرنے کی پہلی سالگرہ کے موقع پر پاکستان نے منگل کے روز ایک نیا سیاسی نقشہ جاری کیا ، جس میں جموں و کشمیرکو متنازعہ علاقہ قرار دے کر سرکریک  اور گجرات میں جونا گڑھ کے علاقوں کو پاکستانی علاقے بتائے گئے ہیں۔ پاکستان کی اس حرکت کا بھارت نے سخت جواب دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ اقدام سیاسی بے وقوفی کے سوا کچھ نہیں۔ اس خبر کو روزنامہ انڈین ایکسپریس نے اپنے کالموں میں نمایاں جگہ دی ہے۔ اخبار تحریر کرتا ہے کہ وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے جاری کئے گئے نقشہ کو ہم نے دیکھا ہے۔ ہندوستانی ریاست گجرات اور جموں و کشمیر اور لداخ کے علاقوں پر پاکستانی دعویٰ بے بنیاد اور بیہودہ ہے۔ اس طرح کی مضحکہ خیز باتوں کی نہ تو کوئی قانونی حیثیت ہے اور نہ ہی بین الاقوامی سطح پر ان کی کوئی اہمیت۔ اس نقشہ میں نہ صرف جموں و کشمیر کے تمام علاقہ کو متنازعہ قرار دیا گیا ہے بلکہ سیاچن کو بھی پاکستان کا حصہ بتایا گیا ہے۔ اس میں کشمیر کے مشرق میں کوئی سرحد نہیں دکھائی گئی ہے جہاں چین نے غیر قانونی طور پر اکسے چین پر قبضہ کررکھا ہے۔ نقشہ میں فاٹا  کو خیبر پختون خوا کے حصہ کے طور پر دکھایا گیاہے۔ پاکستانی کابینہ نے اسلام آباد میں ایک بڑی سڑک کا نام بدل کر شاہراہ سری نگر رکھنے کا بھی فیصلہ کیا۔ اس سے پہلے اس سڑک کا نام تھا شاہراہ کشمیر۔ یہ پہلی بار نہیں ہے جب پاکستان نےجونا گڑھ کو اپنا علاقہ قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ 2012 میں جاری کئے گئے نقشے میں بھی جونا گڑھ کو ایک علیحدہ علاقہ دکھایا گیا تھا۔

 

۔  بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ نے فوج کے ریٹائرڈ میجر کی ہلاکت کی پوری تحقیقات کرانے کی کرائی یقین دہانی

۔ بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ نے ایک ریٹائرڈ آرمی میجر کی والدہ کو یقین دلایا ہےکہ پولیس کے ہاتھوں ان کے بیٹے کی ہلاکت کی پوری تحقیقات کی جائے گی۔ میجر سنہا محمد راشد خاں جو اسپیشل سیکیورٹی فورس کے ایک رکن تھے اور ابھی دو سال قبل رضا کارانہ طور پر ملازمت سے سبکدوش ہوئے تھے، کوکس  بازار میں ایک چیک پوسٹ پر جمعہ کو پولیس فائرنگ میں ہلاک ہوگئے۔ اس خبر کو روزنامہ ہندوستان ٹائمز نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ راشد کی ہلاکت کے بعد تمام ملک میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی تھی۔ حادثہ کے فوراً بعد حکام نے چیک پوسٹ کے انچارج سمیت 16 پولیس والوں کو واپس بلالیا۔ وزیراعظم کے پریس سکریٹری احسان الکریم نے بتایا کہ شیخ حسینہ نے راشد کی ماں کو فون کرکے حکومت کی جانب سے مالی امدادکا یقین دلایا اور کہا کہ معاملہ کی پوری تحقیقات کی جائے گی۔ 36 سالہ راشد کے اہل خانہ کے مطابق ملازمت سے سبکدوشی کے بعد وہ ٹراول ڈوکومنٹری بنانے میں وقت بتایا کرتے تھے اور ایک فلم بنانے کے سلسلہ میں وہ پچھلے دو ماہ سے کوکس بازار میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ جمعہ کے روز جب وہ اپنے ایک ساتھی کے ساتھ ایک نجی کار میں تکناف سے کوکس بازار واپس ہورہے تھے تو چیک پوسٹ پر پولیس والوں نے انہیں روکا۔ ان سے کار سے اترنے کے لئے کہا گیا اور جیسے ہی راشد کار سے باہر آئے، چیک پوسٹ انسپکٹر لیاقت علی نے انہیں گولی مارکر ہلاک کردیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق گاڑی سے اترنے کے بعد راشد اور پولیس انسپکٹر میں کہا سنی ہوگئی جس کے بعد راشد نے ریوالور نکال لی  لیکن اس سے  پہلے کہ وہ کچھ کرتے انسپکٹر نے اپنے دفاع میں گولیاں چلادیں۔ اسپتال جاتے جاتے انہوں نے راستہ  میں ہی دم توڑ دیا۔