06.08.2020

۔ بھگوان رام کثرت میں وحدت کی علامت: رام مندر کی تقریب سنگ بنیاد کے موقعے پر وزیر اعظم کا خطاب

۔ آج ملک کے تمام اخبارات نے اجودھیا میں مریادا پرشوتم بھگوان رام کے مندر کی سنگ بنیاد تقریب کی خبروں کو صفحۂ اول کی زینت بنایا ہے۔ ‘‘رام کثرت میں وحدت کی علامت ’’  کے زیر عنوان اپنی خبر میں راشٹریہ سہارا لکھتا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نےسنگ بنیاد رکھنے کے بعد اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں آپسی محبت اور بھائی چارے کے پیغام سے رام مندر کی شلاؤں کو جوڑنا ہے۔ انھوں نے بھگوان رام کو ہندوستانی تہذیب کی روح اور بہترین اقدار کا محور قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ملک کے اتحاد کے ضامن ہیں۔ پورا ملک رام کی لہر میں ڈوبا ہوا ہے کیوں کہ رام کثرت میں وحدت کی علامت ہیں۔اخبار وزیر اعظم کے خطاب کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ اس ملک کے عوام نے رام مندر کے سلسلے میں عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو کسی کے جذبات مجرہح کئے بغیر تسلیم کیا تھا اور آج وہی جذبہ یہاں دکھائی دے رہا ہے۔ ہمیں سبھی کے جذبات کا خیال رکھنا ہے اور سبھی طبقات کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔ وزیر داخلہ امت شاہ نے اس موقع کو ہندوستانی ثقافت اور تہذیب کے ایک سنہرے دور کے آغاز سے تعبیر کیا۔ آل انڈیا ریڈیو کی خبروں کے مطابق، اس موقع پر وزیر اعظم نے رام مندر کے ماڈل اور رامائن کی انسائکلو پیڈیا کے ڈاک ٹکٹ بھی جاری کئے۔

 

۔ کنٹرول لائن سے فوجوں کی مزید واپسی سے متعلق چین کی تجویز، ہندوستان کے لئے ناقابل قبول

۔ چین اور ہندوستان کے درمیان پانچویں دور کی کور کمانڈر سطح کی بات چیت کے دوران بیجنگ نے حقیقی کنٹرول لائن سے فوجوں کو مزید پیچھے ہٹانے سے متعلق جوتجویز پیش کی تھی اس کو نئی دہلی نے ناقابل جواز قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔سرکاری ذرائع کے حوالے سے روزنامہ انڈین ایکسپریس نے خبر دی ہے کہ بات چیت کے دوران چین نے اپنی فوجوں کو اس وقت تک مزید پیچھے ہٹانے سے انکار کردیا  تھا جب تک کہ ہندوستان بھی ویسا ہی جوابی اقدام نہیں کرتا ہے مگر ہندوستان کا کہنا ہے کہ چین کی تجویز کو تسلیم کرنے کا مطلب یہ ہوتا کہ وہ پینگانگ جھیل کے کنارے پر  طویل مدت سے اپنی تاریخی چوکیوں سے دست بردار ہورہا ہے اور اس علاقے میں ایل اے سی سے متعلق چین کے دعوے کو تسلیم کررہا ہے۔ اس سلسلے میں بیجنگ کو مطلع کردیا گیا ہے کہ نئی دہلی حکومت اصل صورت حال کو برقرار رکھنا چاہتی ہے اور ان کی یہ تجویز قابل قبول نہیں ہے۔

 

۔ چین کے ذریعے آرٹیکل 370 کی تنسیخ کو غیر قانونی قرار دینے پر ہندوستان کا سخت ردعمل، کہا بیجنگ کو دوسروں کے اندرونی معاملات میں دخل دینے کا کوئی حق نہیں

۔ چین کے ہی حوالے سے روزنامہ ہندوستان ٹائمس کی ایک خبر کے مطابق، حکومت ہند نے چین کے اس بیان کو سختی سے مسترد کردیا ہے کہ جموں و کشمیر کے خصوصی درجے کی تنسیخ غیر قانونی اور بے جواز ہے۔ ہندوستانی وارت خارجہ کے ترجمان انوراگ سری واستو نے اس بیان پر سخت موقف اپناتے ہوئے کہاکہ چین کو دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں دخل دینے کا کوئی حق نہیں ہے اور وہ مستقبل میں اس طرح کی بیان بازی سے احتراز کرے۔اخبار آگے لکھتا ہے کہ پچھلے سال سابقہ ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی تنسیخ کے سلسلے میں حکومت ہند کے فیصلے پر بیجنگ نے سخت ردعمل ظاہر کیا تھا کیوں کہ اس کا خیال تھا کہ اس سے لداخ کے خطے پر اس کا دعویٰ متاثر ہوسکتا ہے۔ بدھ کے روز یہ  نئی صورت حال،  لداخ میں دونوں ممالک کے درمیان طویل تعطل کے پس منظر میں سامنے آئی ہے جس کی وجہ سے باہمی تعلقات میں مزید پیدا ہوئی ہے۔ ہندوستان نے چین پر کا الزام لگایا ہے کہ وہ ایل اے سی پر زیر تعطل مقامات سے اپنی فوجوں کو پیچھے ہٹانے کا وعدہ پورا نہیں کررہا ہے۔ اس کے ساتھ اس نے یہ بھی کہا ہے کہ بیجنگ فوجوں کو پیچھے ہٹانے اور کشیدگی کم کرنے کے لئے سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔ اسی خبر میں اخبار نے پاکستان کے نئے سیاسی نقشے کے اجراء کی طرف بھی توجہ دلائی ہے جس میں اس نے تمام جموں و کشمیر اور  لداخ نیز گجرات کے کچھ حصوں پر اپنا دعویٰ جتایا ہے جس پر ہندوستان نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے  اس کو انتہائی لغو سیاسی اقدام سے تعبیر کیا ہے۔

 

۔ امریکی وزیر صحت کے دورۂ تائیوان کے اعلان پر چین برہم

۔ روزنامہ ہندو کی ایک خبر کے مطابق، امریکہ نے اپنے وزیر صحت و انسانی خدمات الیکس آذر کے دورۂ تائیوان کا اعلان کیا ہے جو 1979 میں واشنگٹن اور تے پے ای کے درمیان سفارتی تعلقات کے خاتمے کے بعد کسی اعلیٰ اختیاراتی رہنما کا پہلا دورہ ہوگا۔ بیجنگ نے اس اعلان پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس دورے کو امن و استحکام کے لئے ایک خطرہ قرار دیا ہے۔ اخبار مزید رقم طراز ہے کہ  واشنگٹن تائیوان کے لئے اسلحہ کا ایک بڑا فراہم کار ہے لیکن وہ ماضی میں اس کے ساتھ اپنے سرکاری رابطوں کے قیام میں بے حد محتاط رہا ہے۔ دوسری جانب بیجنگ حکومت تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتی ہے اور اس کا کہنا ہے ایک دن وہ اس پر قبضہ کرلے گا ا اس کے علاوہ کسی ملک کے ذریعے اس کی تسلیم دہی یا اس کے ساتھ رابطوں کی کوشش پر برہم بھی ہوتا ہے۔ اس بار بھی چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بن  نےاس دورے کی مخالفت کرتے ہوئے اس کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ واضح ہو کہ اس موقعے پر امریکی وزیر، تائیوان کے صدرٹسائی انگ وین  سے ملاقات کریں گے۔

 

۔ بیروت دھماکہ: مرنے والوں کی تعداد ہوئی 100 سے زیادہ، 4 ہزار سے زائد زخمی، عالمی رہنماؤں کا اظہار یکجہتی

۔ لبنان کی حکومت نے دارالحکومت بیروت کی بندرگاہ پر منگل کے روز دھماکے کے بعد دو ہفتوں کے لیے ہنگامی صورت حال نافذ کرتے ہوئے سہ روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اس حوالے سے روزنامہ راشٹریہ سہارا لکھتا ہے کہ صدر مشیل عون نے صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے کابینہ کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کیا ہے۔  ریڈ کراس تنظیم کے مطابق، دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 100 سے زیادہ ہوگئی ہے جب کہ چار ہزار سے زیادہ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے اور مزید زخمیوں کی تلاش  جاری ہے۔دھماکے کی وجہ سے بندرگاہ اور اس کے نواح میں املاک کو شدید نقصان پہونچا ہے، یہاں تک کہ کئی عمارتیں ملبے میں تبدیل ہوگئی ہیں۔دھماکے کی وجوہ  کاان تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ بندرگاہ کے ویئر ہاؤس میں پچھلے چھ سال سے جو دو ہزار 750 ٹن امونیم نائٹریٹ ذخیرہ تھا اس میں دھماکہ ہوا ہے۔اسی اخبار کی ایک اور خبر کے مطابق، دنیا کے لگ بھگ تمام رہنماؤں نے لبنان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس کو ہر ممکن مدد کی یقن دہانی کرائی ہے۔ ان میں امریکی صدر، ڈونل ٹرمپ، اسرائیلی وزیر اعظم، بنجامن نتین یاہو، فرانسیسی صدر ایمینوئل میکرون، برطانوی وزیر اعظم، بورس جانسن، کیناڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو اور ایران کے صدر حسن روحانی شامل ہیں ۔اخبار کے مطابق،اسی دوران عالمی صحت تنظیم نے لبنان میں 500 سے زائد زخمیوں کے علاج و معالجے کے لئے امداد بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

 

۔ کراچی ریلی میں دھماکہ، کم از کم 40 افراد زخمی

۔ روزنامہ ہندوستان ٹائمس نے پاکستانی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے خبر دی ہے کہ بدھ کے روز کراچی میں سخت گیر جماعت اسلامی کی ایک ریلی کے دوران دھماکہ ہوا جس میں کم از کم 40 افراد زخمی ہوئے ہیں۔جیو نیوز کے مطابق، یہ دھماکہ ایک پٹاخے سے کیا گیا مگر ڈان کی ویب سائٹ پر ایسٹ سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس کے حوالے سے خبر دی گئی ہے کہ موٹر سائیکل پر سوارکچھ نامعلوم افراد نے آر جی ڈی ون گرینیڈ ریلی پر پھینکا اور فرار ہوگئے۔اخبار آگے لکھتا ہے کہ ممنوعہ سندھو سیش ریوولیوشنری آرمی نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

 

۔ افغانستان میں فضائی حملہ: چار جنگجو ہلاک دو زخمی

۔ ‘‘افغانستان میں فضائی حملہ: چار جنگجو ہلاک دو زخمی’’ یہ سرخی ہے روزنامہ راشٹریہ سہارا کی۔ خبر میں مطلع کیا گیا ہے کہ  یہ حملہ شمالی صوبے فریاب کے ضلع دولت آباد میں طالبان عسکریت پسندوں کے ٹھکانے پر کیا گیا۔ فوج کے ترجمان محمد حنیف رضائی نے بتایا ہے کہ منگل کے روز طالبان عسکریت پسندوں کا ایک گروہ دولت آباد ضلع میں افغان فوج کی چوکیوں پر حملے کے لئے اکٹھا ہوا تھا لیکن فضائیہ کے جنگی طیاروں نے ان کی کوشش کو ناکام بنادیا۔ اس حملے کے دوران مرنے والوں میں  طالبان کا مقامی کمانڈر مولوی شفیع بھی مارا گیا ہے۔