07.08.2020

اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں چین ،ایک بار پھر مسئلہ کشمیر پر بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے میں رہا  ناکام، ہندوستان نے چین کی پیش قدمی کو سختی سے کیا مسترد

ہندوستان نے چین کی اس پیش قدمی کو سختی سے مسترد کردیا ہے جس کے تحت اس نے ایک روز قبل  بند کمرے میں کشمیر کا معاملہ اٹھانے کے لئےاقوام متحدہ سلامتی کونسل پر زور دیا تھا۔ آج ملک کے تمام اخبارات نے اس خبر کو نمایاں انداز میں شائع کیا ہے۔ روزنامہ ہندو نے ہندوستانی وزارت خارجہ کے بیان کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ اس کے ساتھ ہی ہندوستان نے زور دے کر کہا کہ کشمیر اس کا اندرونی معاملہ ہے۔ بیان کے مطابق، ماضی میں چین، سلامتی کونسل میں یہ معاملہ اٹھانے کی کوششیں کرچکا ہے اور اس بار بھی اس کو بین الاقوامی برادری کی جانب سے بہت معمولی حمایت ملی ہے۔  خیال رہے کہ چین نے یہ حالیہ قدم، جموں و کشمیر سے متعلق آرٹیکل 370 کی تنسیخ کا ایک سال مکمل ہونے کے موقعے پر اٹھایا ہے اور  معروف سفارت کاروں نے ساؤتھ بلاک پر زور دیا ہے کہ  سلامتی کونسل کے ایجنڈے سے کشمیر کا معاملہ ہٹانے لئے مہم شروع کی جائے۔ واضح ہو اس سے قبل چین نے، پچھلے سال 16 اگست کو اسی طرح کی تحریک اس وقت شروع کی تھی جب اس نے سلامتی کونسل میں ہند۔پاکستان کا سوال اٹھایا تھا۔ اس وقت بھی اس معاملے پر توجہ نہیں دی گئی تھی ۔ اس  بار کی میٹنگ میں بھی اس مسئلے پر عام اتفاق رائے نہیں بن سکا ۔ اس کے علاوہ چین نے ایسی ہی ایک کوشش اس سال جنوری میں کی بھی تھی لیکن وہ ارکان کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا۔ اخبار مزید رقم طراز ہے کہ بدھ کے روز اس صورت حال کے بعد اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندے ٹی ایس تری مورتی نے اس تحریک کو پاکستان کی کوشش قرار دیا ہے اور بتایا کہ اس اجلاس میں تمام ممالک نے زور دے کر کہا کہ جموں و کشمیر باہمی معاملہ ہے اور اس پر وقت اور توجہ صرف کی ضرورت نہیں ہے۔

امریکی کانگریس ارکان نے چین کی جارحیت کے خلاف، ہندوستانی موقف  کی حمایت کا کیا اظہار

دو بااثر امریکی کانگریس ارکان نے ہندوستان کے خلاف چین کی جارحیت پر ہندوستانی موقف کی حمایت کی ہے۔ اس  حوالے سے روزنامہ انڈین ایکسپریس نے خبر دی ہے کہ ان میں سے ایک ڈیموکریٹ رکن ایلیٹ اینجل، ہاؤس فارین افیرس کمیٹی کے سربراہ ہیں جبکہ دوسرے رکن مائیکل ٹی میک کول، پینل کے رپبلیکن رینکنگ ممبر ہیں۔ ہندوستانی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے نام ایک خط میں ان ارکان نے خطے میں سلامتی سے متعلق ہندوستان کی تشویش  کو تسلیم کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ان تشویشات کو دور کرنے کے لئے ہندوستان کے ساتھ کام کرنے کے خواہش مند ہیں اور یہ خط ہند۔امریکہ  کے درمیان  جمہوری اقدار اور آزادی کے مشترکہ عزم  کی حمایت میں تحریر کررہے ہیں۔ 5؍ اگست کو لکھے گئے اس خط کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان یہ قریبی تعلقات اس وقت اوربھی اہمیت اختیار کرگئے ہیں  جب ہندوستان کو اس کی اپنی سرحد پر چین کی جانب سے جارحیت کا سامنا ہے اور جو ہند۔ بحرالکاہل  خطے میں بیجنگ حکومت کی غیر قانونی اور علاقائی جنگجویانہ جارحیت کے مسلسل پیٹرن کا حصہ ہے۔ اخبار اس خط کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ امریکہ، اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لئے ہندوستان کی کوششوں کی حمایت کرتا رہے گا۔

جادھو کی سزائے موت پر نظر ثانی کے سلسلے میں پاکستان تمام بنیادی امور کو حل کرے: نئی دہلی

اخبار ہندوستان ٹائمس کے مطابق، ہندوستان نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ  جادھو کے سلسلے میں غیر مشروط قونصل رسائی سمیت متعدد بنیادی امور کر حل کرے تاکہ بحریہ کے سابق افسر کلبھوشن جادھو اپنی سزائے موت کے خلاف نظرثانی کی عرضداشت داخل کرسکیں۔ اخبار ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ سری واستو کی ہفتہ وار اخباری کانفرنس کے حوالے سے لکھتا ہے کہ ابھی تک نئی دہلی حکومت کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم نامے کے بارے میں پاکستان سے کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سزا پر نظر ثانی کے لئے وکیل مقرر کرنے کے سلسلے میں ہندوستان کو مطلع کیا جائے۔ خیال رہے کہ اس ہفتے،اسلام آباد ہائی کورٹ کی دو رکنی بنچ نے حکومت پاکستا ن کو ہدایت دی تھی کہ وہ،  ویانا کنونشن کے تحت کونسلر ریلیشنز سے متعلق حاصل حقوق اور بین الاقوامی عدالت کے 2019 کے حکم سے جادھو کو آگاہ کرے جس میں سزائے موت پر روک لگائی گئی ہے اور جس پر نظر ثانی کے لئے وہ عرضداشت داخل کرسکتے ہیں۔ اخبار نے یاددہانی کرائی ہے کہ پچھلے ماہ ہندوستان نے کہا تھا کہ پاکستان نے جادھو کے لئے تمام قانونی راستے بند کردیئے ہیں۔واضح ہو کہ کلبھوشن جادھو کو پاکستان کے بقول بلوچستان سے مارچ 2016 میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر جاسوسی کا الزام عائدکیا گیا تھا۔ نئی دہلی نے پاکستان کے ان تمام الزامات کو مسترد کردیا تھا اور کہا تھا کہ ان کو ایران میں چابہار بندرگاہ سے اغوا کیا گیا تھا۔

سری لنکا میں  وزیر اعظم مہندا راج پکسے کی پار ٹی، ایس ایل پی پی کو زبردست فتح

آل انڈیا ریڈیو نے سری لنکا میں پارلیمانی انتخابات کے حوالے سے خبر دی ہے کہ وزیر اعظم مہندا راج پکسے کی زیر قیادت، برسراقتدار ایس ایل پی پی یا پیوپلز پارٹی کو زبردست فتح حاصل ہوئی ہے۔ ان انتخابات میں ایس ایل پی پی کو 225 رکنی ایوان میں 145 نشستیں حاصل ہوئی ہیں جو تقریباً دو تہائی اکثریت کے برابر ہیں۔ سابق وزیر  سجیت  پریما داسا کی زیر قیادت ان کی حریف ایس جے بی کو 54 سیٹیں ہی ملی ہیں۔ ان کے برخلاف، سابق وزیر اعظم رانیل وکرما سنگے کی زیر قیادت ملک کی قدیم ترین پارٹی یو این پی کو صرف ایک سیٹ پر ہی قناعت کرنی پڑی ہے۔ ریڈیو نے آگے خبر دی ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے سری لنکا کے اپنے ہم منصب کو اس شاندار جیت پر مبارک باد دی ہے۔بعد از آں، مہندا راج پکسے نے ایک ٹوئیٹ میں کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی تعاون میں مزید اضافے کے لئے وہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ مل کر کام کرنے کے خواہشمند ہیں۔

چین میں کناڈا کے تیسرے شہری کو سنائی گئی سزائے موت

چین کی ایک عدالت نے  کناڈا کے ایک شہری کو چین میں منشیات کی مبینہ تیاری کے الزام میں سزائے موت دی ہے کیوں کہ اس سے قبل 2018 میں کناڈا نے چین کی ایک کمپنی کے اعلیٰ عہدیدار کو گرفتار کیا تھا۔ اس حوالے سے روزنامہ ہندو لکھتا ہے کہ کناڈا کا یہ تیسرا شہری ہے جس کو چین میں سزائے موت سنائی گئی ہے۔ اس کینیڈیائی شہری شو وے ہانگ  کے خلاف سزا کا نوٹس عدالت کی ویب سائٹ پر مشتہر کیا گیا ہے مگر اس میں منشیات کی قسم یا دیگر جرائم کی تفصیل نہیں بتائی گئی ہے۔ عدالت نے اس شہری کی املاک کی قرقی کا حکم بھی جاری کیا ہے۔اخبار مزید رقم طراز ہے اسی مقدمے میں منشیات کی تیاری کے الزام میں ہی ایک چینی شہری کو بھی عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ خیال رہے کہ چین اور کناڈا کے درمیان تعلقات میں اس وقت تلخی پیدا ہو گئی تھی جب کناڈا نے ہوائی ٹیکنالوجیز کے چیف فنانشیل افسر مینگ وانزھو   کو 2018 میں امریکہ کے ایک وارنٹ کے تحت گرفتار کیا تھا۔

ہیروشیما میں منائی گئی دنیا کے پہلے ایٹمی حملے کی 75 ویں سالگرہ

ہیروشیما میں جمعرات کے روز دنیا کی پہلی اٹیمی بمباری کی 75 ویں سالگرہ منائی گئی۔ اخبار ہندوستان ٹائمس کی خبر کے مطابق،  کورونا وبا کی وجہ سے محدود پیمانے پر تقریبات منائی گئیں اور اس موقع پرشہر کے میئر نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ مفاد پر مبنی قوم پرستی کو مسترد کریں اور تمام خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے متحد ہوجائیں۔اخبار مزید رقم طراز ہے حالانکہ ہزاروں لوگ جاپان کے اس شہر ہیروشیما کے پیس پارک پہونچے تھے مگر اس بمباری سے سے بچے ہوئے لوگوں اور ان کے لواحقین کو ہی داخلے کی اجازت دی گئی۔ یاد رہے کہ 6 اگست 1945کو امریکی طیارے نےاس شہر پر ایٹمی بم گرایا گیا تھا جس میں تقریباً سب کچھ تباہ ہوگیا تھا۔ اسی حوالے سے روزنامہ راشٹریہ سہارا لکھتا ہے کہ ترکی کے صدر طیب اردگان نے دنیا کے پہلے ایٹمی حملے کے 75 سال مکمل ہونے کے موقع پر کہا ہے کہ دنیا کو ایٹم بم کے دوبارہ استعمال کی غلطی نہیں کرنی چاہیئے اور جو تباہی جاپان کے عوام نے دیکھی ہے اس غلطی کو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔

سعودی عرب میں  نیوکلیائی اسلحہ جات کی تیاری کا امکان: امریکی خفیہ ادارے

امریکہ کے خفیہ  ادارے اس بات کی جانچ کررہے ہیں کہ آیا سعودی عرب چین کے ساتھ مل کر نیوکلیائی ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اخبار ہندو کے مطابق، خفیہ اداروں نے ایک تجزیاتی رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق، چین اور سعودی عرب خفیہ طریقے سے خام یورینیم کو ایسی شکل دینے کی کوشش کررہے ہیں جس کو افزودگی کے بعد اسلحہ جاتی ایندھن میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔اخبار لکھتا ہے کہ اس تجزیئے کی وجہ سے تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔