پاکستانی فوج کی تنقید کرنے والوں کا محاصرہ

حال ہی میں ایک صحافی اور انسانی حقوق کے کاز کے لئے کام کرنے والے ایک ایکٹی ویسٹ کے اغوا نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی پامالی کس بڑے پیمانے پر ہو رہی ہے ۔ پاکستان کے اخبارات اور آزاد ٹی وی چینل جس دباؤ کے تحت کام کر رہے ہیں اس ماحول میں اگر چہ بہت ساری حقیقتیں سامنے نہیں آ پاتیں پھر بھی کچھ لوگ اپنی جان اور اپنے خاندان کے مستقبل کی پرواہ کئے بغیر زباں بندی کے جبر کو توڑ کر اپنے دل کی بات کہنے سے نہیں چوکتے۔ چنانچہ حال ہی میں ایک بےباک صحافی مطیع اللہ جان کا دن دہاڑے جس طور پر اغوا ہوا اس کے بعد کم از کم سوشل میڈیا پر احتجاج کا جو طوفان سا نظرآیا اس سے گھبرا کر ایجنسی والوں نے بارہ گھنٹے کے اندر ہی اس صحافی کو رہا کر دیا۔ پاکستان میں پریس اور میڈیا پر جو مسلسل مظالم ڈھائے جا رہے ہیں، اس  کی ایک جھلک نیو یارک ٹائمز میں چھپے ہوئے ماریا ابی حبیب کے اس مضمون سے بھی ہوتی ہے جس میں انہوں نے ایک واقعہ کا حوالہ دیا ہے ۔ در اصل گذشتہ سال ایک موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ پاکستان دنیا کے ان ملکوں میں سے ایک ہے جہاں پریس کو سب سے زیادہ آزادی حاصل ہے ۔ ا  ن کا یہ جملہ ادا ہوتے ہی صحافیوں نے بیک آواز یہ کہا کہ پورے پاکستان میں رپورٹروں کو ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے اور اب تو حالت انتہائی نا گفتہ بہ ہے۔ عمران خان کے دو سال کے دور اقتدار میں تو سنسر شپ بڑھتی ہی جا رہی ہے ۔ فوج اور سیکورٹی فورسز نے میڈیا کو ڈرانے دھمکانے کا ایسا ظالمانہ طریقہ اختیار کیاہے کہ فوجی حکومت کے سوا کبھی ایسی سختی کا مشاہدہ نہیں کیا گیا ۔سختی اور بے رحمی کا یہ عالم ہے کہ حکومت یا فوج کی معمولی سی تنقید کرنے پر بھی اشتہارات کے فنڈ روک لئے جاتے ہیں اور پچھلے بل بھی نہیں چکائے جاتے   اور اس طرح لاکھوں ڈالر کی رقم باقی رہ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ سیکورٹی فورسز  کی طرف سے اخبارات اور چینلوں کے مالکان اور ایڈیٹر پر دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ وہ ناپسندیدہ رپورٹروں کو بر طرف کریں۔ زیادتی اور جبر کی دو بد ترین مثالیں حال ہی میں سامنے آئیں۔ جولائی کے اواخر میں ایک مشہور صحافی کو سیکورٹی افسران نے غائب کیا اور گذشتہ نومبر میں ایک انسانی حقوق کا ایکٹی ویسٹ گمشدہ لوگوں میں شامل ہوا۔ پاکستانی فوج کی خفیہ ایجنسی نے یہ اعتراف کیا کہ اسی نے اس ایکٹی ویسٹ کو گرفتار کیا ہے اور ایک خفیہ عدالت میں اس کا مقدمہ چلایا جائے گا ۔ اس کا کوئی قصور نہیں بتایا گیا۔ در اصل گمشدگی   کے واقعات کو دہشت پھیلانے کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے ۔ اس کا مقصد صرف کسی صحافی یا ایکٹی ویسٹ کو خاموش کر نا نہیں بلکہ بڑے پیمانے پر پوری سوسائٹی کو خوفزدہ کرنے کا ہے۔ یہ خیال ظاہر کیا ہے عمر وارائچ نے جو ایمنسٹی انٹر نیشنل کے جنوبی ایشیا کے سر براہ ہیں۔ مسٹروارائچ نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستانی فوج کا خفیہ محکمہ یہ سب کچھ بے روک ٹوک کر رہا ہے اور سیویلین سیاست داں بے بسی سے سب کچھ دیکھ رہے ہیں ۔ افسوس ظاہر کر رہے ہیں اور چھان بین کرانے کا دعویٰ کر کے خاموش رہ جاتے ہیں۔ چونکہ عمران خان کی حکومت کچھ کر نہیں پا رہی ہے اس لئے اس کی ساکھ بھی دن بہ دن گرتی جا رہی ہے۔ اکیاون سالہ مطیع اللہ جان کو اس لئے غائب کیا گیا تھا کہ وہ عمران حکومت ، عدلیہ اور فوج کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے تھے ۔ انہیں تو اس لئے ایجنسیوں کو رہا کرنا پڑا کہ سیکورٹی کیمرہ کی تصویروں سے ثابت ہو گیا کہ کچھ لوگ انسداد دہشت گردی محکمہ کی پولیس وردی میں تھے اور کچھ لوگ سادے لباس میں ۔ پاکستان کی سیکورٹی فورسز نے اس اغوا اور رہائی کے بارے میں کوئی بیان نہیں دیا ۔ در اصل پاکستان میں ایک طرح سے یہ قانون بن گیا ہے کہ سرکار کے اشارے پر جو اغوا کی واردات ہوتی ہے وہ جائز ہے ۔ البتہ اغوا ہونے والوں کے خاندان کو یہ بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا جاتا کہ وہ کیوں غائب کیا گیا اور کہاں لے جایا گیا؟ اکثر تو اس کے گھر والے یہ سوچتے ہی رہ جاتے ہیں کہ ان کا عزیز کہاں لاپتہ ہو گیا۔ کیا وہ کسی حادثے کا شکار ہوا یا سیکورٹی فورسز نے گرفتار کیا یا مار ڈالا؟

میڈیا کے حلقے میں اس بات پر تقریباً اتفاق رائے ہے کہ عمران خان کے زمانے میں میڈیا اور صحافیوں کی جو درگت بنی ہے اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ رپورٹرزوداوٹ بارڈرکے مطابق عمران خان کے اقتدار میں آنے سے قبل جن180 ملکوں میں پریس کی آزادی کی صورت حال بے حد خراب ہے ان میں پاکستان 139ویں نمبر پر تھا لیکن اب2020میں یعنی کم و بیش دو سال کے بعد اب وہ 145 ویں نمبر پر ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ کھلم کھلا ڈکٹیٹر شپ کا اعلان کرنے کی بجائے فوجی جنرلوں نے اپنی اتحادی حکومت کی مدد سے بالواسطہ طور  پر اسی طرز کا نظام رائج کر دیا ہے ۔

2018 کے عام انتخابات کے دوران فوج پر یہ الزام لگایا گیا تھا کہ اس نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی پارٹی کو اقتدار سے دور رکھنے کے لئےعمران خان اور ان کی پارٹی سے ساز باز کی تھی لیکن نواز شریف نے فوج کے پر کترنے کی کوشش کی تھی ۔

اسی الزام کی وجہ سے اخباروں کی خبر لی جانے لگی۔ یہاں تک کہ سیکورٹی فورسز نے اخبار ڈان کی تقسیم کار ی میں رخنے پیدا کرنے کے لئے پورے پاکستان میں ایک جال سا بچھا دیا۔

بہر حال مطیع اللہ جان کے گھر والوں کو تو سیکورٹی کیمرے کی تصویروں سے یہ پتہ چل گیا کہ انہیں کس نے اغوا کیا تھا لیکن ہیومن رائٹس ایکٹی وسٹ 56سالہ ادریس خٹک جب گذشتہ سال نومبر میں اغوا کئے گئے تو ایسا کوئی فوٹیج نہیں تھا جس سے ان کے گھر والوں کو کچھ پتہ چلتا۔ البتہ ان کی 21سالہ بیٹی تالیہ خٹک نے جو اپنی یونیور سٹی کی طرف سے ایک ٹرپ پر گئی ہوئی تھی بتایا کہ اس کے والد نے کہا تھا کہ وہ ہر روز اس کی خیریت جاننے کے لئے کئی بار فون کریں گے لیکن بیٹی کے مطابق آخری بار جب اس نے اپنے والد سے بات کی تووہ گھبرائے ہوئے سے اور مایوس لگے۔ انہوں نے کہا کہ دو تین روز بعد بات کروں گا اور پھر فون فوراً رکھ دیا۔تالیہ  نے ایک انٹر ویو میں بتایا کہ آٹھ مہینے گزر گئے لیکن ان کا فون نہیں آیا۔ اس کے کچھ ہی دن بعد کورونا وائرس کا ماحول آ گیا ، چونکہ وہ ذیابطیس کے مریض بھی ہیں اس لئے گھر کے لوگ گھبرائے ہوئے ہیں۔ وہ وکالت کے پیشے سے جڑے ہوئے تھے اور ہیومن رائٹس واچ اور ایمنٹسی انٹر نیشنل جیسی تنظیموں کے لئے وکالت کرتے تھے ۔ وہ زیادہ تر ایسے کیس لڑتے تھے جس میں حکومت کے کسی ادارے کی طرف سے کسی کو اغوا کیا جاتا تھا لیکن ان کی بیٹی کے مطابق اب انہوں نے رٹائرمنٹ لے لیا تھا اور غیر متنازعہ زندگی گزار رہے تھے ۔ فوجی خفیہ ایجنسی نے یہ تو تسلیم کر لیاکہ اس نے انہیں گرفتارکیا ہے لیکن ابھی تک ان کے گھر کے لوگوں سے ان کی نہ کوئی بات ہوئی اور نہ ان کی صحت کے بارے میں کچھ بتایا گیا۔

بیشتر صحافی اور میڈیا گروپ انتہائی خوف کے عالم میں سانس لے رہے ہیں۔ بڑے بڑے صحافی کی پگڑی اچھال دی جاتی ہے ۔ انہیں ملک کا غدار اور پاکستان مخالف قرار دیا جاتا ہے ۔ مالکان اور ایڈیٹروں پر دباو ڈال کر ایماندار رپورٹروں اور صحافیوں کو برطرف کرا دیا جاتا ہے ۔ جیو ٹی وی کے ایک سابق نیوز اینکر طلعت حسین کا کہنا ہے کہ اپنے 31سالہ کریئر میں انہوں نے ایسا پہلی بار دیکھا کہ میڈیا کی صنعت کو اسٹیٹ نے گویا اپنی تحویل میں لے لیا ۔ طلعت حسین نے یہ بھی بتایا کہ عمران خان  کے اقتدار میں آتے ہی فوج کے دباؤ میں ان کی کمپنی نے انہیں بر طرف کر دیا تھا۔ وہ بالکل بیروزگار ہیں۔ کسی اخبار یا چینل میں انہیں کام نہیں ملتا۔ ان کے مطابق اب تو سانس لینا بھی دو بھر ہو گیا ہے ۔’’نئے پاکستان ‘‘ کے نام نہاد معمار عمران خان کے پاکستان میں یہ ہے پریس کی آزادی کی صورت حال !!