10.08.2020

افغانستان کے لویا جرگے کی جانب سے طالبان قیدیوں کی رہائی کی منظوری

افغانستان میں ہزاروں معزز شہریوں کے ’’لویا جرگے‘‘ نے کل تقریباً چار سو متنازعہ طالبان قیدیوں کی رہائی کی منظوری دے دی ۔ اس طرح افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کا راستہ صاف ہو گیا ہے ۔ اس خبر کو روزنامہ ہند ونے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے ۔ اخبار تحریر کرتا ہے کہ ان قیدیوں کی رہائی کا معاملہ فریقین کےدرمیان امن مذاکرات کے راستہ میں سب سے بڑا روڑہ تھا۔ تین روزہ جرگے کے بعد جرگے کی ایک رکن عاطفہ طیب نے اعلان کیا کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات شروع کرنے کے راستہ میں ان قیدیوں کی رہائی سب سے بڑی رکاوٹ تھی اس لئے ان قیدیوں کی رہائی کے لئے جرگے نے منظوری دے دی ہے ۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی  کا حوالہ دیتے ہوئے اخبار لکھتا ہے کہ ان چار سو قیدیوں میں سے بہت سے قیدی ایسے ہیں جن پر سنگین جرائم کا الزام ہے ۔ ان میں سے تقریباً 150 قیدی ایسے ہیں جو سیکڑوں افغان نیز غیر ملکی شہریوں کی ہلاکت کے لئے ذمہ دار ہیں جس کے باعث انہیں سزائے موت تک مل چکی ہے۔ جرگے نے ایک قرار داد منظور کر کے حکومت سے اپیل کی کہ وہ عوام کو یقین دلائے کہ ان قیدیوں کی رہائی کے بعد ان کی حرکتوں پر نظر رکھی جائے گی اور انہیں دوبارہ ہتھیار اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس کے علاوہ ان  میں جو غیر ملکی عسکریت پسند ہیں انہیں ان کے ملک واپس بھیج دیا جائے گا۔ قرار داد میں فوری طور پر جنگ بندی کا بھی مطالبہ کیا گیا ۔ ان قیدیوں میں پانچ قیدی ایسے ہیں جو 2018 میں کابل میں انٹر کانٹیٹل ہوٹل پر ہوئے حملے میں ملوث تھے جس میں چودہ غیر ملکی شہری سمیت چالیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ایک قیدی ایسا بھی ہے جو مئی 2017میں کابل میں جرمنی کے سفارتخانے کے نزدیک ٹرک بم دھماکہ میں ملوث تھا۔ افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے جرگے کو بتایا کہ ان کے پاس اس طرح کی خبر ہے کہ 400طالبان قیدیوں کی رہائی کے بعد دو تین روز کے اندر بین۔افغان مذاکرات شروع ہو جائیں گے۔

بیروت میں تازہ مظاہروں کے درمیان دو وزراء مستعفیٰ،عطیہ دینے والے ملکوں نے 298 ملین ڈالر دینے کا کیا وعدہ

لبنا ن کے دارالحکومت بیروت میں پچھلے ہفتے ہوئے زبر دست دھماکے کے بعد وہاں حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں۔ مظاہروں کے کل دوسرے روز لوگوں نے پارلیمنٹ کی جانب جانے والے راستے کو بند کر کے پتھر بازی شروع کر دی۔مظاہرین کو روکنےکے لئے پولیس کو آنسو گیس کا استعمال کرنا پڑا۔ اس خبر کو روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے نمایاں طور پر اپنے کالموں میں جگہ دی ہے ۔ اخبار تحریر کرتا ہے کہ مظاہرین نے رکاوٹ توڑ کر جیسے ہی پارلیمنٹ اسکوائر میں داخل ہونے کی کوشش کی  اسکوائر کے دروازے پر آگ کے شعلے بھڑکنے لگے ۔مظاہرین ٹرانسپورٹ اور ہاؤسنگ وزارت کے دفتروں میں بھی  داخل ہو گئے اور وہاں توڑ پھوڑ کی۔ منگل کو ہوئے دھماکہ میں تقریباً 160 افراد ہلاک اورچھ ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ اس سے قبل سنیچر کے روز مظاہرین وزارت خارجہ کی خالی عمارت میں داخل ہو کر اسے اپنی تحریک کا صدر دفتر قرار دیئے  جانے کا اعلان کیا تھا۔دوسرے مظاہرین وزارت خزانہ اور وزارت توانائی میں داخل ہو کر وہاں توڑ پھوڑ کی اور جب وہاں سے نکلے تو ان کے ہاتھوں میں کچھ کاغذات تھے اور ان کا کہنا تھا کہ اب وہ بدعنوانیوں کا پردہ فاش کریں گے ۔بہت سے مظاہرین کا کہنا تھا کہ اب ان کے پاس صرف ان کے مکانات بچے ہیں اور  وہ بھی اب محفوظ نہیں ہیں۔انہوں نے حالیہ دھماکے سمیت تمام برائیوں کے لئے حکومت کے ناکارہ پن اور سیاسی اختلافات کو مورد الزام ٹھہرایا ۔ سنیچر کے روز ٹیلی ویژن پر عوام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم حسن دیاب نے کہا کہ جلد انتخابات ہی مسائل کا حل ہیں۔ انہوں نے تمام سیاسی پارٹیوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اختلافات دور کر کے متحد ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے عہدے  پر صرف مزید دو ماہ کے لئے بنے رہنے کے لئے تیار ہیں تاکہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر کام کرنے کے لئے سیاستدانوں کو وقت مل سکے۔ریڈ کراس کے مطابق حالیہ مظاہروں کے دوران اب تک 238افراد زخمی ہو چکے ہیں۔اسی دوران ترکی کے نائب صدر اور وزیر خارجہ نے صدر عون سے ملاقات کی اور کہا کہ ان کا ملک بیروت کی بندرگاہ کو دوبارہ تعمیر کرنے کے لئے تیار ہے ۔اسی دوران اصلاحات کے وعدوں کو پورا نہ کرنے کے خلاف دو وزیروں نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیاہے ۔ یہ وزیر ماحولیات ڈیمیانوس کتراور وزیر اطلاعات عبد الصمد ہیں۔ ادھر فرانس کے صدر میکرون کی قیادت میں بہت سے ملکوں نے لبنان کو امداد کے طور پر 298ملین ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے۔

ہانگ کانگ میں ایک بڑے میڈیا ہاؤس کے مالک جمی لائی قومی سلامتی کے نئے قانون کے تحت گرفتار

ہانگ کانگ میں ایک بڑے میڈیا ہاؤس کے مالک جمی لائی کو نئے قومی سلامتی قانون کے تحت گرفتار کر لیا گیا ہے۔ان پر الزام ہے کہ انہوں نے غیر ملکی طاقتوں کے ساتھ مل کر ہانگ کانگ کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔اس خبر کو روزنامہ انڈین ایکسپریس نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اخبار تحریر کرتا ہے کہ جمی لائی ہانگ کانگ میں جمہوریت کے سب سے بڑے حامیوں میں سے ایک ہیں جو بیجنگ کی ہمیشہ تنقید کرتے رہتے ہیں۔ان کی گرفتاری سے ہانگ کانگ میں میڈیا کی آزادی پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ 1997 میں جب برطانیہ نے ہانگ کانگ کو چین کے حوالے کیا تھا تو بیجنگ نے وعدہ کیا تھا کہ وہاں اظہار رائے کی تمام آزادی ہوگی۔ ہانگ کانگ کے ایک سینئر صحافی اسٹیون بٹلرنے کہا کہ ہمیں خدشہ ہے کہ جمہوریت نواز آواز کو دبانے  اور اظہار رائے کی آزادی پر قدغن لگانے کے لئے نئے قانون کا استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے  جناب لائی کی جلد رہائی کا مطالبہ کیا ۔ لائی کی میڈیا کمپنی نیکسٹ ڈیجیٹل کے ایک سینئر ایگزیکیوٹیو نے کہا کہ جناب لائی کو غیر ملکی طاقتوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے ۔ ادھر پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے نئے قانون کی خلاف ورزی کرنے کے لئے سات لوگوں کو گرفتار کیا ہے تا ہم  پولیس نے کسی کا نام نہیں بتایا ،پولیس ذرائع نے بتایا کہ مستقبل میں مزید لوگوں کے گرفتار ہونے کی بھی امید ہے ۔

خلیج تعاون کونسل نے ایران پر اسلحوں کی پابندی میں توسیع کا کیا مطالبہ

چھ عرب ملکوں کی خلیج تعاون کونسل نے ایران پر غیر ملکی اسلحے خریدنے پر پابندی میں توسیع کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے عائد یہ پابندی آئندہ دو مہینوں میں ختم ہونے والی ہے۔اس خبر کو روزنامہ دی ہندو نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے ۔ اخبار تحریر کرتا ہے کہ خلیج تعاون کونسل نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے اس سلسلہ میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ایک خط لکھا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ایران پر لگی اسلحوں کی پابندی میں توسیع کی جائے ۔ اس پابندی کے باعث تہران دوسرے ملکوں سے لڑاکو طیارے،ٹینک اور جنگی جہاز جیسے ہتھیار نہیں خرید سکتا۔ خلیج تعاون کونسل میں بحرین ،کویت ،اومان،قطر،سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ ان ملکوں نے الزام لگایا کہ ایران نے پڑوسی ملکوں میں اپنی مسلح مداخلت بند نہیں کی ہے ۔ کونسل کی قیادت سعودی عرب کرتا ہے جو یمن میں حوثی باغیوں سے بر سر پیکار ہے۔ایران پر اقوام متحدہ اور امریکہ کا الزام ہے کہ وہ ان باغیوں کو ہتھیار سپلائی کرتا ہے حالانکہ تہران نے اس الزام کی برابر تردید کی ہے۔ کونسل نے کہا کہ اس صورت حال کے پیش نظر ایران پر سے اسلحوں کی پابندی اٹھانا مناسب نہیں ہوگا۔ ادھر ایران کے وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے کونسل کے خط کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک غیر ذمہ داران بیان قرار دیا ہے۔ جناب موسوی نے دنیا میں سب سے زیادہ اسلحے خریدنے کے لئے خلیجی ممالک کی مذمت کی۔ قابل ذکر ہے کہ اقوام متحدہ نے  ایران کے ساتھ اس کے نیو کلیائی پروگرام پر کشیدگی کےبعد2010 میں پابندی عائد کر دی تھی۔تا ہم 2015 میں نیو کلیائی پروگرا م پر تہران کے ساتھ جو معاہدہ ہوا اس کے بعد اقوام متحدہ نےاس سال اکتوبر میں پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔

مہندا راج پکشے کی سری لنکا کے نئے وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف برداری 

سری لنکا کے سابق صدر مہندا راج پکشے نے اتوار کے روز ملک کے نئے وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف لے لیا۔حلف برداری کی یہ تقریب ملک کے ایک تاریخی بودھ مندر میں ہوئی۔اس خبر کو روزانامہ ٹائمز آف انڈیا نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے ۔ اخبار تحریر کرتا ہے کہ 74 سالہ سری لنکا پیپلز پارٹی کے لیڈر کو ان کے چھوٹے بھائی اور صدر گوٹ بایا راج پکشے نے کولمبو کے نزدیک کیلانیہ میں مقدس راج مہا وہاریہ میں عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔

مہندا کی قیادت میں سری لنکا پیپلز پارٹی نے 5 اگست کے عام انتخابات میں زبر دست کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی۔ اس جیت کے ساتھ اقتدار پر راج پکشے خاندان کی گرفت کافی مضبوط ہوگئی ہے۔