14.09.2020

 جے شنکر۔وانگ ملاقات کے بعد، ایل اے سی پر جیوں کی توں صورت حال برقرار

وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور ان کے چینی ہم منصب وانگ یی کے درمیان ماسکو میں 10 ستمبر کو ہوئی ملاقات اور  سرحدی کشیدگی دور کرنے کے لئے پانچ نکاتی  حل پر اتفاق رائے کے بعد،مشرقی لداخ میں حقیقی کنٹرول لائن پر ہر قسم کی نقل و حرکت اور سرگرمیاں بند ہوگئی ہیں۔ اپنی خبر میں روزنامہ ہندو ایک سینئر سرکاری اہلکار کے حوالے سےلکھتا ہے کہ پینگانگ جھیل کے شمالی اور جنوبی کناروں پر جہاں گذشتہ چند دنوں سے فوجیوں، گاڑیوں اور اسلحہ جات کی تازہ  نقل و حرکت دیکھنے میں آرہی تھی،جیوں کی توں صورتحال کو برقرار رکھا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ 8 ستمبر کے بعد سے شمالی کنارے پر فنگر ایریا میں چینی فوجیوں کی اضافی تعیناتی بھی نہیں ہوئی ہے۔ سرکاری اہلکار نے یہ بھی بتایا ہے کہ مستقبل کا لائحہ عمل، نئی دہلی کو مطلع کئے جانے والے فیصلے پر منحصر ہوگا۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ  گراؤنڈ کمانڈر، اعتماد سازی کے اقدامات پر غور خوض کے لئے تمام متنازعہ علاقوں میں روزانہ ملاقاتیں کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ، ہندوستان اور چین کےکور کمانڈر سطح کی بات چیت بھی ہوگی جس کے لئے تاریخیں اور ایجندا ابھی طے کیا جانا باقی ہے۔

 امن مذاکرات کے آغاز کے باوجود، افغان فوجوں اور طالبان کے درمیان لڑائی جاری

سنیچر کے روز، دوحہ میں طویل مدت سے متوقع امن مذاکرات کے آغاز کے چند گھنٹے کے بعد ہی طالبان اور افغان فوجوں کے درمیان تصادم ہوا ہے۔ اس حوالے سے روزنامہ انڈین ایکسپریس نے افغان وزارت دفاع کے ترجمان فواد امان کے حوالے سےخبر دی ہے کہ اس وجہ سے 19 سال پرانی شورش کے خاتمے کو درپیش چیلنج میں اضافہ ہوگیا ہے۔ یہ مذاکرات فروری میں امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدے کے فوراً بعد ہی شروع ہونا تھے مگر جنگ سے متاثرہ ملک میں طالبان کی جارحانہ کارروائیوں کی بنا پر، کئی ماہ کی تاخیر سے پچھلے ہفتے کے آخر میں ہی شروع ہو سکے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ بین افغان بات چیت کے بعد توقع کی جارہی تھی کہ طالبان اپنے حملوں میں کمی کردیں گے مگر بدقسمتی سے ان حملوں میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔ اخبار کے مطابق، متعدد ممالک کے نمائندوں نے جنھوں نے امن مذاکرات کے آغازپر بیانات دیئے تھے، طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ بات چیت سے قبل جنگ بندی کا اعلان کریں تاکہ افغانستان میں کئی دہائیوں سے جاری جنگ کا خاتمہ ہوسکے مگر طالبان نے اس سلسلے میں خاموشی اختیارکی ہوئی ہے۔ اخبار،  فواد امان کے حوالے سے مزید رقمطراز ہے کہ  مذاکرات کے آغازسے قبل، سنیچر کو طالبان نے پورے ملک میں سرکاری افواج اور تنصیبات پر 18 حملے کئے ہیں جن سے زبردست جانی نقصان ہوا ہے۔ کپسیا  اور قندوس صوبوں کے حکام نے ان حملوں کی تصدیق کی ہے۔ دوسری جانب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ  شورش پسندوں کے ایک گروپ نے افغان فوجوں کے ایک قافلے پر حملہ کیا ہے جو قندوس میں ایک شاہراہ پر کارروائی انجام دینے کے لئے وہاں پہونچا تھا۔

 

 ترکی نے بحیرۂ روم سے اپنا جہاز واپس بلایا

روزنامہ ہندو کی خبر کے مطابق، ترکی کا موسمیاتی تحقیقی جہاز ارک ریس جنوبی انطالیہ کے کے ساحل پر واپس آگیا ہے ۔ یونان نے سمندر میں قدرتی وسائل سے متعلق جاری کشیدگی کو دور کرنے کی سمت میں اس کو پہلا قدم قرار دیا ہے۔دوسری جانب، ترکی کے وزیر دفاع نے اس اقدام کی اہمیت کو یہ کہتے ہوئے کم کردیا ہے کہ یہ جہاز اپنے معمول کے تحت ساحل پر واپس آیا ہے۔ اس کے برخلاف ترکی کی بحریہ نے اس ماہ کے اوائل میں ایک ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ارک ریس 12 ستمبر تک اس علاقے میں اپنا کام جاری رکھے گا۔ ترکی کے وزیر دفاع نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ جہاز مزید مدت تک کھوج سے متعلق اپنا کام جاری رکھے گا مگر اس ایڈوائزری میں کوئی توسیع جاری نہیں کی گئی تھی۔ واضح ہو کہ ناٹو ارکان۔۔ ترکی اور یونان مشرقی بحیرۂ روم میں  موجود توانائی کے وسائل پر اپنا اپنا حق جتاتے رہیں اور پچھلے ماہ دونوں ممالک کے درمیان اس وقت کشیدگی پیدا ہوگئی تھی جب ترکی نے تیل اور گیس نکالنے کے امکانات کا جائزہ لینے کے لئے ارک ریس کو اس آبی خطے میں بھیجا تھا جس پر یونان، قبرص اور ترکی اپنا اپنا دعویٰ جتاتے رہے ہیں۔

 

 مشرقی صنعا میں یمنی فوج کی کارروائی، 4 کمانڈروں سمیت 35 حوثی ہلاک

‘‘مشرقی صنعا میں یمنی فوج کی کارروائی’’ یہ سرخی ہے روزنامہ راشٹریہ سہارا کی۔خبر کے مطابق، یمن کی سرکاری فوج نے سنیچر کے روز جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ  مشرقی صنعا میں نھم ڈائریکٹوریٹ اور اس کے اطراف میں ایران حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف جاری آپریشن میں دسیوں جنگجو ہلاک اورزخمی کردیئے گئے۔  العربیہ ڈاٹ نیٹ نے اس بیان کے حوالے سے مزید بتایا ہے کہ  حوثیوں کےمراکز پر بمباری میں کئی گاڑیاں، اسلحہ اور گولہ بارودبھی تباہ کردیا گیا۔ ناس کے علاوہ نھم کے محاذ پر الجفرہ اور پہاڑی علاقوں میں حوثی شیعہ ملیشیا کے 4 سینئر کمانڈر اور 35 جنگجو ہلاک کردیئے گئے۔ اخبار نے اس بیان کے حوالے سے آگے تحریر کیا ہے کہ بی ایم بی طرز کی ایک فوجی گاڑی پر قبضے کے ساتھ ہی نجدالعتق میں تین حوثیوں کو بھی قتل کردیا گیا۔ نھم کے محاذ پر حوثیوں کے خلاف آپریشن میں مقامی قبائل مزاحمت کاروں اور عرب اتحادی فوج کی طرف سے فضائی مدد فراہم کی گئی تھی۔اس سے قبل، عینی شاہدین نے العربیہ کے نامہ نگار کو بتایا تھا کہ عرب اتحادی فوج نے صنعا کے قریب حوثیوں کے بیلسٹک میزائل کارخانے اور ڈرون فیکٹریوں پر بمباری کرکے انھیں تباہ کردیا ہے۔

 

 برطانیہ کو غیرمستحکم کرنے کے لئے یوروپی یونین کا کوئی منصوبہ نہیں: آئرلینڈ

آئرلینڈ نے برطانوی وزیر اعظم بورس جونسن کا یہ اشتعال انگیز بیان مسترد کردیا ہے کہ یوروپی یونین، برطانیہ کو غیر مستحکم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ اپنی خبر میں ہندو نے تحریر کیا ہے کہ لندن میں  پرشور پارلیمانی اجلاس سے قبل اس بیان نے بریگزٹ ڈرامے میں مزید شدت پیدا کردی ہے۔ آئر لینڈ کی وزیر انصاف ہیلن میک انِٹی نے اسکائی نیوز کو بتایا ہے کہ برطانیہ اور آئرلینڈ کے درمیان نئی سرحد کی تشکیل کا نظریہ صحیح نہیں ہے۔ کیوں کہ  یوروپی یونین سے علیحدگی کے معاہدے میں طرفین کے درمیان شمالی آئرلینڈ کے بارے اتفاق رائے ہوگیا تھا تاکہ بریگزٹ کے بعد شفاف تجارتی مسابقت کو یقینی بنایا جاسکے اور  اور اس ریاست میں تین دہائیوں سے جاری شورش کے خاتمے کے لئے1998 کے امن معاہدے پر عمل درآمد کیا جاسکے۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ اس معاہدے میں برطانیہ کے حصے کے بطور، شمالی آئرلینڈ کی سالمیت کو بھی یقینی بنایا گیا ہے جس سے اس بات کی یقین دہانی ہوتی ہے کہ  کسی قسم کی سرحد تشکیل نہ دی جائے۔ خیال رہے کہ ڈیلی ٹیلی گراف میں شائع ایک مضمون میں بورس جونسن نے یوروپی یونین پر الزام لگایا تھا کہ  اس نے برطانیہ اور شمالی آئر لینڈ کے درمیان غذائی سپلائی روک کر انگلینڈ کو الگ تھلگ کرنے کی دھمکی دی ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ بریگزٹ کے بعد یوروپی یونین کے ساتھ آئر لینڈکو  ایک خصوصی درجہ حاصل ہوجائے گا۔ 

 

 نیپال میں تودے کھسکنے سے 12 افراد ہلاک، 21 لاپتہ

نیپال میں تودے کھسکنے کے خبر دیتے ہوئے، روزنامہ ہندو نے مطلع کیا ہے کہ کٹھمنڈو کے مشرق میں 100 کلومیٹر دورتبت سے ملحق سرحد پر بارہ بیسے گاؤں میں اتوار کے روز موسلا دھار بارش میں تودے کھسکنے کی وجہ سے 10 افراد ہلاک اور متعدد مکانات تباہ ہوگئے۔ اس کے علاوہ 21 افراد بھی لاپتہ ہیں۔ تودے کھسکنے کا دوسرا واقعہ ملک کے شمال مشرقی حصے کے بگلونگ گاؤں میں پیش آیا جس میں دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اس موسم باراں میں جون سے ستمبر تک تودے کھسکنے کی وجہ سے مرنے والے کی تعداد 314 ہوچکی ہے۔

 

 امریکہ کے جنگلات میں آگ:  30افراد ہلاک، متعدد لاپتہ، ہزاروں بے گھر

روزنامہ راشٹریہ سہارا کے مطابق، امریکہ کے مغربی ساحل کے جنگلات میں آگ سے 30 لوگوں کی موت ہوگئی ہے اور متعدد افراد لاپتہ ہیں۔ اورے  گان ایمرجنسی منیجمنٹ کے ڈائریکٹر ایندریو فلپس نے این بی سی کو بتایا ہے کہ جن لوگوں کو بروقت اطلاع نہیں مل سکی تھی اور جنھوں نے محفوظ مقامات پر پناہ نہیں لی تھی ان کو اس آگ سے شدید خطرہ لاحق ہوسکتا ہے ۔ اخبار مزید رقمطراز ہے کہ کیلی فورنیا اوریگن، اور واشنگٹن کے ہزاروں افراد کو اس حادثے کہ وجہ سے گھر چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔کیلی فورنیا میں اٹھائیس اہم جنگلوں میں آگ بجھانے کے لئے سولہ ہزار سے زائد اہلکار کام کررہے ہیں۔کیلی فورنیا ڈپارٹمنٹ آف فاریسٹ اینڈ فائر پروٹیکشن کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ریاست میں رواں برس کے دوران 32 لاکھ ایکڑ اراضی پر پھیلا جنگل آگ سے تباہ ہوچکا ہے اور چار ہزار سے زیادہ مکانات جل چکے ہیں۔