پاکستان میں پریس کی آزادی

پاکستان میں پریس کی آزادی پر اکثر سوال اٹھتے رہے ہیں۔ابھی چند روز قبل سینئر صحافی ابصار عالم اور بلال فاروقی کے خلاف بغاوت اور سائبرکرائم کے معاملات درج کرکے انہیں حراست میں لے لیا گیا۔ ابصارعالم پاکستان الیکٹرانک میڈیاریگولیٹری اتھارٹی کے سابق چیئرمین ہیں، جنہیں نواز شریف کے دور حکومت میں یکم دسمبر 2015 کو اتھارٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا تھا لیکن 18دسمبر 2017 کو لاہور ہائی کورٹ نے ایک پٹیشن کی سماعت کرتے ہوئے ان کی تقرری کو غیرقانونی قرار دے دیا تھا جس کے بعد انہیں عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ بلال فاروقی ایکسپریس ٹریبیون میں نیوز ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کرتے ہیں۔ انہیں نفرت پھیلانے کے الزام میں حراست میں لیا گیا لیکن سوشل میڈیا پر ان کے حراست میں لئے جانے کے خلاف احتجاجات کے بعد انہیں رہا کردیا گیا۔ 

ابصار عالم اور بلال فاروقی کی گرفتاری کوئی پہلا معاملہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی صحافیوں کو ڈرایا دھمکایا جاتا رہا ہے۔ جولائی میں ایک دوسرے سینئر صحافی مطیع اللہ جان کو اسلام آباد سے اس وقت اغوا کرلیا گیا جب وہ اپنی اہلیہ کو اسکول چھوڑنے جارہے تھے۔ 12 گھنٹے کی اذیت رسانی کے بعد مطیع اللہ جب واپس آئے تو انہوں نے اپنے اغوا کی کہانی ایک ویڈیو کے ذریعے بیان کی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اغوا کار بار بار ان سے ان کے پیشہ ورانہ کام سے متعلق اپنی برہمی کا اظہار کررہے تھے۔ نواز شریف کے دور حکومت میں انگریزی روزنامہ ‘‘ڈان’’ کے نائب مدیر سیرل المیدا کے ساتھ جو سلوک ہوا وہ آپ کو یاد ہوگا۔ موصوف نے دہشت گردوں کی حمایت کے تعلق سے فوج اور حکومت کے درمیان اخؒتلاف کی رپورٹنگ کی تو ان کی خیریت نہیں رہی۔ حکومت نے ان کا نام فوراً ہی ایسے لوگوں کی فہرست میں ڈال دیا جو حکومت کی اجازت کے بغیر ملک چھوڑ کر باہر نہیں جاسکتے۔ وزیراعظم نواز شریف کے دفتر نے ان کی رپورٹ میں دی گئی تمام تفصیلات کی تردید کی تھی۔ ایک اورصحافی سلیم شہزاد ایشیا ٹائمز آن لائن کیلئے کام کرتے تھے جنہیں مئی 2011 میں پشاور میں ہلاک کردیا گیا۔ یہی حال حیات اللہ کا بھی ہوا۔ احمد نورانی اور حامد میر پر بھی قاتلانہ حملے ہوئے لیکن وہ بچ گئے۔ عمر چیمہ کو بھی اغوا کرکے ان پر تشدد برپا کیا گیا۔ ایک خاتون صحافی گل بخاری ایک ٹی وی شو پر جاتے ہوئے اغوا کرلی گئیں اور دنیا بھر میں شدید ردعمل کے بعد انہیں رہا کیاگیا۔ قابل افسوس بات یہ ہے کہ پاکستان کی کوئی بھی ایجنسی ان حرکتوں میں ملوث افراد کا نہ سراغ لگا سکی اور نہ ہی انہیں اس کے لئے  کوئی سزا مل سکی۔ اس کے برعکس حب الوطنی کے نام نہاد علمبردار سوشل میڈیا پر ان صحافیوں کے خلاف بہتان تراشی میں مصروف رہے اور ان مذموم حرکتوں کا دفاع کرتے نظر آئے۔ 

پچھلے سال عمران خان حکومت نے چینل-24، ابتک نیوز اور کیپٹل ٹی وی سمیت متعدد ٹی وی چینلوں پر پابندی عائد کردی۔ ان چینلوں پر الزام ہے کہ وہ صرف اپوزیشن پارٹی کے پروگرام کو ہی اہمیت دیتے ہیں اور انہیں ملک کی کوئی پروا نہیں۔ حکومت نے کچھ اداروں پر زور بھی ڈالا کہ وہ ایسے صحافیوں کو ملازمت سے نکال دیں جو بقول اس کے سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی کچھ زیادہ ہی تنقید کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں طلعت حسین، مرتضی سولنگی، مطیع اللہ جان اور نصرت جاوید کے نام لئے جاسکتے ہیں جنہوں نے خود ہی ملازمت چھوڑ دی یا پھر انہیں ملازمت سے برخاست کردیا گیا۔ 

پاکستان میں خاتون صحافیوں کو بھی نہیں بخشا جاتا۔ ابھی پچھلے مہینےتیس سے زیادہ خاتون صحافیوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ موجودہ ماحول میں ان کے لئے کام کرنا بہت مشکل ہے۔ سوشل میڈیا پر  انہیں گندی گندی گالیاں دی جاتی ہیں، انہیں ڈرایا دھمکایا جاتا ہے جس سے ان کا پیشہ ورانہ کام متاثر ہوتاہے۔ اکثر ان پر حکومت کا دباؤ رہتا ہے کہ وہ اس کی خواہشات کے مطابق کام کریں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ خاتون صحافیوں کو بدنام کرنے کیلئے حکومت انہیں عوام دشمن قرار دیتی ہے اور کہتی ہے کہ ان صحافیوں کی تمام خبریں جھوٹی اور بے بنیاد ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ حکومت کاالزام ہے کہ وہ پیسے کے بدلے جھوٹی خبریں تیار کرتی ہیں۔ بیان میں عمران خان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی پارٹی کے ورکروں کو خاتون صحافیوں کو پریشان کرنےسے روکیں۔ 

ان تمام واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان میں فوج پر تنقید کرنے کا مطلب ہے مصیبت کو دعوت دینا۔ میڈیا اگر فوج پر تنقید کرتا ہے تو اسے ملک سے بغاوت تصور کیاجاتا ہے اور تنقید کرنے والے صحافی پر سخت سے سخت کارروائی کی جاتی ہے۔ پاکستان کی غیرسرکاری تنظیم حقوق انسانی کمیشن کی سالانہ رپورٹ کے مطابق ملک میں اظہار رائے کی آزادی کی صورتحال کافی افسوسناک ہے۔ ملک میں خوف کا ماحول ہے اور ایسے ماحول میں سیکیورٹی اور خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے کی گئی زیادتیوں کے بارے میں رپورٹنگ کرنا ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ حکومت نے تمام نیوز چینلوں اور اخبارات کو ہدایت دے رکھی ہے کہ وہ کوئی بھی خبر دینے سے پہلے یہ دیکھ لیں کہ یہ ان کے لئے باعث مصیبت تو نہیں ہوگی۔ حکومت اپنے اور فوج کے خلاف خبریں دینا قومی سلامتی کیلئے خطرہ تصور کرتی ہے۔ دراصل حکومت پاکستان اور وہاں کی فوجی اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ تمام صحافی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں بھول کر اطاعت گزاری میں سرجھکا کر غلامی کی زندگی بسر کریں اور جن کو یہ بات پسند نہ ہو وہ اپنا ٹھکانہ کہیں اور تلاش کرلیں۔ لیکن ایماندار صحافیوں کیلئے ایسا کرنا شاید ممکن نہیں۔