16.09.2020

مشرقی لداخ کے سرحدی علاقوں کی حیثیت کی یکطرفہ تبدیلی ناقابل قبول: ہندوستان کا چین کو سخت پیغام

آج ملک کے تمام اخبارات نے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کے لوک سبھا میں دیئے گئے اس بیان کو نمایاں انداز میں شائع کیا ہے جس میں انھوں نے چین کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقی لداخ کے سرحدی علاقوں کی حیثیت کو یک طرفہ تبدیل کرنے کی اس کی کوشش ہرگز قابل قبول نہیں ہے۔ روزنامہ راشٹریہ سہارا نے اس حوالے سے تحریر کیا ہے کہ ہندوستان اس مسئلے کا پرامن حل چاہتا ہے لیکن اپنی خود مختاری، علاقائی اتحاد و سالمیت کے دفاع کے لئے وہ پوری طرح تیار بھی ہے۔اخبار آگے لکھتا ہے کہ وزیر موصوف نے مشرقی لداخ میں چینی فوج کے ساتھ تعطل پر اپنے بیان میں چین اور عالمی برادری سے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ چین نے ایل اے سی پر اپریل سے یک طرفہ تبدیلی کے ارادے سے فوج میں اضافہ شروع کیا تھا اور پھر ہندوستانی فوج کی معمول کی گشت میں خلل ڈالا۔ بعد از آں جب کمانڈر کی سطح کی بات چیت میں اتفاق رائے ہوا تو اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس کی فوج نے ہندوستانی فوجیوں پر پُرتشدد حملے کئے لیکن ملک کے بہادر سپاہیوں نے اپنے جان کی قربانی دیتے ہوئے چینی فریق کو شدید نقصان پہونچایا اور سرحدوں کی حفاظت کی۔اپنے بیان میں انھوں نے مزید کہا کہ چین نے ایل اے سی اور اندرونی علاقوں میں بڑی تعداد میں فوجی دستے اور اسلحہ و گولہ بارود اکٹھا کیا ہوا ہے۔ مشرقی لداخ اور گوگرا، کونگ کالا اور پینگانگ جھیل کے شمالی اور جنوبی کناروں پر کئی متنازعہ مقامات ہیں  جہاں ہندوستان کی مسلح افواج نے بھی   سلامتی کے مفاد کے مدنظر جوابی تعیناتی کی ہے۔ اخبار ککے مطابق، وزیر دفاع نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ  ماسکو میں اپنے چینی ہم منصب سے بات چیت میں انھوں واضح کردیا تھا کہ  ہندوستان اس معاملے کو پرامن طریقے سے حل کرنا چاہتا ہے اور  اس کی خواہش ہے کہ چین اس کے ساتھ مل کر کام کرے مگر اس کے ساتھ ہی حکومت ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لئے پوری طرح پرعزم ہے۔ساتھ ہی ہندوستان کی مسلح افواج کسی بھی صورتحال سے نپٹنے کے لئے ہر طرح سے تیار اور ان کے حوصلے بلند ہیں۔

 

ایس سی او اجلاس: پاکستان کے جعلی پرچم کے احتجاج میں ہندوستان کا واک آؤٹ

ہندوستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے قومی سلامتی مشیران کے ورچوئل اجلاس سے اس وقت واک آؤٹ کردیا جب پاکستانی نمائندے نے سہواً پاکستان کا ایسا  جعلی پرچم پیش کیا جس میں دونوں ممالک کی سرحدوں کی غلط ڈھنگ سے نشاندہی کی گئی تھی۔ اپنی خبر میں روزنامہ ہندوستان ٹائمس لکھتا ہے کہ یہ وہی پرچم ہے جس کا پروپیگنڈا پاکستان حال ہی میں کرتا رہا ہے۔ ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ سرواستو کے مطابق،پاکستان کی یہ حرکت  میزبان ملک کی ایڈوائزری کی بے حرمتی اور میٹنگ کے قوائد کی کھلی خلاف ورزی تھی۔ لہٰذا میزبان ملک کے مشورے کے بعد پاکستان کے اس اقدام کے احتجاج میں ہندوستان کے نمائندے نے میٹنگ سے واک آؤٹ کردیا۔ اخبار اس واقعے کے واقف کاروں کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ پاکستان کے نمائندے نے جو نقشہ پیش کیا تھا اس میں ہندوستان کے خودمختار علاقوں کو اس کی اپنی سرحد کے اندر دکھایا گیا تھا اور اس کا یہ اقدام ایس سی او کے منشور اور رکن ممالک کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لئے تنظیم کے معینہ قواعد و ضوابط کے خلاف تھا۔ ہندوستان نے پاکستان کے ذریعے غیر قانونی پرچم کے خلاف سخت احتجاج کیا تھا اور روس نے میٹنگ کے صدر کے بطور پاکستان کو اس اقدام سے روکنے  کی بھرپور کوشش کی تھی۔ خیال رہے کہ 4 اگست کو  وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے اپنے ملک کا ایک نیا نقشہ جاری کیا تھا جس میں مرکز کے زیر انتظام ہندوستانی علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ نیز گجرات کے کچھ حصوں پر اپنا دعویٰ جتایا گیا تھا۔ ہندوستان نے  اس پرچم کو سیاسی نامعقولیت اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے  اس کی سخت مخالفت کی تھی۔

 

 افغانستان اپنی سرزمین کو کسی ملک کے خلاف استعمال نہ کیے جانے کی کرائے یقین دہانی: زلمے خلیل زاد

ہندوستانی وزیر  خارجہ ایس جے شنکر و مشیر برائے قومی سلامتی اجیت ڈوبھال کے ساتھ افغانستان میں قیام امن کے لئےامریکہ کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد کی ملاقات کے حوالے سے روزنامہ انڈین ایکسپریس لکھتا ہے کہ  اس میٹنگ میں زلمے خلیل زاد نے بتایا کہ افغانستان کو یہ یقینی بنانا چاہئے کہ اس کی سرزمین کو کوئی دہشت گروپ کسی ملک کے خلاف استعمال نہ کرے۔اخبار نے خیال ظاہر کیا ہے کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امریکہ کے اعلیٰ ثالث کی جانب سے دیا گیا یہ بیان بے حد اہم ہے۔ نئی دہلی میں منگل کے روز منعقدہ اس میٹنگ کے بعد امریکی سفارت خانے سے جاری ایک  سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان اور امریکہ اس بات پر متفق ہیں کہ قیام امن کا عمل اس وقت تک جاری رہنا چاہئے جب تک  کوئی سیاسی روڈ میپ تیار نہ ہوجائے اور جامع و مستقل جنگ بندی نہ ہوجائے۔ اخبار کے مطابق، اس میٹنگ میں خلیل زاد نے زور دے کر کہا کہ مذاکرات کی کامیابی اور کسی معاہدے کے نفاذ کے لئے علاقائی اور بین الاقوامی حمایت ضروری ہےنیز یہ کہ ہندوستان اور امریکہ اس مقصد کے حصول کے لئے  مل جل کر کام کریں گے۔

 

جموں کشمیر میں حزب المجاہدین اور البدر  گروہ کے دہشت گردوں اور ان کے ساتھیوں سمیت پانچ افراد گرفتار

   اخبار ہندو کی خبر کے مطابق، جموں و کشمیر  میں حزب المجاہدین اور البدر گروہ کے ملٹنٹوں اور ان کے ساتھیوں سمیت پانچ افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق،  ان میں سےدہشت گردوں کے دو ساتھیوں مشتاق احمد میر اور رئیس الحسن کو اونتی پورہ سے اس وقت  گرفتار کیا گیا جب وہ ٹو وہلیر سے شوپیاں سے کھریو جارہے تھے۔ ان کے قبضے سے قابل اعتراض مواد اورچھ لاکھ روپئے بھی برآمد کئے گئے۔ کشمیر ہی کے تعلق سے روزنامہ انڈین ایکسپریس نے خبر دی ہے کہ جموں میں کنٹرول لائن پر اور کشمیر کے راجوری ضلع میں پاکستانی دستوں کی جانب سے منگل کے روز ہلکے ہتھیاروں سے بلا اشتعال فائرنگ اور مورٹرس بمباری میں ہندوستانی فوج کا ایک جوان ہلاک اور ایک افسر سمیت دو دیگر زخمی ہوگئے۔ حکام کے مطابق، ہندوستانی فوج نے اس کا منہ توڑ جواب دیاجس کی وجہ سے پاکستانی فوج کو بھی نقصان اٹھانا پڑا۔  اخبار ہندوستان ٹائمس نے کلبھوشن جادھو کے حوالے مطلع کیا ہے کہ پاکستان کی پارلیمان نے اپنے آرڈیننس میں ترمیم کرتے ہوئے موت کی سزا یافتہ کلبھوشن جادھو کو سزا کے خلاف اپیل کرنے کے لئے مزید چار ماہ کی مہلت دی ہے۔ خیال رہے کہ آئی سی جے ریویو اینڈ  ری کنسی ڈریشن آرڈیننس مئی میں جاری کیا گیا تھا اور اس کی مدت 17 ستمبر کو ختم ہورہی تھی۔ قومی اسمبلی یا پاکستانی پارلیمان کے ایوان زیریں میں پیر کے روز صوتی ووٹ سے اس میں توسیع کی گئی ہے۔

 

اسرائیل کے ساتھ متحدہ عرب امارات اور بحرین نے تاریخ ساز معاہدوں پر کئے دستخط

     متحدہ عرب امارات اور بحرین نے منگل کے روز اسرائیل کے ساتھ بحالئی تعلقات سے متعلق معاہدوں پر دستخط کردیئے۔ اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق، اس کے ساتھ ہی یہ دونوں ممالک ایران کے خلاف وسط مشرقی ممالک کے اتحاد نو کی اولین عرب ریاستوں میں شامل ہوگئے ہیں۔ صدر ٹرمپ نےوہائٹ ہاؤس میں منعقدہ اس تقریب کی میزبانی کی۔ سیکڑوں لوگوں کی موجودگی میں وزیر اعظم بنجامن نتین یاہو نے امارات اور بحرین کے وزرائے خارجہ شیخ عبداللہ بن زائد النہیان و  عبدالطیف الزیانی کے  ساتھ معاہدوں پر دستخط کئے۔ واضح ہو کہ  فلسطین نے ان معاہدوں کی سخت مذمت کی ہے۔ اس سے قبل اسرائیل کے ساتھ مصر نے 1979 میں اور اردن نے 1994 میں امن معاہدوں پر دستخط کئے تھے۔ 

 

امریکہ پر کسی ایرانی حملے کا  دیا جائے گا ایک ہزار گنا طاقتور جواب: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونل ٹرمپ نے عزم ظاہر کیا ہے کہ اگر ایران، امریکہ پر حملہ کرتا ہے تو اس کا ایک ہزار گنا طاقت سے جواب دیا جائے گا۔ اخبار ہندو لکھتا ہے کہ دونل ٹرمپ نے یہ بیان ان اطلاعات کے بعد دیا ہے کہ ایران اپنے اعلیٰ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لئے حملے کا منصوبہ بنارہا ہے۔ امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، نامعلوم حکام نے بتایا ہے کہ ایران، نومبر میں امریکی صدارتی انتخابات سے قبل، جنوبی افریقہ میں امریکہ کے سفیر کو قتل کرنے یا کسی دیگر حملے کا منصوبہ بنارہا ہے۔ اخبار نے واضح کیا ہے کہ ایران میں انقلاب اور 2018 میں ایران کے ساتھ نیوکلیائی معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کے بعد تہران اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوگئے ہیں۔ تہران نے ان خبروں کو بے بنیاد اور بین الاقوامی سطح پر ایران مخالف ماحول تیار کرنے کا فرسودہ طریقہ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔

 

یوروپی یونین کی ناراضگی کے باوجود، برطانوی ارکان پارلیمان نے کی جونسن کے بریگزٹ بل کی حمایت

 روزنامہ ہندو ہی کی ایک اور خبر کے مطابق، برطانیہ کے ارکان پارلیمان نے اس نئے بل کی حمایت کی ہے جس میں پچھلے سال یوروپی یونین کے ساتھ بریگزٹ معاہدے کے کچھ حصوں میں تبدیلی کی گئی ہے۔ وزیر اعظم بورس جونسن کے اس نئے بل کی حمایت کرتے وقت ان ارکان پارلیمان نے یوروپی یونین کی ناراضگی کی بھی پراوہ نہیں کی ہے۔ خود برطانیہ میں بھی اس سلسلے میں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے بارے میں خدشات پیدا ہورہے ہیں۔