14.10.2020

امریکی فوجیوں کی واپسی طالبان کے حملوں میں کمی اور کابل حکومت سے امن مذاکرات پر منحصر۔ امریکی جنرل مارک ملی کا بیان۔

امریکی فوج کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک ملی نے امریکہ کے نیشنل پبلک ریڈیو ‘این پی آر’ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ افغانستان سے باقی ماندہ تقریباً 4500 فوجیوں کی واپسی کا انحصار طالبان کے حملوں میں کمی اور کابل حکومت سے امن مذاکرات کی پیش رفت پر ہو گا۔واضح ہو کہ چند روز قبل امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ کرسمس سے قبل افغانستان سے تمام فوجیوں کو واپس بلا لینا چاہیے۔ایسے میں مارک ملی کا یہ بیان کافی اہمیت رکھتا ہے۔

روزنامہ انڈین ایکسپریس اس حوالے تحریر کرتا ہے کہ جنرل ملی کے بقول اہم بات یہ ہے کہ امریکہ ارادی طور پر اور ذمہ داری کے ساتھ افغان جنگ کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہےاور ایسا ان شرائط کے تحت کیا جائے گا کہ جنسے  امریکہ کے قومی مفادات کو نقصان نہ پہنچے۔جنرل ملی نے کہا کہ معاہدے کے تحت پہلے افغانستان میں امریکی فورسز کو 12 ہزار کی سطح سے کم کر دیا گیا ہے۔ انکے بقول اس بات پر بھی اتفاق ہوا تھا کہ طالبان اور کابل حکومت کے درمیان مذاکرات ہونگے اور  تشدد میں نمایاں کمی کی جائیگی۔ یہاں یہ امر بھی اہم ہے کہ مشروط انخلا سے متعلق فیصلہ امریکی صدر کا ہی تھا۔ قابل ذکر ہے کہ حالیہ دنوں میں واشنگٹن سے مختلف بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ او برائن کہہ چکے ہیں کہ امریکہ آئندہ برس کے اوائل تک افغانستان میں اپنے فوجیوں کی تعداد کم کر کے ڈھائی ہزار کر دے گا۔واضح ہو کہ طالبان کے ساتھ امن معاہدے کے تحت افغانستان سے غیر ملکی فورسز کا اںخلا مئی 2021 تک مکمل ہو جائے گا۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فورسز کا مکمل انخلا مشکل ہے۔ ان کی کچھ موجودگی برقرار رہے گی جب کہ امریکی فورسز کے اڈے بھی موجود رہنے کا قوی امکان ہے۔

ساتویں دور کے مزاکرات کے  بعد ہندستان اور چین، بات چیت کے ذریعہ سرحدی  تنازعات کا حل تلاش کرنے پر متفق

بھارت اور چین نے ساتویں دور کی بات چیت کے بعد اصل کنٹرول لائن پر گزشتہ پانچ مہینوں سے جاری فوجی تعطل کو دور کرنے کے لئے مزاکرات کے ذریعہ فوجیوں کو پیچھے ہٹانے سمیت تمام تنازعات کا جلد از جلدمتفقہ حل تلاش کرنے پررضامندی ظاہر کی ہے۔ روزنامہ ہندوستان ٹائمز اس حواے سے تحریر کرتا ہے کہ ہندستان اور چین کے فوجی کمانڈروں کے مابین پیر کو ساتویں دور کی بات چیت کے بعد مشترکہ بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ دونوں سرحدی علاقوں میں امن اور دوستانہ ماحول قائم کریں گے اور تنازعات کو اختلافات میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے۔

ہندستانی سرحد کے چشول علاقہ میں پیر کو تقریباً بارہ بجے شروع ہوئی میٹنگ میں فوج کی نمائندگی 14ویں کور کے لیفٹننٹ جنرل ہرندر سنگھ نے کی،انکے ساتھ لیفٹننٹ جنرل پی جی کے مینن بھی تھے جنہوں نے پیر کے روز ہی کور کے سربراہ کی ذمہ داری سمبھالی ہے۔ان دونوں کے ساتھ ہی وزارت خارجہ کے جوائنٹ سکریٹری سطح کے ایک افسر بھی بات چیت کے دوران موجود تھے۔مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ دونوں فریقین کے ما بین جاری فوجی تعطل کو دور کرنے کے لئے ایکچوئل کنٹرول لائن پر تعینات فوجیون کو پیچھے ہٹانے کے معاملے پر سنجیدگی سے بات چیت ہوئی۔بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ بھارت اعر چین دونوں نے ہی اس بات پر رضامندی ظاہر کی کہ فوجیوں کو پیچھے ہٹانے کے معاملے پر جلد از جلد متفقہ حل تلاش کرنے کے لئے فوجی اور سفارتی سطح پر بات چیت اور رابطہ قائم رکھینگے۔ دونوں ملک اس بات پر بھی متفق ہوئے کہ دونوں ممالک کے رہنمائوں کے درمیان  باہمی اتفاق رائے پر مبنی باتوں پر عمل کیا جائیگا۔  


جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی رہا،بیٹی نے کیا خوشی کا اظہار

جموں کشمیر میں حالات معمول پر آنے کے ساتھ ہی احتیاطی طور پر نظر بند کئے گئے لیڈران کو رہا کیا جا رہا ہے۔اسی سلسلہ کے تحت جموں و کشمیر کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ اور سابق وزیر اعلی  محبوبہ مفتی کو رہا کردیا گیا ہے ۔ روزنامہ دی ٹیلیگراف کی خبر کے مطابق جموں و کشمیر انتظامیہ کے ترجمان روہت کنسل نے منگل کو یہ جانکاری دی ۔ محبوبہ مفتی کو گزشتہ برس پانچ اگست کو جموں و کشمیر میں انتظامی تبدیلی کے تحت ریاست کو  مرکز کے زیر انتظام  دو خطوں میں تقسیم کرنے سے ایک دن پہلے حراست میں لیا گیا تھا ۔

رہائی کے بعد محبوبہ مفتی کے آفیشیل ٹویٹر اکاونٹ سے ان کی بیٹی التجا مفتی نے ٹویٹ کے ذریعہ اپنی خوشی کا اظہار  کیا۔ محبوبہ مفتی کی بیٹی نے کہا کہ  میں آپ سبھی کی شکر گزار ہوں ، اب میں التجا آپ سے رخصت لیتی ہوں ۔ خیال رہے کہ محبوبہ مفتی کو حراست میں لئے جانے کے بعد سے التجا ہی ان کے ٹویٹر اکاونٹ سے ٹویٹ کررہی تھیں ۔

کورونا سے صحتیاب ہونے کے بعد انتخابی تشہیر میں صدر ٹرمپ کی شاندار واپسی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کورونا سے صحتیاب ہونے کے بعد پیر کے روز فلوریڈا میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کیا۔ جلسے میں وہ کافی  پر جوش انداز میں نظر آرہے تھے۔بیشتر اخبارات نے اس خبر کو اپنی سرخی بنایا ہے۔روزنامہ دی ہندو اس حوالے سے رقمطراز ہے کہ  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خطاب کے دوارن  کہا  کہ کوویڈ ۔19 سے متاثر ہونے اور پھر اسکے علاج کے بعد وہ خود کو بہت طاقتور محسوس کررہے ہیں اور اس علاج کے بعد انمیں قوت مدافعت اور بھی بڑھ گئ ہے۔

کووڈ 19 سے صحت یاب ہونے کے بعد صدر ٹرمپ کی الیکشن مہم کا یہ پہلا جلسہ تھا۔ اپنی تقریر میں ٹرمپ نے کہا کہ ہر فرد کو وہ دوا دستیاب ہو گی جس سے وہ صحت یاب ہوئے ہیں۔جبکہ اینٹی باڈی استعمال کرنے والی دوا ابھی تک صر ف ایمرجنسی میں ہی استعمال کی جا سکتی ہے۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اپنے آپ کو بہت توانا محسوس کرتے ہیں اور وہ مجمع میں ہر شخص سے قریب ہو کر ملنا چاہتے ہیں۔ایئرپورٹ کے کھلے مقام پر منعقد کی گئی اس ریلی میں چند ہی لوگوں نے صدر کی ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی تقریر کے دوران چہرے پر ماسک لگا رکھے تھے،جب صدر کا جہاز ایئرفورس ون فلوریڈ ا کی طرف جا رہا تھا تو وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ کی کرونا ٹیسٹ رپورٹ نیگیٹیو آئی ہے۔صدر ٹرمپ نے فلوریڈا کے شہر سین فورڈ میں اپنی تقریر کے دوران حریف پارٹی کی تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حزب اختلاف سیاسی طبقہ کسی بھی طور برسر اقتدار آنے کے لیے بے قرار ہے۔ اور وہ  ان کی راہ میں حائل ہیں۔ٹرمپ نے اپنے مد مقابل بائیڈن کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

واضح ہو کہ امریکی صدارتی انتخاب میں ہار جیت کا دار و مدار پاپولر ووٹوں یعنی کل ووٹوں میں برتری کی بجائے الیکٹورل کالج میں ڈیلیگیٹس کی تعداد پر ہوتا ہے۔ اور عام ووٹ یا پاپولر ووٹ جس ریاست میں جس پارٹی کے حق میں زیادہ ہوں، وہاں اسی پارٹی کے تمام ڈیلیگیٹس یا الیکٹوریٹس جیت جاتے ہیں۔صدارتی انتخاب میں کامیابی کے لیے امیدوار کو کم از کم 270 الیکٹورل ووٹ یا ڈیلی گیٹس جیتنے ہوتے ہیں۔ جن کا تعین امریکی ریاستوں کے ایوان نمائندگان اور سینیٹ کی مجموعی تعداد سے ہوتا ہے۔فلوریڈا، اوہائیو اور پینسلوینیا تین ریاستوں کے کل ڈیلیگیٹس کی تعداد 67 ہے۔سب سے زیادہ الیکٹورل ووٹ ریاست کیلیفورنیا میں ہیں جہاں 55 ڈیلیگیٹس ہیں


اسٹیفن بائیگن بھارت کے بعد بنگلہ دیش کا دو روزہ دورہ

امریکہ کے نائب وزیر خارجہ اسٹیفن بائیگن بھارت کے دورے کے بعد بنگلہ دیش میں وزیر اعظم شیخ حسینہ سے ملاقات کرینگے۔ بنگلہ دیش میں انکا دو روزہ قیام رہیگا۔ اس سال کے آخر میں مقررہ امریکہ – بھارت ‘ٹو پلس ٹو مزاکرات’ سے قبل بائیگان کابھارت دورہ ، امریکہ – ہندوستان جامع عالمی اسٹریٹجک شراکت داری کو آگے بڑھانے کی سمت میں کافی اہم ہے۔

روزنامہ ہندوستان ٹائمز میں شائع خبر کے مطابق ان کا دورہ اس بات پر مرکوز رہے گا کہ دونوں ممالک کس طرح ہند بحر الکاہل خطے اور دنیا میں امن ، خوشحالی اور سلامتی کو یقینی بنا سکتے ہیں۔اسٹیفن بائیگن اس دہائی کے دوران ڈھاکہ پہنچنے والے والی پہلے اعلی عہدیدار ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بائگن نے ہندوستان کے سکریٹری خارجہ ہرش شرنگلا سے گفتگو میں ، کواڈ سیکیورٹی ڈائیلاگ کو مستحکم کرنے کے طریقوں پر توجہ دیتے ہوئے  بھارت سے اسکے پڑوسی ممالک کے بارے میں جاننے کی کوشش کی۔ جس کے تحت شرنگلا نے اپنے امریکی ہم منصب کو بنگلہ دیش کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئ انہیں مسلم اکثریتی ملک کے ساتھ امریکی روابط کی افادیت سے بھی روشناس کروایا۔قابل ذکر ہے کہ اسٹیفن بائیگن سے قبل سابق امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور ہلیری کلنٹن نے بھی ڈھاکہ جانے کا ارادہ ظاہر  کیا تھا لیکن وہ نہیں جاسکے تھے۔جبکہ ہندوستان ،امریکہ اور بنگلہ دیش کے درمیان شیخ حسینہ کی قیادت میں روابط قائم کروانے کے لئے مسلسل کوشاں رہا ہے۔اسی لئے اسٹیفن بائیگن کا بنگلہ دیش کا یہ دورہ اہمیت کا حامل ہوگا۔

لبنان اور اسرائيل کے مابین  طویل عرصے کے بعد مذاکرات

لبنان اور اسرائيل حالت جنگ ميں ہيں مگر بحيرہ روم کے گيس سے مالا مال سمندری علاقے پر ديرينہ تنازعے کے حل کے ليے آج سے مذاکرات شروع کر رہے ہيں۔ لبنان کی معشت کے ليے اس وقت يہ بات چیت کافی اہميت کی حامل ہو سکتی ہے۔روزنامہ انڈین ایکسپریس میں شائع خبر کے مطابق لبنانی اور اسرائيلی حکام بحری تنازعے کے حل کے ليے آج سے بات چيت کا آغاز کر رہے ہيں۔

يہ مذاکرات امريکا کی تين سال سے جاری سفارتی کوششوں کا نتيجہ ہيں۔ لبنان اور اسرائيلی حکام کے مابين مذاکرات ايک ايسے وقت پر ہو رہے ہيں جب قريب ايک ماہ قبل ہی متحدہ عرب امارات اور بحرين نے اسرائيل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کيے ہيں۔ 

حالانکہ اسرائيل کی سخت مخالف لبنانی شيعہ عسکری تنظيم حزب اللہ کی جانب سے کہا گيا ہے کہ اسرائيل کے ساتھ يہ مذاکرات قيام امن کے ليے نہيں ہيں۔ حزب اللہ نے اسرائيل کے خلاف سن 2006 ميں پانچ ہفتوں پر محيط جنگ بھی لڑی تھی۔ دوسری جانب اسرائيلی وزير توانائی نے بھی  کہا ہے کہ بات چيت سے حقيقت پسندانہ اميديں رکھنی چاہييں انہوں نے اپنی ايک ٹوئيٹ ميں لکھا، ”ہم قيام امن اور تعلقات کے قيام پر بات چيت نہيں کر رہے۔ يہ مذاکرات ايک تکنيکی و معاشی مسئلے کے حل کے ليے ہيں، جو آف شور قدرتی وسائل کے شعبے ميں ترقی کی راہ ميں دس سال سے رکاوٹ بنا ہوا ہے۔‘‘

دوسری جانب امريکی وزير خارجہ مائيک پومپيو نے اسے ايک تاريخی پيش رفت قرار ديا ہے۔ پومپيو نے عنديہ ديا کہ بدھ کو ہونے والے مذاکرات کے بعد ممکنہ طور پر واشنگٹن حکومت سرحدی تنازعے پر بھی بات چيت کی ميزبانی کر سکتی ہے۔

واضح ہو کہ سمندری حدود پر اختلافات کی وجہ سے اس علاقے ميں تيل اور گيس کی تلاش کا کام ايک عرصے سے معطل ہے۔ يہ شايد اسرائيل کے ليے اتنا بڑا مسئلہ نہ ہو جو کہ سمندر سے وسيع پيمانے پر تيل اور گيس کے ذخائر پہلے ہی حاصل کر رہا ہے مگر لبنان کے ليے يہ اس وقت بہت اہميت کا حامل ہے۔

لبنان کو اس وقت سن 1975 اور سن 1990 کے درميان جاری رہنے والی خانہ جنگی کے بعد کے بد ترين اقتصادی بحران کا سامنا ہے۔ لبنانی کرنسی کی قدر بھی بہت زيادہ گر چکی ہے۔ علاوہ ازيں کورونا کی وبا اور ايک حاليہ بم دھماکے نے بھی ملکی معيشت کی کمر توڑ دی ہے۔ ساتھ ہی سياسی سطح پر بھی اس ملک کو عدم استحکام کا سامنا ہے۔