15.10.2020

 

پاکستان میں مہنگائی کی لہر، آئی ایم ایف نے کی مزید اضافے کی پیشن گوئی

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان میں رواں مالی سال کے دوران مہنگائی میں اضافے کی پیشن گوئی کی ہے ۔روزنامہ راشٹریہ سہارا اس حوالے سے تحریر کرتا ہے کہ آئی ایم ایف کے مطابق رواں برس پاکستان میں مہنگائی کی شرح دس اعشاریہ دو فی صد جب کہ آئندہ سال یہ شرح آٹھ اعشاریہ آٹھ فی صد ہونے کا امکان ہے ۔عالمی مالیاتی فنڈ کی طرف سے دنیا کے تمام ممالک سے متعلق ایک رپورٹ جاری کی گئی ہے جس میں کرونا وائرس سے مشکلات کا شکار ہونے کے بعد آئندہ پانچ سال تک کی معیشت کے اندازے لگائے گئے ہیں۔آئی ایم ایف کی رپورٹ ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب پاکستان میں آٹا، دال، چینی، دودھ، انڈے، گوشت سمیت دیگر اشیا خور و نوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔آئی ایم ایف نے یہ بھی  پین گوئی کی ہے کہ رواں مالی سال میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ دو اعشاریہ پانچ فی صد اور بے روزگاری صفر اعشاریہ چھ فی صد سے بڑھ کر پانچ اعشاریہ ایک فی صد ہونے کا امکان ہے۔

حکومتِ پاکستان نے ،جی ڈی پی کی شرح نمو  دو اعشاریہ ایک فی صد، افراطِ زر چھ اعشاریہ پانچ فی صد اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ایک اعشاریہ پانچ فی صد رہنے کا ہدف مقرر کیا تھا جو آئی ایم ایف کے مطابق اب ممکن نظر نہیں آ رہا۔قابل ذکر ہے کہ عمران خان کے نئے پاکستان کے نعروں کے باوجود  اس ملک میں تیزی سے  مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب ۔پاکستان میں آٹے کی قیمتیں گندم کی درآمد کے باوجود خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے۔ فلور ملز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں یہ بحران گندم کی سپلائی بروقت نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے جب کہ حکومت اس کمی کا ٹھیکرہ ذخیرہ اندازوں کے سر پر پھوڑ رہی ہے۔لیکن فلور ملز ایسوسی ایشن کے مطابق اس سال حکومت پاکستان  نے اُنہیں گندم اسٹاک کرنے کی اجازت ہی  نہیں دی اور نہ ہی حکومت نے خود مطلوبہ گندم کی  خریداری کی جس کی وجہ سے ملک میں شدید قلت ہے۔گندم کے علاوہ چاول، چینی اور دالیں بھی عام آدمی کی پہنچ سے دن بدن دور ہوتی جا رہی ہیں۔اس وقت پاکستان کی  مارکیٹ میں 15 کلو آٹے کاپیکٹ تقریباً 1100 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ 

 

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں چین اور پاکستان کے  رکن منتخب ہونے پر امریکہ  نے عالمی ادارے کو بنا یا تنقید کا نشانہ

انسانی حقوق کے معاملے میں پاکستان کے انتہائی خراب ریکارڈ اورانسانی حقوق سے متعلق  متعدد  تنظیموں کی شدید مخالفت کے  باوجود نہ صرف پاکستان بلکہ اوغور مسلمانوں پر بے انتہا مظالم کرنے والے ملک چین کو بھی  اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں نشست مل گئی ہے۔جو واقئی حیران کن ہے اور اسی لئے امریکہ نے اس انتخاب پر عالمی ادارے کی شدید تنقْید کی ہے۔روزنامہ ہندوستان ٹائمز میں شائع خبر کے مطابق پاکستان اپنی نشست برقرار رکھنے اور چین، کیوبا اور روس سیٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے چین، روس اور کیوبا کے اس کونسل کا رکن منتخب ہونے پر ردعمل میں کہا کہ ان کے منتخب ہونے سے امریکہ کا اس کونسل سے سنہ 2018 میں دستبردار ہونے کا فیصلہ درست ثابت ہوا ہے۔ امریکہ اب اس کونسل کا رکن نہیں ہے۔واضح ہو کہ گذشتہ ہفتے ، یورپ ، امریکہ اور کینیڈا سے منسلک انسانی حقوق کی تنظیموں کے اتحاد نے اقوام متحدہ کے ممبران سے چین ، کیوبا ، پاکستان اور ازبکستان جیسے ممالک  کے انتخاب کی مخالفت کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ انسانی حقوق سے متعلق ان ممالک کا ریکارڈ انہیں اس بات کا اہل نہیں رکھتا کہ وہ اس تنظیم کے رکن بنے۔اسی درمیان  پاکستان کے امریکہ میں سابق سفیر رہے اور ہڈسن انسٹی ٹیوٹ کے سکالر، حسین حقانی کا بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں وہ کہتے ہیں   کہ ‘اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کی افادیت ختم ہو چکی ہے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ وہ ممالک جو انسانی حقوق کی پامالی میں ملوث ہوتے ہیں وہ اس میں منتخب ہونے کی بہت زیادہ کوشش کرتے ہیں۔’حسین حقانی نے کہا کہ ‘جب چین جیسا ملک جو  اپنی  اوغور آبادی کو انسان ہی نہیں سمجھتا ہے، اور کیوبا جو ایک جمود کا شکار آمریت کے طور پر پہچانا جاتا ہے، وہ بھی اس کے رکن منتخب ہو جاتے ہیں،تو ایسے میں  اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی اس کونسل کو کوئی بھی سنجیدگی سے کیوں دیکھے گا۔’

 

چین کے ذریعہ تبتی عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم پر امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیوکا  اظہار ناراضگی

امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو نے چین کے ذریعہ  تبتی عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو نے بدھ کے روز کہا کہ امریکہ کو چین کے ذریعہ تبتی عوام پر مظالم اور چین میں تبتیوں کی مذہبی آزادی اور ثقافتی روایات پر شدید پابندیوں پر بہت تشویش ہے۔روزنامہ ہندو اس حوالے سے رقمطراز ہے کہ بدھ کے روز واشنگٹن میں ایک پریس بریفنگ کے دوران پومپیو نے تبتی معاملات کے لئے اسسٹنٹ سیکریٹری روبرٹ ڈیسٹرو کو خصوصی ایلچی مقرر کرنے کا بھی اعلان کیا۔ انسانی حقوق،جمہوریت اور لیبر بیورو سے وابستہ روبرٹ ڈیسٹرو کی تقرری کا اعلان کرتے ہوئے مائک پومیو نے کہا کہ اس تقرری سے امریکہ کی تبت سے متعلق پالیسی کو تقویت ملیگی۔واضح ہو کہ یہ عہدہ سن دو ہزار سترہ سے خالی تھا اور امریکہ کے کئی قانون ساز اور مذہبی آزادی سے متعلق عالمی کمیشن مسلسل صدر ٹرمپ سے اس تقرری کا مطالبہ کر ہے تھے۔تبتی معاملات سے متعلق خصوصی ایلچی چینی خطےمیں انسانی حقوق اور تبتیوں کی مذہبی آزادی و شناخت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے حکومت چین اور دلائی لامہ کے درمیان اہم کڑی کا کام انجام دیتا ہے۔اس کے علاوہ تبت سے متعلق اہم مسائل کے تدارک کے لئے تبتی رہنماوں اور عالمی ماہرین کے درمیان روابط بھی قائم کرنے کی ذمہ داری نبھاتا ہے۔اس موقع پر امریکی وزیر خارجہ نے تبت میں انسانی حقوق کی بگڑتی صورتحال،چین میں تبتیوں کی مذہبی رسومات پر پابندی اور لوگوں کو مکمل آزادی سے محروم رکھنے پر چین کی شدید تنقید کی۔

 

آرمی چیف, جنرل نروڑے نومبر میں کرینگے کاٹھمنڈو کا دورہ،نیپالی صدر کے ذریعہ اعزاز سے کئے جائیں گے سرفراز

چین کے ساتھ بھارت کا تنازعہ مئی سے جاری ہے۔ اسی درمیان نیپال نے بھی ایک متنازعہ نقشہ پاس کیا تھا۔ جس کے بعد بھارت کے ساتھ نیپال کے تعلقات میں کچھ تلخیاں آگئی تھیں۔ حالانکہ اس کے بعد بھی ہندوستان نیپال کی مدد کرتا رہا۔ اب دونوں ممالک کے مابین تعلقات بہتر ہورہے ہیں۔ جس کے تحت ہندوستانی آرمی چیف ایم ایم نروڑے اگلے ماہ نیپال کا دورہ کریں گے۔روزنامہ انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق سرحدی تنازع کے سامنے آنے کے بعد نیپال میں کسی بھارتی اعلی عہدیدار کایہ پہلا دورہ ہوگا۔نیپال آرمی کی جانب سے جاری ایک بیان میں اس بات کی جانکاری دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اگلے ماہ بھارتی آرمی کے چیف نیپال کا دورہ کرینگے۔ حالانکہ اس بیان میں دورے کی تاریخ واضح نہیں کی گئی۔ٖفوج کی جانب سے جاری بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ نیپال حکومت نے اس دورے کی اجازت رواں برس تین فروری کو دے دی تھی لیکن کورونا وبا کے پھیلاو کے بعد دونوں ممالک میں لاک ڈاون نافذ تھا جسکی وجہ سے اس دورے میں تاخیر ہوئی۔نیپالی افواج کے ترجمان بریگیڈئر جنرل سنتوش پوڈیل نے کہا کہ دورے کی تاریخ طے کرنے سے متعلق دونوں ممالک  کے افسران رابطے میں ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ اس دورے کے دوران نیپال کی صدر بدیا دیوی بھنڈاری بھارتی فوجی سربراہ کو ‘جنرل آف نیپال’کے اعزاز سے سرفراز کرینگی۔

 

دنیا بھر میں کورونا سے ہونے والی اموات اور اس وبا  کی دوسرے لہر کے خوف سے  یوروپین ممالک  میں  پابندیاں سخت

دنیا بھر میں کورونا سے ہونے والی اموات اور کورونا کی دوسرے لہر کے خوف کا سایہ یوروپین ممالک پر صاف ظاہر ہونے لگا ہے۔فرانس، برطانیہ، جرمنی اور اٹلی میں پابندیاں سخت کر دی گئی ہیں  جبکہ نیدرلینڈز اور چیک ریپبلک میں حکام نے پھر سے جزوی لاک ڈاؤن نافذ کر دیا ہے۔روزنامہ ہندوستان ٹائمز اس حوالے سے تحریر کرتا ہے کہ برطانیہ میں  وائرس کے پھیلاؤ سے  پریشانی بڑھ رہی ہے۔ وزیرا عظم بورس جانسن حزب اختلاف کی طرف سے تنقید کی زد میں ہیں۔ برطانوی حکومت نے بدھ سے انگلینڈ کو کورونا کیسز کی تعداد کے حساب سے رسک کے تین درجوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ اس نظام کے تحت جن علاقوں میں کیسز زیادہ ہیں، وہاں پابندیاں زیادہ سخت ہوں گی اور جہاں کورونا کم ہے، وہاں نرمی ہوگی۔جبکہ   نیدرلینڈز میں چار ہفتوں کے لیے جزوی لاک ڈاؤن نافذ کیا جارہا ہے۔ بدھ کی شام سے ریستوراں، بارز اور کیفے بند ہوں گے اور صرف وہ کاروبار کھلے ہوں گے، جہاں سے لوگ کھانے پینے کی چیزیں خود آ کر لے جائیں یا پھر گھروں پر منگوا لیں۔

چیک ریپبلک میں بھی حکام نے کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کی وجہ سے تین ہفتوں کے لیے جزوی لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے۔ اس دوران، اسکول، ریستوراں، بارز اور کلب بند رہیں گے۔ عوامی مقامات پر شراب نوشی کی ممانعت ہو گی اور ماسک پہننا لازمی ہوگا۔یورپ کے کئی شہروں میں کیسز کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ بڑھ گیا ہے۔ فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں حکام کے مطابق ہسپتالوں کے انتہائی نگہداشت کے یونٹوں میں اگلے ہفتے سے بستر کم پڑ سکتے ہیں۔فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے حالیہ ہفتوں میں سماجی فاصلوں سے متعلق کئی اقدامات کا اعلان کیا ہے، لیکن توقع ہے کہ اس ہفتے حکومت پابندیاں مزید سخت کرنے جا رہی ہے۔مقامی میڈیا کے مطابق نئے اقدامات میں پیرس سمیت کورونا سے متاثرہ دیگر ‘ہاٹ اسپاٹس‘ میں شام کا کرفیو نافذ کیا جا سکتا ہے۔جرمنی میں بھی کیسز روز بہ روز بڑھتے جا رہے ہیں۔ منگل کو ایک دن کے دوران 5132 نئے کیسز ریکارڈ کیے گئے۔ اپریل کے بعد جرمنی میں ایک دن کے دوران یہ نئے کیسز کی سب سے زیادہ تعداد کوجرمن چانسلر انگیلا میرکل نے جرمنی اور یورپ میں صورتحال کو تشویشناک قرار دیا ہے۔ وبا کی روک تھام کے لیے وہ بدھ کو جرمنی کی سولہ وفاقی ریاستو ں کے منتخب وزرائے اعلیٰ کے ساتھ ایک اجلاس مین شرکت بھی کر رہی ہیں۔خیال ہے کہ اس میں حالات کے پیش نظر مزید نئے ضابطے متعارف کرانے پر غور ہوگا ۔اٹلی میں ایک دن کے اندر 6000 نئے کیسز سامنے آنے کے بعد حکومت نے نئے حفاظتی احکامات جاری کر دیے ہیں۔منگل کو حکومت نے عوامی مقامات پر لوگوں کے ملنے جلنے، اسکول، اسپورٹس اور ریستورانوں سے متعلق نئی ہدایات جاری کیں۔

 

آذر بائیجان اور آرمینیا کے درمیان جنگ بدستور جاری، آذر بائیجان کا آرمینیا میں ایک ہدف کو نشانہ بنانے کا اعتراف

فائر بندی معاہدے کے با و جود آذر بائیجان اور آرمینیا کے درمیان جنگ بدستور جاری ہے،اسی درمیان آذر بائیجان نے آرمینیا میں ایک ہدف کو نشانہ بنانے کا دعوہ کیا ہے۔ہندوستان ٹائمز میں شائع خبر کے مطابق  بدھ کے روز آذر بائیجان نے دعوہ کیا کہ اسنے  ارمینیا میں ایک ہدف  پر میزائل سے حملہ کر اسے تباہ کر دیا۔ دونوں ممالک نے حملے کی تصدیق کی ہے۔دو ہفتوں سے جاری اس جنگ میں اب تک سینکڑوں افراد مارے جا چکے ہیں۔آرمینیا نے اس جنگ میں اپنے شدید نقصان کا اعتراف کیا لیکن اس بات کا سختی سے انکار کیا ہے کہ اسنے آذر بائیجان کی کسی شہری آبادی کو نشانہ بنایا ہے جبکہ آذر بائیجان مسلسل آرمینیا پر اسکے شہری علاقوں کو نشانہ بناکر حملے کرنے کا الزام لگا رہا ہے۔بہرحال تجزیہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر یہ جنگ جلدی ہی ختم نہ ہوئی تو یہ خطے کے دوسرے ممالک کو بھی اپنی ذد میں لے سکتی ہے۔

جموں وکشمیرکے شوپیاں میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں دو دہشت گرد ہلاک

جموں و کشمیر میں شدت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری ہے۔اسی کے تحت ضلع شوپیاں کے علاقے چکورہ میں  سکیورٹی فورسز نے کل دو دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔روزنامہ دی ہندو میں شائع خبر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت کے بعد سے سرچ آپریشن جاری ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس پورے علاقہ کا محاصرہ کر لیا گیا ہے۔پولس کے مطابق سکیورٹی فورسز کو چکورہ کے علاقے میں دہشت گردوں کے چھپنے کے بارے میں خبر موصول ہوئی تھی جس کے بعد سی آر پی ایف اور جموں وکشمیر پولیس کے اہلکاروں نے سرچ آپریشن شروع کیا۔ تلاشی مہم کے دوران دہشت گردوں نے سکیورٹی فورسز پر فائرنگ شروع کردی۔جس کے بعد  جوابی کارروائی میں دو دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔مہلوک دہشتگردوں کے  پاس سے ہتھیار بھی برآمد کئے گئے ہیں۔