16.10.2020

چین کے الزام پر بھارت کا جواب،سرحد پر تنازعات کی وجہ معاہدوں پر عمل نہ کرنا

چین کی جانب سے ایل اے سی پر کشیدگی  کا الزام بھارت پر لگائے جانے کے جواب میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ گزشتہ 30 سالوں سے دونوں ممالک  نے امن کے ساتھ تعلقات قائم  کیے ہیں۔لیکن چین کی جانب سے معاہدوں کا احترام نہیں کیا جانا  کشیدگی  کے  بڑھنے کی بنیادی وجہ ہے۔

روزنامہ ہندوستان ٹائمز سمیت بیشتر اخبارات نے اس خبر کو اپنی سرخی بنایا ہے ۔خبر کے مطابق بھارت نے ایک بار پھر چین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سرحد پر فوج کی مکمل واپسی کے لئے اقدامات کرے۔

وزیر خارجہ نے ایک آن لائن فورم سے خطاب کے دوران کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان  بات چیت جاری ہے اور اس سلسلے میں جو پیش رفت  ہو رہی ہے وہ دونوں فریقوں کے مابین  ہے۔ چین کے ساتھ مذاکرات کے نتائج کے بارے میں  ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ بات چیت ہو رہی ہے اور یہ ایسا عمل ہے جو ابھی جاری ہے۔میں پہلے سے اس بارے میں کچھ کہنا نہیں چاہتا۔ہمیں انتطار کرنا چاہئے۔

امریکی جنگی جہاز کے تائیوان کے قریب سے گزرنے پر چین چراغ پا،امریکہ نے کہا خطے میں آزادانہ نقل و حمل کو یقینی بنانا ضروری

پہلے تجارت پھر  ہانگ کانگ کے مسئلے پر شدید تنازعات کے  بعد اب تائیوان کے معاملے پر امریکہ اور چین  کے مابین تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ روزنامہ دی ہندو میں شائع خبر کے مطابق بدھ کے روز امریکی جنگی جہاز یو ایس ایس بیری جب سمندر میں تائیوان کے قریب سے گزرا تو چین نے اسے خبردار کیا کہ وہ ایسی سرگرمیوں سے باز رہے۔ تاہم  امریکہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ اس سمندری خطہ میں آزادانہ نقل و حرکت کے لئے اس کی مہم جاری رہے گی۔

امریکی فوج نے اس معاملے پر  کہا کہ بحری بیڑہ اپنے روٹین کے مطابق اس علاقے سے گزر رہا تھا۔

چین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی ان سرگرمیوں سے خطے میں تنازعات بڑھینگے۔واضح ہو کہ کیونہ چین تائیوان کی خودمختاری کو تسلیم نہ کرکے اس کو اپنا حصہ مانتا ہے۔

امریکی بیڑے کی جانب سے چین کو دئے گئے جواب میں کہا گیا  ہے کہ تائیوان کی سمندری حدود  سے امریکی جنگی جہاز کا گزرنا اس علاقے  میں آزادانہ نقل و حمل کو یقینی بنانے کے لئے امریکہ کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ امریکی بحریہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے خطے میں جنگی جہازوں کی گشت جاری رکھے گی۔

قابل ذکر ہے کہ تائیوان ایک خود مختار ملک ہے جسکا اپنا جھنڈا ،اپنی کرنسی اور فوج ہے۔اور حال ہی میں امریکہ نے تائیوان کے ساتھ میزائل ٹیکنالوجی سمیت ہتھیاروں کی فراہمی کا معاہدہ کیا ہے۔ جسے چین ہضم نہیں کر پا رہا ہے۔

اسی درمیان چین نے امریکہ پر ایک اور الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہےکہ امریکہ تبت کو غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے۔

روزنامہ ہندوستان ٹائمز میں شائع خبر کے مطابق چین کا یہ بیان اس وقت آیا ہے جب چند گھنٹے قبل ہی امریکہ نے تبت میں انسانی حقوق کے معاملوں سے متعلق امور کے لئے خصوصی کو آرڈینیٹر مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا۔

بدھ کے روز واشنگٹن میں ایک پریس بریفنگ کے دوران پومپیو نے تبتی معاملات کے لئے بیورو آف ڈیموکریسی، انسانی حقوق، اور لیبر سے وابستہ اسسٹنٹ سیکریٹری روبرٹ ڈیسٹرو کو خصوصی کو آرڈینیٹر مقرر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس تقرری سے تبتی محاجرین کی ضروریات کو پورا کرنے،تبتی برادری کا تحفظ اور ان کی پائدار معاشی ترقی کو فروغ دینے کی امریکی کوششوں کو تقویت ملیگی۔جس پر چین کی وزارت خارجہ نے اپنی ناراضگی کا ظہار کرتے ہوئے امریکہ کے اس قدم کو چین کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی اور تبت کو غیر مستحکم کرنے والا عمل قرار دیا۔ 

وزارت خارجہ نے کہاہندوستان کی جانب سے پاکستان کو مذاکرات کے لیے کوئی پیغام نہیں بھیجا گیا، پاکستان کا جھوٹ بے نقاب

وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ  بھارت نے پاکستان کو بات چیت کی کوئی پیش کش نہیں کی ہے۔اس بیان سے صاف ظاہر ہے کہ  پاکستان کےقومی سلامتی کے مشیر نے اپنے عوام کو گمراہ کرنے کے لئے  جھوٹ بولاتھا 

ملک کے بیشتر اخبارات نے اس خبر کو اپنی سرخی بنایا ہے۔روزنامہ دی ہندو اس حوالے سے تحریر کرتا ہے کہ وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ شریواستو نے یہ بیان پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف کے اُس بیان سے متعلق ایک سوال کے جواب میں دیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ بھارت نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

انوراگ شریواستو نے کہا ‘میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ہماری جانب سے ایسا کوئی پیغام نہیں بھیجا گیا ہے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے ہندوستان  کے ایک صحافی  کو دیے اپنے ایک انٹرویو میں یہ کہا تھا کہ بھارت کی جانب سے بات چیت شروع کرنے کا پیغام ملا ہے۔

ہندوستانی  وزارت خارجہ کے ترجمان نے انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ایک بھارتی میڈیا گروپ کے ساتھ پاکستان کے ایک اعلیٰ اہلکار کے انٹرویو کی خبریں پڑھی ہیں ’جس میں انھوں نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ہندوستان  کے اندرونی معاملے پر غیر ضروری تبصرہ کیا ہے‘۔

ترجمان نے مزید کہا کہ ہمیشہ سے  پاکستان کی یہ کوشش رہی ہے کہ ہندوستان  کا نام اچھال کر حکومت کی ناکامیوں سے توجہ ہٹاکر  اپنی عوام کو گمراہ کیا جائے۔

انھوں نے مزید کہا کہ وہ پاکستان کے اہلکار کو یہی صلاح دیں گے کہ ’وہ اپنے مشورے اپنی حکومت تک محدود رکھیں اور بھارت کے اندرونی معاملات پر تبصرہ کرنے سے گریز کریں۔

پاکستان میں نہ صرف غیر قانونی طریقے سے گرفتاریاں کی جاتی ہیں بلکہ سزا پوری ہونے کے باوجود بھی لوگوں کو جیل میں رکھا جاتا ہے۔چار بھارتی شہریوں کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ سامنے آیا ہے جسکے بعد ہندوستانی ہائی کمیشن نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رابطہ کیا ہے۔

روزنامہ انڈین ایکسپریس اس حوالے سے تحریر کرتا ہے کہ بھارتی حکام نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے ایسے چار ہندوستانی  شہریوں کی رہائی کے لیے کہا ہے جنھیں پاکستان میں مبینہ  آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت سزائیں دی گئی تھیں اور وہ یہ سزا پوری کر چکے ہیں۔اس لئے اب انکو مذید قید میں رکھنا غیر قانونی ہے۔

بھارتی  ہائی کمیشن کی جانب سے فرسٹ سیکریٹری اپرنا رائے کے ذریعہ دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ برجو ڈونگ کی سزا سنہ 2007 میں، سونو سنگھ کی 2012 میں، وگیان کمار کی 2014 میں جبکہ ستیش بھوگ کی 2015 میں مکمل ہو چکی ہے لیکن ابھی تک ان قیدیوں کو رہا نہیں کیا گیا۔

درخواست گزاروں کے وکیل نے  دعویٰ  کیا ہے کہ جن افراد کی رہائی کی درخواست کی گئی ہے وہ دراصل ماہی گیر ہیں اور فوجی عدالتوں سے ملنے والی سزا کے بعد ان میں سے تین قیدیوں کو لاہور کی جیل میں جبکہ ایک قیدی کو کراچی کی جیل میں رکھا گیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے یہ درخواست منظور کر لی ہے اور اس کیس کی سماعت جسٹس محسن اختر کیانی پر مبنی ایک رکنی بینچ آج  کرے گا۔

پاکستان میں اپوزریشن کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری

پاکستان میں عوام پر تشدد کرنے کے معاملے  میں عمران حکومت بھی کسی طرح سے پیچھے نہیں ہے ۔ روزنامہ انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق پاکستان کے صوبہ پنجاب میں پولس کی جانب سے اپوزیشن جماعتوں کے تقریبا چار سو پچاس کارکنان کے خلاف کیس درج کر لئے ہیں۔انمیں زیادہ طر کارکن نواز شریف کی جماعت سے منسلک ہیں۔واضح ہو کہ پاکستان کی اپوزیشن جماعتیں عمران خان کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں اور پی ٹی آئی حکومت مظاہرین کو دبانے کے لئے ہر حربے کا استعمال کر رہی ہے۔

بنکاک میں شدید مظاہروں کے درمیان تھائی لینڈ کے وزیر اعظم نے کیا ملک میں ایمرجنسی کا اعلان

تھائی لینڈ کی حکومت نے بنکاک میں جاری مظاہروں سے نمٹنے کے لیے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ایمرجنسی کے نفاذ کے تحت ملک میں بڑے اجتماعات پر پابندی لگائی گئی ہے اور کئی اپوزیشن رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

روزنامہ دی انڈین ایکسپریس میں شائع خبر کے مطابق پولیس حکام کی جانب سے ٹیلی ویژن پر کیے گئے اعلان میں کہا گیا ہے کہ لوگوں کے بہت سے گروہوں نے بنکاک میں غیر قانونی عوامی اجتماعات کے لیے عوام کو دعوت نامے دیے اور  مشتعل کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ملک میں امن و امان قائم رکھنے کے لیےیہ اقدامات ضروری تھے۔

جبکہ مظاہرین کی جانب سے تھائی بادشاہ کے اختیارات کم کرنے اور تھائی وزیر اعظم پرایوتھ چان اوچا کے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

سرکاری ٹی وی پر کیے گئے اعلان میں کہا گیا ہے کہ مظاہرین نے ملک میں ’بدامنی اور افراتفری کی فضا کو ہوادی ہے۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ایمرجنسی کے نفاذ کی وجہ مظاہرین کی جانب سے بدھ کے روز شاہی قافلے کی راہ میں  بھی رکاوٹ حائل کی گئی۔

واضح ہو کہ حکومت مخالف مظاہروں کی قیادت طلبا تنظیم  اور نو جوانوں کے ہاتھوں میں ہے اور گزشتہ روز ہزاروں مظاہرین نے ملکہ کا قافلہ روک کر انہیں احتجاجی سلام کیا تھا ،اسی واقعے کو جواز بناکر حکومت نے ایمرجنسی نافذ کی ہے۔

الیکشن کے بعد پیدا شدہ تنازعات کی وجہ سے کرغستان کے صدر کا استعفی

وسطی ایشیا کے ملک کرغستان کے صدر سورونبائی جین بے کوف نے الیکشن میں دھاندلی کے الزامات  اور حکومت مخالف مظاہرون کے بعد مستعفی ہو گئے ہیں۔

روزنامہ دی ہندو اس حوالے سے رقمطراز ہے کہ منگل کے روز صدر کوف نے مستعفی ہوتے ہوئے کہا کہ وہ سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان تصادم اور خونریزی  سے بچنے کے لئے اپنے عہدے کی قربانی دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں کوئی خونی جھڑپ نہیں چاہتا اسی لئے فریقین سے اشتعال انگیزی سے  بچنے کی اپیل کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ملک کی تاریخ میں خود کو ایسا صدر کہلوانا نہیں چاہتے جسنے اپنے ہی شہریوں کا خون بہایا ہو۔