پاکستانی فوج کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے عمران خان کی اندھی ہند دشمنی 

ایسا لگتا ہے کہ اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے فوج کے سیاسی رول کے خلاف چلائی جانے والی تحریک سے وزیر اعظم عمران خان کچھ اتنے گھبراگئے ہیں کہ انہیں ہندوستان دشمنی کے علاوہ زیر آسمان کوئی اور چیز نظر نہیں آرہی ہے۔ ان کی ہر تقریر اور ہر بیان کی تان ہندوستان دشمنی پر ہی ٹوٹ رہی ہے۔ جب سے اپوزیشن پارٹیوں نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نام کا اتحاد قائم کیا ہے، اسی وقت سے فوج اور عمران حکومت دونوں کی نیندیں اڑی ہوئی ہیں اور انہوں نے ہندوستان دشمنی کےجذبے کو گویا  اپنی سب سے بڑی ’’پناہ گاہ‘‘ بنالیا ہے۔ انہیں شاید یہ لگنے لگا ہے کہ اپوزیشن کی اس تحریک کو دبانے اور اسے بدنام کرنے کا بس ایک ہی ذریعہ رہ گیا ہے کہ پاکستان میں رونما ہونے والے ہر ناخوشگوار واقعے کا ذمہ دار ہندوستان کو قرار دے دیا جائے تاکہ عوام کی توجہ حکومت کی ناقص کارکردگی اور ہر محاذ پر ملنے والی  ناکامی کی طرف سے دوسری طرف مبذول کرائی جاسکے۔ یاد رہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ یا  پی ڈی ایم نے ملک گیر تحریک اس لیے شروع کی ہے کہ فوج سیاسی معاملات میں مداخلت کرکے غیر جمہوری فعل کی مرتکب ہوئی ہے اور اس طور پر جمہوریت کو نقصان پہنچارہی ہے۔ اپوزیشن کے الزام کے مطابق فوج ہی عجیب عجیب ہتھکنڈے استعمال کرکے 2018 کے انتخابات کے بعد عمران خاں کو برسراقتدار لائی تھی۔ اسی لیے اپوزیشن کی حالیہ سیاسی سرگرمیوں کا نشانہ پاکستانی فوج کے ساتھ عمران حکومت بھی بن رہی ہے۔ اپوزیشن نے ملک گیر پیمانے پر مختلف شہروں اور علاقوں میں ریلیوں اور جلسوں کا اہتمام کرنے کا پروگرام ترتیب دیا ہے۔ اس سے قبل 16 اکتوبر کو ایک ریلی کا اہتمام صوبۂ پنجاب میں بھی کیا گیا۔ خبر ہے کہ 18 اکتوبر کو جو ریلی ہوگی اس میں پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی نائب صدر مریم نواز بھی شرکت کریں گی اور عوامی ریلی سے خطاب کریں گی حالانکہ وہ اس طرح کے عوامی جلسوں میں کم ہی شریک ہوتی ہیں۔

بہر حال اپوزیشن لیڈروں کے اس پروگرم سے فوج بطور خاص گھبرائی ہوئی ہے کہ اب تک اسے اس طرح کی کسی عوامی تحریک کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا جس میں اسی کے رول پر سوال اٹھایا جاسکے۔ اب تک صرف دبی دبی زبان سے لوگ شکایت کیا کرتے تھے۔ ماحول کچھ ایسا بن گیا تھا کہ فوج کی تنقید کرنے والوں پر پاکستان دشمنی اور اسلام دشمنی کا الزام لگادیا جاتا تھا۔ اب بھی فوج کی تنقید کرنے والوں کو جیلوں میں بند کیا جاتا ہے یا ان کے خلاف حالات اتنے ناسازگار بنادیئے جاتے ہیں کہ وہ  یا  تو  ملک چھوڑ کر چلے جاتے ہیں یا خاموش رہنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔ اس وقت بھی بہت سےصحافی، ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ اور بلاگرز کسی نہ کسی طور پر فوج کی سختیوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ظاہر ہے فوجی ٹولے نے اپنا دبدبہ اس طور پر قائم کرلیا ہے کہ ایک نہ ایک دن تو یہ بات عوام کے سامنے آنی ہی تھی۔ سو، اس صورت حال سے فوج پریشان ہے اور اس کی مداخلت میں وزیر اعظم عمران خان، ان کی تحریک انصاف پارٹی کے ممبران اور حامی نیز فوجی اور سرکاری افسران سامنے آکر فوج کی زبان بول رہے ہیں اور فوج کی زبان یہ ہے کہ پاکستان کی ہر تباہی کے لیے ہندوستان کو ذمہ دار قرار دیا جائے۔ خود وزیراعظم عمران خان فوج سے اپنی دوستی اس طور پر نبھا رہے ہیں کہ پاکستان کے مسلکی تنازعات کا سلسلہ بھی وہ ہندوستان سے جوڑنے کی کوشش کر بیٹھے، ایک حالیہ واقعے سے اس بات کا بخوبی اندازہ ہوجائےگا کہ ان کی فوج نوازی نے انہیں کس سطح پر لاکھڑا کیا ہے۔

ابھی دو ہی روز پہلے کی بات ہے کراچی میں ایک سنی لیڈرمولانا عادل خان کو نامعلوم افراد نے قتل کردیا۔ خبر کے مطابق جامعہ فاروقیہ مدرسہ کے سربراہ مولانا عادل خان گزشتہ سنیچر کو ایک مارکیٹ میں کچھ خریداری کے لیے آئے۔ جب ان کی کار ایک دکان کے سامنے رکی تو موٹر سائیکل پر سوار افراد نے پہلے گولی مارکر ان کے ڈرائیور کو ہلاک کیا اور پھر اس کے بعد مولانا پر بھی تین گولیاں چلائی گئیں جو ان کے سر، گردن اور سینے پر لگیں۔ قاتل قتل کرنے کے بعد فورا موٹرسائیکل پر فرار ہوگئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ نشانہ بند قتل ہوسکتا ہے، لیکن وزیراعظم عمران خان نے ادھر ادھر دیکھے بغیر یہ بیان داغ دیا کہ کہ اس کے پیچھے ہندوستان کا ہاتھ ہوسکتا ہے جو پاکستان میں مسلکی ٹکراؤ کو بڑھاوا دینا چاہتا ہے۔ مسلکی ٹکراؤ تو پاکستان میں ایک عرصہ سے جاری ہے اور متعدد مسلکی دہشت گرد گروپ ایک زمانے سے وہاں سرگرم ہیں، ایک دوسرے کے لیڈروں کا قتل بھی کرتے رہے ہیں اور مسجدوں، امام بارگاہوں حتی کہ صوفی بزرگوں کی درگاہوں پر بھی حملے کرتے رہے ہیں۔ پاکستان کی مسلکی منافرت تو پوری اسلامی دنیا میں جانی جاتی ہے اور جس طرح وہاں ایسے گروپوں کی سرپرستی ہوتی ہے اسے سمجھنا کوئی راکٹ سائنس جیسا معاملہ نہیں ہے۔ ابھی دو سال قبل ہی اسی پاکستانی فوج نے جس کی مداحی آج عمران خان کررہے ہیں ایک انتہاپسند مسلکی گروپ کی منھ بھرائی اور حوصلہ افزائی کی تھی اور اس وقت کی حکومت کے سربراہ سے مل کر اس کے سارے مطالبات تسلیم کرنے پر حکومت کو مجبور کردیاتھا۔ بس یہی ہوا ہے، اس کا وزیر اعظم ہندوستان پر یہ الزام لگارہا ہے کہ وہ پاکستان میں مسلکی ٹکراؤ کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ کیا کسی بھی زاویے سے کسی حکومت  کے سربراہ کو یہ بات زیب دیتی ہے کہ وہ اس سطح پر آکر ایسا اوچھا بیان دے؟