18.10.2020

 دہشت گردی کی پشت پناہی  پر پاکستان کی تنقید، وزیر اعظم نے کہا اسے فروغ دینے والے ممالک کوقصوروار ٹھہرایا جائے

 برازیل،روس، بھارت، چین اور ساؤتھ افریقہ یعنی برکس ممالک نے منگل کے روز دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے نئے لائحہ عمل پر گفتگو کی۔اس دوران وزیر اعظم نے دہشت گردی کی پشت پناہی  پر پاکستان کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسے فروغ دینے والے ممالک کوقصوروار ٹھہرایا جائے کیونکہ دہشت گردی دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ملک کے سبھی اخبارات نے برکس ممالک کے چوٹی اجلاس میں وزیر اعظم کے خطاب  کو اپنی شہ سرخی بنایا ہے۔ روزنامہ ہندوستان ٹائمز میں شائع خبر کےمطابق  روسی صدرولادمر پوتن کی صدارت میں برکس ممالک کے ورچول اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے  وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان کا نام لئے بغیراسے ہدف تنقید بنایا۔ اس موقع پر ، انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور آئی ایم ایف اور ڈبلیو ٹی او جیسی تنظیموں میں اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا  ۔ انہوں نے کہا  کہ دہشت گردی آج دنیا کے سامنے  سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ہمیں اس بات کو یقینی کرنا ہوگا  کہ دہشت گردوں کی  حمایت  اور مدد کرنے والے ممالک کو بھی مجرم ٹھہرایا جانا چاہئے  اور اس مسئلے سے منظم انداز میں نمٹا  جائے ۔مودی نے کہا کہ ہندوستان نے’آتم نربھر بھارت مہم‘ کے تحت ایک جامع اصلاحاتی عمل کا آغاز کیا ہے اور یہ مہم اس اعتماد پر مبنی ہے کہ  ہندوستان کووڈ- 19 وبا کے بعد عالمی معیشت کے لئے  ’فورس ملٹی پلائر‘ ہوسکتا ہے  اور عالمی سطح پر فراہمی کی  کڑیوں   میں ایک مضبوط کردار ادا کر سکتا ہے ۔ 

 انہوں نے  کہا کہ ہم نے اس کی مثال کورونا وبا کے دوران بھی دیکھی ، جب ہم ہندوستانی دوا ساز کمپنیوں  کی قابلیت کی وجہ سے 150 سے زائد ممالک میں ضروری دوائیں بھیجنے میں کامیاب ہوپائے۔ ہماری ویکسین کی تیاری اور ترسیل کی گنجائش بھی  اسی طرح انسانیت کے مفاد  میں کام آئے گی ۔ مودی نے کہا کہ برکس کے 15 سال 2021 میں مکمل ہوں گےاور جب ہندوستان اس کی صدارت کرے گا ،  تب برکس کے تینوں ستونوں  میں  انٹرا۔  برکس تعاون کو مستحکم کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔ قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل 2019 میں، وزیر اعظم گیارہویں برکس  سربراہی اجلاس میں  شرکت کے لئے برازیل گئے تھے۔ اس بار کورونا وبا کی وجہ سے یہ اجلاس  ورچوئل طریقے  سے منعقدہوا۔ اس بار برکس کانفرنس میں دہشت گردی ،  تجارت ،  صحت  اور توانائی کے ساتھ ساتھ کورونا سے ہونے والے نقصان کی تلافی کے اقدامات جیسے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

 

 وزیر اعظم نریندر مودی نے دی  امریکہ کے نو منتخب صدر کو مبارکباد، باہمی امور پر تبادلہ خیال

 وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے  کہ انہوں نے منگل کی شام امریکہ کے نو منتخب صدر جو بائیڈن سے بات کی ہے۔روزنامہ دی ہندومیں شائع خبر کے مطابق اپنے ایک ٹویٹ میں وزیر اعظم نے کہا کہ امریکہ کے نو منتخب صدر جو بائیڈن کو مبارکباد دیتے ہوئے فون پر گفتگو کی۔ ہم نے ہندوستان۔امریکہ تعلقات کے تئیں اپنی مضبوط اسٹریٹجک  شراکت داری  کا اعادہ کیا۔باہمی  ترجیحات کے حامل امور اور مسائل پر گفت و شنید  سمیت ، کووڈ ۔ 19 وبا،  ماحولیاتی تبدیلی اور ہند بحر الکاہل کے خطے میں تعاون پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ گفتگو کے دوران وزیر اعظم  نے جناب بائیڈن کے ساتھ گذشتہ ملاقاتوں کا بھی ذکر کیا جب بائیڈن نے2014 میں نائب صدر کی حیثیت سے ہندوستان کا دورہ کیا تھا اور 2016 میں  جب انہوں نے امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس کی صدارت کی تھی  جس سے وزیر اعظم نے اپنے امریکی کے دورے کے دوران خطاب کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم مودی نے  اپنےایک الگ پیغام میں نو منتخب امریکی نائب صدر  کملاہیرس کو بھی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا انتخاب ہند۔امریکی برادری کے لئےباعث فخر ہے۔ 

 

 

 براک اوباما کے انکشاف سے پاکستان بے نقاب، سابق صدر نے کہا پاکستانی فوج میں کچھ لوگوں کا تھا القاعدہ سے رابطہ

 پاکستان کی یہ بوالعجبی ہے کہ جب جب وہ دہشت گردی کے خلاف چھوٹا پروپیگنڈہ پھیلا نے کی کوشش کرتا ہے ،اس کا اصلی چہرہ دنیا کےسامنے عیاں ہو جاتا ہے ۔ ایسا ہی اس مرتبہ بھی ہوا ہے کیونکہ پاکستان کے تعلق سے اس مرتبہ جو حقیقت سامنے آئی ہے وہ کوئی عام رپورٹ نہیں بلکہ سابق امریکی صدر کاانکشاف ہے جن کے دور اقتدار میں ہی پاکستان کے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کوہلاک کیا گیا تھا۔ بیشتر اخبارات نے اس خبر کو اپنی شہ سرخی بنایا ہے ۔روزنامہ ٹائمز اف انڈیا میں شائع خبر کے مطابق اوبامہ نے ’اے پرامسڈ لینڈ‘ نامی اپنی کتاب میں صدر کے طور پر اپنی مدت کار میں ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف مارے گئےچھاپے کی جانکاری دی ہے۔ امریکی کمانڈو کے اس چھاپے میں دنیا کا مطلوب ترین دہشت گرد اسامہ بن لادن 2 مئی 2011 کو مارا گیا تھا۔  امریکہ کے سابق صدر براک اوبامہ نے کہا ہے کہ انہوں نے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے ٹھکانے پر چھاپہ مارنے کی مہم میں پاکستان کو شامل کرنے سے انکارکر دیا تھا کیونکہ یہ ’بات عیاں‘ تھیں کہ پاکستان کی فوج،  خاص کر اس کی خفیہ سروس میں کچھ عناصر کے طالبان اور ممکنہ طور پر القاعدہ  سے رشتے تھے اور وہ کئی بار افغانستان اور ہندستان کے خلاف اسٹریٹجک سرمائے  کے طورپر اس کا استعمال کرتے تھے۔

امریکہ کے سابق صدر نے بتایا کہ ایبٹ آباد میں پاکستانی فوجی چھاؤنی کے باہر ایک پناہ گاہ میں اسامہ بن لادن کے رہنے کی بات واضح ہو جانے کے بعدالقاعدہ سربراہ کو مارنے کے لئے کئی متبادل پر غور وخوض کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم کی رازداری برقرار رکھنے کی ضرورت نے چیلنج بڑھا دیا تھا۔ اوبامہ نے کہا  ’ہم جانتے تھے کہ اگر کسی کو بن لادن کے بارے میں ہمارے قدم کی ذرا سی بھی بھنک لگ گئی تو موقع ہمارے ہاتھ سے چلا جائے گا، اس لئے پوری وفاقی حکومت میں صرف کچھ ہی لوگوں کو مہم کی جانکاری دی گئی تھی۔ ہمارے سامنے ایک اور رکاوٹ تھی۔ ہم بھلے ہی کوئی بھی متبادل منتخب کرتے لیکن اس میں پاکستان کو شامل نہیں کیا جا سکتا تھا‘۔

 

 چین میں تانا شاہی عروج پر، کورونا کی رپورٹنگ کرنے  پر خاتون صحافی کو  جیل بھیجا گیا 

 چین میں جو شخص بھی حکومت کے خلاف لکھتا ہےچینی حکومت اسے جیل میں ڈال دیتی ہے۔چاہے صحافی ہی کیوں نہ ہو۔ کورونا وبا سےمتعلق چین کی حکومت کے خلاف رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں پر چینی حکومت نے زیادہ ظلم ڈھائے ہیں۔ جس نے بھی چین کی حکومت نے پول کھولنے کی کوشش کی اسے جیل میں ڈال دیاگیا۔ واضح ہو کہ چین کی حکومت پر مسلسل یہ الزام ہے کہ وہ کورونا وائرس سے متعلق حقائق کو چھپاتی رہی ہے۔ روزنامہ ٹائمز اف انڈیا میں شائع خبر کے مطابق اس بات کاانکشاف ہوا ہے  کہ چین کے شہر ووہان میں کورونا وائرس پر رپورٹنگ کرنے والی ایک خاتون صحافی کو چینی حکومت نے پانچ سال کے لئے جیل کی سزا سنائی ہے۔ 37  سالہ چینی صحافی جھانگ جھان کو گزشتہ مئی کے مہینے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ تبھی سےجیل میں ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے جھگڑا کرنے کی کوشش کی اور انتظامیہ کےلئے پریشانی کھڑی کی۔قابل ذکر ہے کہ چین ہمیشہ سماجی کارکنان کے خلاف اسی طرح کےالزامات کا استعمال کرتا رہا ہے۔ چین میں انسانی حقوق کے علم برداروں کے مطابق خاتون صحافی 14 مئی سے غائب تھیں ، بعد میں معلوم ہوا کہ انہیں شنگھائی پولیس نےگرفتار کیا ہے۔گزشتہ روز داخل کی گئی فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ خاتون صحافی نےغلط جانکاری پھیلائی تھی۔ان پر یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیا اور ووہان کی خبریں لیک کیں۔ ان تمام الزامات کو بنیاد بناکرچینی حکومت نے انہیں پانچ سال قید کی سزا دی ہے۔ اس طرح کی کارراوائی سے حکومت چین ہر اس آواز کو دبانا چاہتی ہے جو  سرکار کے خلاف بلند ہو رہی ہو۔

 

 بھارت کے لئے بائیڈن اجنبی نہیں ، دو طرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے: وزیر خارجہ کی یقین دہانی

 وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے منگل کے روز اس یقین کا اظہار کیا کہ جو بائیڈن انتظامیہ کی قیادت میں بھارت۔امریکہ تعلقات مزیدمستحکم ہوں گے۔ روزنامہ ہندوستان ٹائمز اس حوالے سے رقمطراز ہے کہ وزیر خارجہ نےکہا ہےکہ جو بائیڈن ایک ایسے دور کا حصہ رہے ہیں جس میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات نے نئے بلندیاں حاصل کیں۔  ایس جے شنکر نے مزید کہا کہ جو بائیڈن جب نائب صدر تھے  تب انہون نے  بائیڈن کےساتھ کام کیا ہے۔اوبامہ انتظامیہ کے دور میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر  وہاںسفیر کے طور پر اپنی ذمہ داری نبھا رہے تھے۔ وزیر خارجہ نے ان خیالات کا اظہار ایک تھنک ٹینک کے ذریعہ منعقد آن لائن اجلاس کے دوران کیا۔ اپنے خطاب کے دوران وزیرخارجہ نے یہ بھی کہا کہ نہ ہی نو منتخب صدر بھارت کے لئے اجنبی ہیں اور نہ ہی بائیڈن دونوں ممالک کے تعلقات سے انجان ہیں۔انہوں اس یقین کا بھی اظہار کیا کہ دونوں ممالک وہیں سے رفتار پکڑیں گے جہاں رکے تھے۔   

 

 افغانستان سے فوجیوں کی جلد واپسی پر بڑی قیمت چکانی پڑ سکتی ہے:ناٹو سربراہ کا انتباہ

 ناٹو افواج کے سربراہ نے آگاہ کیا ہے کہ افغانستان سے فوجیوں کی جلد واپسی پر بڑی قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔ ٹائمز اف انڈیاکی خبر کے مطابق ناٹو سربراہ اسٹولٹین برگ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے کہ جب ان کے اس بیان سے قبل امریکہ کے ایک عہدیدار نے کہا تھا امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ آنے والے ہفتوں میں بڑی تعداد میں افغانستان سے امریکی فوجیوں کو واپس بلا سکتےہیں ۔ ناٹو سربراہ  کا کہنا ہے کہ اب وہ مشکل فیصلوں کا سامنہ کر رہے ہیں۔افغانستان سےجلدی نکلنے یا  بغیر کسی حل کے  واپس آنے کی بڑی قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جنگ زدہ اس ملک کے پھر سے دہشت گردی کا مرکز بننے اور دہشت گردوں کے ذریعہ ہمارے ملکوں کونشانہ بنانے کے لئے اس ملک کے استعمال کا خطرہ ہے۔اس کے علاوہ ملک شام اور عراق سےنکالے گئے داعش کے شدت پسند بھی یہاں اپنا ٹھکانہ بناسکتے ہیں۔