19.11.2020

ریجنل کامپری ہینسیو اکنامک پارٹنرشپ  (آر سی ای پی)میں شامل ہونا بھارت کے مفاد میں نہیں:وزیر خارجہ کا بیان

وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ گزشتہ برس ہندوستان، علاقائی جامع معاشی تعاون یعنی ریجنل کامپری ہینسیو اکنامک پارٹنرشپ معاہدے  سے اس لئے الگ ہو گیا تھا کیونکہ اس میں شامل ہونے سے ملک کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوتے۔اکنامک ٹائمز کی خبر کے مطابق بدھ کے روز سینٹر فار یوروپین پالیسی اسٹڈیز کے ذریعہ منعقد ہ ایک آن لائن اجلاس کے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ میں اصلاحات پر بھی زور دیا۔انہوں نے کہا کہ ایک یا دو ملکوں کو اپنے مفاد کے لئے کسی عمل کو روکنے کا اختیار نہیں ہونا چاہئے۔

بھارت اور یورپی یونین کے ما بین مجوزہ  آزاد تجارتی معاہدے پر جے شنکر کہا کہ بھارت متوازن اور غیر جانبدار معاہدے کی امید رکھتا ہے۔ ریجنل کامپری ہینسیو اکنامک پارٹنرشپ معاہدے  سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت اس گروپ سے اس لئے علیحدہ ہو گیا کیونکہ بھارت کی جانب سے ظاہر کئے گئے تحفظات کا تصفیہ نہیں کیا گیا۔غور طلب ہے کہ گزشتہ اتوار کے روز چین سمیت پندرہ ایشیائی ممالک نے ایک بڑے تجارتی معاہدے پر دستخط کئے ہیں،جبکہ بھارت اور امریکہ جیسی بڑی معیشتیں اس معاہدے میں شامل نہیں ہیں۔

گفتگو کے دوران وزیر خارجہ نے کہا کہ اس معاہدے سے متعلق جب ہمارے خدشات کا کوئی حل نہیں پیش کیا گیا تو اس وقت ہمیں یہ فیصلہ لینا تھا کہ ایسی صورتحال میں ہم معاہدے میں شامل ہوں یا پھر معاہدے کو اپنے حق میں بہتر نہ دیکھتے ہوئے اس سے علیحدہ ہو جائیں۔ ایسے حالات میں ہمنیں جو فیصلہ لیا وہ آپ سب کے سامنے ہے۔کیونکہ اس میں شامل ہونے سے ہماری معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ۔

 

فوج نے بنائے لداخ میں تعینات جانبازوں کےلئے اسمارٹ شیلٹر

چین کے ساتھ مشرقی لداخ میں پچھلے چھ مہینے سے بھی زیادہ وقت سے چلے آرہے فوجی تعطل کے لمبا کھینچنے کے آثار دیکھتے ہوئے فوج نے خون  جمع دینے والے برفیلے  علاقوں میں تعینات جوانوں کے رہنے کےلئے سبھی ضروری جدید سہولیات سے لیس خصوصی شیلٹر اور اسمارٹ ٹینٹ بنائے ہیں۔ملک کے بیشتر اخبارات نے اس خبر کو اپنی شہ سرخی بنایا ہے ۔

روزنامہ دی ٹیلیگراف میں شائع خبر کے مطابق ان شیلٹروں میں سردیوں کی منفی اور خراب حالات کو دیکھتے ہوئے بجلی ،پانی ،خاص قسم کے ہیٹر ،طبی ضروریات اور صاف صفائی پر خاص دھیان دیا گیا ہے۔ محاذ پر تعینات جوانوں کےلئے خاص قسم کے گرم ٹینٹوں کا انتظام کیاگیا ہے۔ فوج کے ذرائع نے آج بتایا کہ لداخ کے سب سے زیادہ اونچے پہاڑی علاقوں میں نومبر کے بعد 40 فٹ تک برف گرتی ہے۔برفیلی ہواؤں کے چلنے سے وہاں درجہ حرارت صفر سے 30 سے 40 ڈگری تک کم ہوجاتا ہے۔کئی بار برفباری کی وجہ سے راستے بھی بند ہوجاتے ہیں۔ان سب باتوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے فوج نے وہاں تعینات جوانوں کےلئے خاص تیاری کی ہے اور ان کے وہاں رہنے کے چاک چوبند  انتظام کے ساتھ ساتھ ان کی سہولیات مہیا کرائی ہے۔فوج نے وہاں تعینات جانبازوں کےلئے پہلےسے موجود اسمارٹ کیمپوں کے علاوہ اب خاص شیلٹر بنائے ہیں جن میں سبھی جدید سہولیات موجود ہیں۔ان شیلٹروں میں بجلی ،پانی ہیٹروں ،صحت سے متعلق ضرورتوں کے ساتھ ساتھ صفائی کا خاص دھیان رکھا گیا ہے۔عبوری محاذ پر تعینات جانبازوں کےلئے خاص قسم کے گرم ٹینٹ لگائےگئے ہیں۔اس کے علاوہ ہر قسم کے مشکل حالات سے نمٹنے کےلئے بھی مناسب ڈھانچہ جاتی سہولیات کی شناخت کرلی گئی ہے جو ضرورت  پڑنے پر فوراً کام آسکتی ہیں۔ہندوستان اور چین کے فوجی کمانڈروں کی آٹھ دور کی بات چیت کے بعد بھی تعطل ختم ہونے کے ٹھوس اشارے نہیں ملے ہیں،جس سے تعطل کے لمبا کھنچنے کے آثار ہیں۔اسے دیکھتے ہوئے فوج نے سردیوں میں جوانوں کو پیش آنے والی تمام دقتوں کو دھیان میں رکھ کر سبھی ضروری اقدامات کر لئے ہیں۔دہائیوں بعد یہ پہلا موقع ہے جب دونوں افواج نے اس علاقے میں اپنی موجودگی کو اس حد تک بڑھایا ہے۔دونوں افواج کے 50-50 ہزار سے بھی زیادہ فوجی ان علاقوں میں تعینات ہیں۔ اس حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے فوج نے سبھی طرح کے فوجی سازوسامان ،گاڑی اور ہتھیاربھی جمع کئے ہیں۔ 

 

صدارتی الیکشن کو شفاف قرار دینے پرٹرمپ نے کیا اعلیٰ عہدیدار  کو برطرف

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے صدارتی انتخابات کو شفاف قرار دینے پر ڈائریکٹر ہوم لینڈ سائبر سیکورٹی اینڈ انفرا اسٹرکچر کرسٹوفر کربز کو عہدے سے بر طرف کر دیا۔اس خبر کو بیشتر اخبارات نے اپنی سرخی بنایا ہے۔ دی ہندو میں شائع خبر کے مطابق ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکی انتخابات کے دوران سائبر سیکورٹی کے معاملات دیکھنے والے افسر کرسٹوفر کربز کو برطرف کرنے کا حکم سوشل میڈیا کے ذریعے جاری کیا۔صدر ٹرمپ کی جانب سے ہوم لینڈ سیکورٹی سائبر اینڈ انفرا اسٹرکچر کے سربراہ کو 3 نومبر کو ہونے والے انتخابات کے حوالے سے ان کے ادارے کی جانب سے لکھے گئے ایک کالم کے باعث عوامی سطح پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔

اس بلاگ میں کرسٹوفر کربز کے ادارے نے امریکی انتخابات کے حوالے سے فراڈ اور ہیکنگ کے الزامات کو جھوٹ پر مبنی قرار دیا تھا، یہ الزامات زیادہ تر ڈونالڈ ٹرمپ یا ان کے وکلاء کی جانب سے لگائے گئے تھے۔صدارتی الیکشن کو امریکی تاریخ کے شفاف ترین انتخابات قرار دینے والے افسر کرسٹوفر کربز کا معطلی کے بعد امریکی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انہیں  فخر ہے کہ انہوں نے اورانکی  ٹیم نے سی آئی اے ایس کے لیے کام کیا، انکامزید کہنا تھا کہ انہوں  نے بہترین کام کیا۔ واضح رہے کہ 3 نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے نتائج آنے کا سلسلہ تاحال جاری ہے اور ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن کو ری پبلکن حریف ڈونالڈ ٹرمپ پر ناقابل شکست برتری حاصل ہے تاہم ٹرمپ کی جانب سے انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات مسلسل عائد کیے جا رہے ہیں۔

 

چین سے دوستی کے باعث پاکستانی مزدوروں کے استحصال پر  کراچی میں احتجاج

چین سے پاکستان کی  دوستی کا  خمیازہ مسلسل پاکستانی عوام کو جھیلنا پڑ رہا ہے آئے دن چینی اہلکاروں کی جانب سے پاکستانیوں کے استحصال کی خبریں منظر عام پر آتی رہتی ہیں۔اس کے علاوہ اب پاکستانی افسران بھی اپنے عوام سے زیادہ چینی اہلکاروں پر مہربان ہیں۔تازہ معاملہ چین۔پاکستان اقتصادی راہداری پر کام کرنے والے مزدوروں کا ہے۔جنہوں نے یکساں مزدوری نہ ملنے کی وجہ سے کراچی میں مظاہرہ کیا۔

روزنامہ ہندوستان ٹائمز اس حوالے سے تحریر کرتا ہے کہ پاکستان کے شہر کراچی میں سی پیک سے وابستہ ہزاروں مزدوروں نے چین کے خلاف مظاہرہ کیا۔انکی شکایت ہے کہ انہیں یکساں کام کرنے کے باوجود چین کے کامگاروں سے کم اجرت دی جاتی ہے۔خبر کے مطابق صوبہ پنجاب میں اورینج لائن میٹرو کے منصوبے میں کام کرنے والے چینی اہلکاروں کو تنخواہ کے طور پر خاصی رقم دی گئی جبکہ اسی طرح کے کام کے لئے پاکستانیوں کو بہت کم اجرت دی جا رہی ہے۔جس سے پاکستانی مزدوروں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔

 

اسرائیلی فوج کے ذریعہ  شام میں ایرانی اہداف  کو نشانہ بناکر کئے گئے حملے میں تین شامی فوجی ہلاک

اسرائیلی طیاروں نے گزشتہ روز  ملک شام میں ایران کی قدس فورس سے تعلق رکھنے والے اہداف اور شامی فوج پر فضائی حملے کیے ہیں۔ہندوستان ٹائمز کی خبر کے مطابق اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ فضائی حملے اس وقت کیے گئے جب اسرائیلی فوج کو گولان کی مقبوضہ پہاڑيوں کے قریب سڑک کنارے رکھے دھماکہ خيز مواد کا پتہ چلا ۔ شام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے فضائی حملے میں اس کے تین فوجی اہلکار مارے گئے۔ شامی حالات پر نظر رکھنے والے گروپ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد 10 ہے جن میں تین شامی فوجی اور  تقریبا پانچ افراد ایرانی بھی  ہیں۔ اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے مطابق ان فضائی حملوں میں مخصوص فوجی اہداف، گوداموں، ہیڈ کوارٹروں اور فوجی احاطوں کو نشانہ بنایا گیا۔

 

یوروپی پارلیمنٹ کے رکن نے کیا پاکستان اور ترکی پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ

یوروپی پارلیمنٹ(ایم آئی پی ) کے فرانسیسی رکن  جارڈن برڈیلا نے پاکستان،ترکی ،کویت اور قطر کے خلاف پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔روزنامہ ہندوستان ٹائمز میں شائع خبر کے مطابق حال کے دنوں میں ایک کے بعد ایک کئی دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بن چکے فرانس کے برڈیلا کا کہنا ہے کہ یوروپی یکجہتی کو تقوت دینے کے لئے اس طرح کی پابندی ضروری ہے۔انکا مزید کہنا تھا، جیسا کہ پاکستان اور ترکی کو دہشت گردون کا معاون مانا جاتا ہے اس لئے انکے خلاف مالی یا تجارتی پابندی لگائی جانی چاہیے۔

 

جموں وکشمیر کے پلوامہ میں دہشت گردوں کے حملے میں بارہ افراد زخمی

پلوامہ میں دہشت گردوں نے پولیس اور سی آر پی ایف کی ٹیم کو نشانہ بناکر  گرینیڈ سے حملہ کیاجس کی زد میں آکر 12 شہری زخمی ہو گئے، جنہیں فوری ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا۔اکنامک ٹائمز کی خبر کے مطابق بدھ کی شام دہشت گردوں نے پولیس اور سی آر پی ایف کی ٹیم کو نشانہ بناکر  گرینیڈ سے حملہ کیا۔غنیمت یہ رہی کہ دہشت گردوں کا نشانہ چوک گیا اور گرینڈ سڑک پر پھٹ گیا لیکن اسکی زد میں آنے سے بارہ افراد زخمی ہو گئے۔ پولیس نے معلومات دیتے ہوئے کہا کہ جس وقت پولیس اور سی آر پی سی کی ٹیم کپواڑا علاقے میں گشت کر رہی تھی اس وقت اچانک ایک گاڑی پر سوار ہوکر آئے دہشت گردوں نے ٹیم پر حملہ کیا۔چلتی  ہوئی گاڑی سے گرینیڈ پھیکنے کی وجہ سے نشانہ چوک گیا اور گرینیڈ سڑک پر گرا جہاں کافی بھیڑ تھی اور بارہ افراد دھماکے کی زد میں آگئے۔زخمیوں ک اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور پورے علاقے میں تلاشی مہم جاری ہے۔