20.11.2020

عالمی دباو کا پاکستان پر اثر :حافظ سعید کو 10 سال 6 ماہکی  قید، جائیداد بھی ضبط کرنے  کا  حکم

پاکستان اور اسکے حمایتیوں نے بڑی کوشش کی کہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے پاکستان کا نام باہر آجائے لیکن ایسا ممکن نہ ہو سکا کیونکہ ٹیرر فنڈنگ پر نظر رکھنے والی تنظیم ،ایف اے ٹی ایف پاکستان کے اقدامات سے مطمئن نہیں تھی۔اسکا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کی مالی معاونت کے معاملے میں پاکستان نے خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے جسکی وجہ سے پاکستان اس مرتبہ بھی گرے لسٹ میں برقرار رہا۔اب پاکستان کی یہ مجبوری ہے کہ اسے دہشت گردوں کے خلاف بہ دل ناخواستہ ہی سہی لیکن  کچھ نہ کچھ اقدامات ضرور کرنے ہونگے۔اس لئے اب پاکستان سے یہ خبر آئی ہے کہ مبئی دہشت گردانہ حملوں کے ماسٹر مائنڈ  اور ٹیرر فنڈنگ کے معاملے میں لاہور کے جیل میں بند دہشت گرد حافظ سعید کو دس سال چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔حالانکہ بھارت کے اس مطلوبہ دہشت گرد کو پاکستان ہمیشہ کلین چٹ دیتا رہا ہے، لیکن اب حقیقت کو تسلیم کرے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ملک کے سبی اخبارات نے حافظ سعید کو سزا سنائے جانے کی خبر کو اپنی شہ سرخی بنایا ہے۔روزنامہ ٹائمز اف انڈیا میں شائع خبر کے مطابق پاکستان کی اینٹی ٹیررازم کورٹ نے ممنوعہ تنظیم جماعت الدعوہ کے سرغنہ اور ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ حافظ سعید کو دس سال چھ ماہ کی سزا سنائی ہے ۔ اس سے پہلے حافظ سعید کے قر یبی اور جماعت الدعوۃ کے ترجمان یحییٰ مجاہد کو عدالت نے ٹیرر فنڈنگ کے معاملے میں ہی 32 سال کی سزا سنا ئی تھی۔ مجاہد کے ساتھ دہشت گرد تنظیم کے دو اور لیڈروں کو بھی مجرم قرار دیا گیا۔ واضح کو کہ فروری میں لاہور میں اینٹی ٹیررازم کورٹ نے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں اقتصادی مدد پہنچانے کے معاملے میں حافظ سعید کو 11 سال کی سزا سنائی گئی تھی۔ ممبئی میں 2008 میں ہوئے دہشت گردانہ حملے میں حافظ سعید ہندوستان کو مطلوب ہے۔ اس حملے میں 10 دہشت گردوں نے 166 معصوموں کی جان لی تھی وہیں سینکڑوں لوگ زخمی ہوگئے تھے۔ اقوام متحدہ اور امریکہ پہلے ہی حافظ سعید کو ’عالمی دہشت گرد’ قرار دےچکے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، عدالت کے ایک افسر نے بتایا کہ جمعرات کو لاہور کی اینٹی ٹیررازم کورٹ نے جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید سمیت دہشت گرد تنظیم کے کچھ لیڈروں کو بھی سزا سنائی ہے۔ عدالت نےسعید کے معاونین ظفر اقبال اور یحییٰ عزیز کو بھی 10 سال 6ماہ قید اور جرمانے کی سزا سنائی،ان کے علاوہ عبدالرحمٰن مکی کو بھی 6ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔ تنظیم کے ان لیڈروں کے خلاف کئی معاملے درج ہیں، جن میں سے 24 معاملوں پر فیصلہ آچکا ہے۔ جبکہ بچے ہوئے کیس پر سماعت ہونی باقی ہے۔ حافظ سعید کے خلاف اب تک  چار معاملوں میں فیصلہ آگیا ہے۔

 

بھارت اور چین کے درمیان ایک مرتبہ پھر ہوگی بات چیت 

لداخ میں ایل اے سی پر بھارت اور چین کے درمیان کشیدگی کے دوران ایک اور دور کی بات چیت ہوگی۔روزنامہ ٹئمز اف انڈیا میں شائع خبر کے مطابق جمعرات کے روز وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ دونوں فریق جلد ہی بات چیت کا نیا دور شروع کرنے پر متفق ہوئے ہیں۔اس ممکنہ بات چیت میں امن کی بہالی اور فوجیوں کی واپسی پرگفت و شنید کا امکان ہے۔وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس بات کی جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ بات چیت کا مقصد مکمل طور پر فوجوں کی واپسی اور خطے میں امن کی بحالی کو یقینی بنانا ہے۔

 

ہانگ کانگ کے مسئلے پر امریکہ سمیت پانچ ممالک کی تنقید سے چین چراغ پا

امریکہ سمیت پانچ ممالک  آسٹریلیا،کناڈا،نیوزیلینڈ اور برطانیہ نے ہانگ کانگ کے مسئلے پر چین  کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ لوگوں کے حقوق کو تلف نہیں کر سکتا۔ہندوستان ٹائمز میں شائع خبر کے مطابق ہانگ کانگ کے مسئلے پر امریکہ سمیت پانچ ممالک کے ذریعہ چین کو ہدف تنقید بنائے جانے  سے چینی حکومت کی بے چینی بڑھ گئی ہے۔اور بوکھلاہٹ میں اسنے امریکہ اور اسکے اتحادیوں کو سخت انجام بھگتنے کی دھمکی دی ہے۔قابل ذکر ہے کہ امریکہ کی قیادت میں پانچ ممالک کے گروپ نے چین سے کہا ہے کہ وہ ہانگ کانگ کی عوام کو اپنا  رہنما چن نے  کے حق سے محروم نہیں کر سکتا اور نہ ہی ان حقوق میں کوئی کمی کر سکتا ہے۔ان پانچ ممالک سے گروپ نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں ہانگ کانگ کے منتخبہ رہنما کو نہ اہل قرار دینے کی چین کی کوشش پر گہری تشویش کا اظہار  بھی کیا۔ہانگ کانگ میں بھی چین کے اس قدم کے خلاف سخت احتجاج ہو رہا ہے۔ لیکن چین نے اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے امریکہ او ر اسکے اتحادی ممالک کو ہی دھمکی دی ہے۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ چین کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ پانچ ہوں یا دس ممالک ،اگر وہ چین کے مفادات کو نقصان پہچائنگے تو انکو بھی اسکا خمیازہ بھگتنا ہوگا۔

 

تبت سے متعلق امریکی ایوان میں تجویز کی گئی  منظور

دوسری جانب امریکہ نے دلائی لامہ کے مسئلے پر بھی واضح کر دیا ہے کہ اگلے دلائی لامہ کو منتخب کرنے کا چین کو کوئی حق نہیں ہے،اور چین بودھ مذہب کی روایات پر اپنی دھونس جمانا بند کرے۔روزنامہ ٹائمز اف انڈیا کی خبر کے مطابق امریکی ایوان نمائندگان نے ایک خود مختار تبت کی مذہبی اور سماجی شناخت کو تسلیم کرتے ہوئے اس مسئلے کے پر امن حل کے لئے ایک تجویز کو اپنی منظوری دی ہے۔اس تجویز میں تبت اور تبت کے عوام کی حقیقی خود مختاری اور چودھویں دلائی لامہ کے ذریعہ عالمی امن،اتحاد اور تعاون کو فروغ دینے کے لئے کئے گئےاہم  اقدامات کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا ۔ صوتی ووٹ سے منظوج کی گئ اس تجویز میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ عالمی مسائل کے پر امن  حل کے لئے امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس منعقد کرنا  یا ٹیلی کانفرنس کے ذریعہ کانگریس کے اراکین اور دلائی لامہ کے درمیان بات چیت صود مند ثابت ہوگی۔ تجویز میں اس بات کو بھی یقینی بنایا گیا کہ تبت کے لوگوں کی  آزادی،انسانی حقوق اور انکی  مخصوص مذہبی، لسانی،سماجی اور ثقافتی پہچان کے تحفظ کے لئے امریکی  کانگریس  تبت کے عوام کے ساتھ ہے۔ تجویز میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے چالیس سے زائد ممالک میں ساٹھ لاکھ سے زیادہ تبتی آباد ہیں۔امریکی کانگریس کے رکن ٹیڈ یو ہو نے اس موقع پر کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر بہت خوشی ہو رہی کہ ایوان نے تبت کی حقیقی خودمختاری اور دلائی لامہ کی خدمات کو تسلیم کرنے کی تجویز کو اتفاق رائے سے منظوری دی ہے۔

 

آسٹریلیائی فوجیوں کی جانب سے افغانی افراد کو غیر قانونی طریقے سے قتل کرنے کاا نکشاف

جمعرات کو یہ خبر منظر عام پر آئی کہ آسٹریلیا کی سلامتی فورسز نے 2003 سے لے کر 2016 کے درمیان افغانستان میں فوجی مہم کے دوران افغانستان کے 39 لوگوں کو مبینہ طور پر قتل کیا تھا، جس کے سلسلے میں ان کے خلاف مجرمانہ معاملے کی جانچ کی جائے گی۔ ان کے عہدے واپس لئے جائیں گے اور انہیں ممکنہ الزامات کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔روزنامہ ہندوستان ٹائمز اس حوالے سے رقم طراز ہے کہ آسٹریلیا  کے فوجی سربراہ اینگس کیمپبیل کے ذریعہ مبینہ طور سے جنگی جرائم کی سرکاری جانچ رپورٹ میں یہ جانکاری سامنے آئی ہے۔  دی مارننگ ہیرالڈ کے مطابق این ایس ڈبلیو کورٹ آف اپیل کے جج پال بریٹن کی چار سال کی جانچ میں 23 واقعات کے ایسے قابل اعتبار ثبوت پائے گئے ہیں جن میں ایک یا ایک سے زیادہ غیرجنگجو افراد جن لوگوں کو پکڑ لیا گیا تھا یا زخمی کر دیا گیا تھا  انہیں اسپیشل فورسوں کے فوجیوں کے ذریعہ مار دیا گیا ۔دی مارننگ ہیرالڈ  کی رپورٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ ایسے دو واقعات بھی ہوئے جنہیں ’’ظالمانہ رویہ‘ کے جنگی جرائم کے زمرے میں رکھا جاسکتا ہے۔ آسٹریلیا کے جنرل کیمبیل نے جمعرات کو یہاں نامہ نگاروں کی کانفرنس میں بتایا کہ ’’یہ رپورٹ آسٹریلیائی سلامتی فورس (اے ڈی ایف) کے پیشہ ور معیاروں اور امیدوں کے لئے توہین آمیز اور سنگین دھوکہ دہی کا انکشاف کرتی ہے۔ 

 

جموں و کشمیر میں فوجی  کارروائی کے دوران چار دہشت گرد ہلاک 

جموں کشمیر پولس اور سی آر پی ایف نے فوج کے ساتھ ملکر ایک مشترکہ کارروائی میں جموں شہر کے مضافات میں بھاری اسلحہ سے لیس چار جنگجوؤں کو ہلاک  کر دیا۔اس خبر کو بیشتر اخبارات نے اپنی سرخی بنایا ہے۔انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق پولس کا کہنا ہے کہ ایک مال بردار ٹرک میں جاتے ہوئے گھیرے گئے یہ جنگجو کوئی بڑی واردات انجام دینے کی تاک میں تھے ۔اسی درمیان یہ  فورسز کے ہتھے چڑھ گئے اور انکے پاس سے ہتھیاروں کی سب سے بڑی کھیپ بھی برآمد کی گئی ۔پولس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ جموں-سرینگر شاہراہ پر واقع نگروٹہ قصبہ میں’’بن ٹول پلازہ‘‘کے قریب صبح پانچ بجے تب پیش آیا کہ جب سرینگر کی جانب جارہے ایک ٹرک کو تلاشی کیلئے روکا گیا اور اس میں سوار جنگجوؤں نے بھاری فائرنگ شروع کردی۔ایک پولس افسر نے کہا کہ جیسے ہی  ٹرک کو ’’معمول کی تلاشی‘‘کیلئے روکا گیا،اسکا ڈرائیور گاڑی سے باہر اتر کر فرار ہوگیا جبکہ گاڑی کے اندر موجود جنگجوؤں نے گولیاں چلانی شروع کیں۔ جسکے جواب میں موقعہ پر پولس اہلکاروں نے گولیاں چلانے کے علاوہ اپنے اعکیٰ حکام کے ذرئعہ سی آر پی ایف اور فوج کو بھی مدد کیلئے طلب کیا۔علاقے میں کافی دیر تک گولیوں کا زبردست تبادلہ ہوا اس دوران فورسز کی جانب سے پھینکے گئے گولوں نے گاڑی کو تباہ کردیا اور گولیاں چلانے والے خاموش ہوگئے۔تلاشی کے دوران گاڑی میں سے چار جنگجوؤں کی لاشیں اور ہتھیاروں کی بھاری کھیپ برآمد کی گئی۔اس کارروائی کے اختتام پر جموں کشمیر پولس کے انسپکٹر جنرل جموں (آٗی جی جموں)نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ فورسز کو  یہ ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب سے جموں کشمیر میں بلدیاتی اداروں ضلع ترقیاتی کونسل یا ڈی ڈی سی)کے انتخابات کا بگل بجا ہے انہیں یہ خبریں مل رہی تھیں کہ پاکستان کی جانب سے جنگجوؤں کو دراندازی کرانے کی کوششیں ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر سبھی حساس اور ممکنہ جگہوں پر پولس اور دیگر فورسز چوکنا تھی اور اسی دوران یہ واقعہ پیش آیا۔ آئی جی جموں نے کہا کہ جنگجوؤں کی گولیاں لگنے سے دو پولس اہلکار زخمی ہوگئے ہیں تاہم اسپتال میں ان دونوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔پولس کا کہنا ہے کہ مارے گئے جنگجوؤں کی شناخت ہونا باقی ہے لیکن انداہ ہے کہ یہ چاروں جیشِ محمد کے جنگجو تھے اور حال ہی دراندازی کرکے بھارت  آٗے تھے۔ اسی درمیان آرمی چیف ایم ایم نرونے کہا ہے کہ یہ سیکورٹی اہلکاروں کا ایک بے حد کامیاب آپریشن تھا۔ یہ دکھاتا ہے کہ زمین پر کام کر رہے سبھی سیکورٹی اہلکاروں میں کتنی شاندار ہم آہنگی ہے۔ ہر مخالف اور دہشت گردوں کے لئے یہ واضح پیغام ہے۔ کہ بھارتی سرحد کے اندر دراندازی کرنے کی حماقت کوئی بھی نہ کرے۔