11.01.2021

افغانستان میں سڑک کنارے بم پھٹنے اور فضائی حملوں میں 15 ہلاکتیں 

 افغانستان کے دارالحکومت کابل میں اتوار کو سڑک کنارے بم دھماکے اور ملک کے دیگر حصوں میں مختلف فضائی حملوں میں 15 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق اتوار کو کابل میں پیش آنے والے ایک واقعے میں وزارت داخلہ کی ‘نیشنل پبلک پروٹیکشن فورس’ کے ترجمان ضیا ودان کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس میں وہ اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ ہلاک ہو گئے۔افغان صدر اشرف غنی نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو واقعے میں ملوث افراد کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے۔ اس حملے کی ابھی تک کسی تنظیم کی جانب سے ذمہ داری قبول نہیں کی گئی۔ تاہم افغان صدر نے الزام لگایا ہے کہ اس کارروائی کی منصوبہ بندی طالبان نے کی۔ افغان صدر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ طالبان کی جانب سے تشدد میں اضافہ قیامِ امن کی کوششوں کے منافی ہے۔ اُن کے بقول طالبان کا یہ طرزِ عمل ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے معصوم جانوں کے زیاں اور املاک کو نقصان پہنچانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ کابل سمیت افغانستان کے مختلف حصوں میں حالیہ عرصے میں سرکاری حکام، معروف صحافیوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ افغان اور امریکی حکام کی جانب سے افغانستان میں حالیہ تشدد کے واقعات کا ذمہ دار طالبان کو ٹھیرایا جاتا رہا ہے۔ دوسری طرف افغان سیکورٹی فورسز نے شمال مغربی صوبے نیمروز میں طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے جن میں 12 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ صوبائی کونسل کے سربراہ باز محمد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ‘خاش رود’ گاؤں میں ہونے والے فضائی حملے میں ایک مقامی شہری کا گھر نشانہ بنا جس میں عورتیں اور بچے بھی موجود تھے۔ صوبہ نیمروز کے گورنر نے بھی ان فضائی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ افغان ایئر فورس نے طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جن میں 12 شدت پسند مارے گئے۔ اتوار کو کابل میں ہونے والا حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے کہ جب افغان حکام اور طالبان کے درمیان 20 برس سے جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مذاکرات جاری ہیں۔

 

پاکستان ذکی الرحمان لکھوی کو ممبئی حملے کا جوابدہ بنائے:امریکہ

امریکہ نے ہفتہ کے روز کہا تھا کہ لشکر طیبہ کے آپریشنز کمانڈر ذکی الرحمٰن لکھوی کو پاکستان میں دہشت گردی سے متعلق مالی معاونت کے معاملے میں سزا سنانے سے اس کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے، لیکن اسلام آباد کو دہشت گردی کے حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں اسے مزید ذمہ دار ٹھہرانا چاہئے ، جس میں 2008 ممبئی قتل عام بھی شامل ہے۔ این ڈی ٹی وی کی ایک خصو صی رپورٹ کے مطابق ممبئی حملے کے ماسٹر مائنڈ لکھوی کو، جمعہ کے روز پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے، اسلام آباد پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کے درمیان،دہشت گردی سے متعلق مالی معاونت کے ایک مقدمے میں ، 5 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ خبر کے مطابق عدالتی فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے امریکی محکمہ خارجہ کے جنوبی اور وسطی ایشیاء بیورو نے ٹویٹ کیا کہ ذکی الرحمٰن لکھوی کی حالیہ سزا حوصلہ افزاہےتاہم اس کے جرائم، دہشت گردی کی مالی اعانت سے کہیں زیادہ ہیں۔ پاکستان کو ممبئی حملوں سمیت دہشت گرد حملوں میں ملوث ہونے کے معاملے میں اسے مزید جوابدہ ہونا چاہئے۔اسی دوران بھارت نے جمعہ کو کہا کہ پاکستان ان اقدامات سے، اے پی جے جی یعنی Asia Pacific Joint Group کے اجلاس اور فروری 2021 میں ہونے والی ایف اے ٹی ایف،  Financial Action Task Force کی مکمل میٹنگ سے پہلے، شرائط کی تعمیل کرنے کا تاثردینا چاہتاہے۔ لکھوی کو دسمبر 2008 میں لشکرطیبہ اور القاعدہ سے وابستہ ہونے پر اقوام متحدہ نے عالمی دہشت گرد کے طور پر نامزد کیا تھا۔پیرس میں قائم ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو جون 2018 میں گرے لسٹ میں شامل کر دیا تھا اور اسلام آباد سے بہت  سی باتوں پر عمل درآمد کرنے کو کہا تھا۔واضح رہے کہ 2008 کے ممبئی حملے میں ، چھ امریکیوں سمیت 166 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

 

ہند کو سلامتی کونسل کی تین اہم کمیٹیوں کی سربراہی حاصل: ہندوستانی مندوب

 ہندوستان نے کہا ہے کہ اسے آئندہ دو برسوں، 2021 اور 2022 کے دوران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کے طور پر، سلامتی کونسل کی تین اہم کمیٹیوں کی سربراہی کرنے کو کہا گیا ہے جن میں طالبان سے متعلق تعزیراتی کمیٹی، انسداد دہشت گردی کی کمیٹی اور لیبیا سے متعلق تعزیراتی کمیٹی شامل ہیں ۔ وی او اے کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ انکشاف اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل مندوب، ٹی ایس تیرومورتی نے ٹوٹئر پر اپنے ایک وڈیو بیان میں کیا ہے۔یادر ہے کہ ہندوستان گزشتہ سال اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا رکن منتخب ہوا تھا اور اس کی مدت کا باقاعدہ آغاز یکم جنوری 2021 کو ہوا ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل 15 ارکان پر مشتمل ہوتی ہے، جس میں پانچ ممالک اس ادارے کے مستقل رکن ہیں، جو امریکہ، چین، روس، برطانیہ اور فرانس ہیں۔اقوم متحدہ میں بھارت کے مستقبل مندوب ترومورتی نے مزید کہا ہے کہ افغانستان کے امن و سلامتی اور ترقی کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے بقول،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طالبان سے متعلق تعیزیراتی کمیٹی، ہندوستان کے لیے ہمیشہ سے اہم ترجیح رہی ہے۔انکا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں اس کمیٹی کی سربراہی کرنے سے مبینہ دہشت گردوں کی موجودگی اور ان کے مبینہ سرپرستوں پر توجہ مرکوز رکھنے میں مدد ملے گی، جو ان کے بقول افغانستان میں امن عمل کے لیے خطرہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت یہ سمجھتا ہے کہ تشدد اور امن عمل ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ہندوستان، طالبان کی تعزیراتی کمیٹی اور انسداد دہشت گردی کی کمیٹی کی سربراہی ایک ایسے وقت کرے گا جب افغان حکومت اور طالبان کے درمیان بین الاقوامی مذاکرات جاری ہیں۔ دوسری طرف گزشتہ سال فروری میں امریکہ اور طالبان کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے بعد طالبان اپنے بعض رہنماؤں کے نام، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے حذف کرنے کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں۔ان کے بقول اس صورت حال میں جب ہند، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی بعض کمیٹوں کی سربراہی کرے گا تو پاکستان کی طرف سے مخالفت ایک نئے تنازع کا باعث بن سکتی ہے اور افغان امن عمل پر اس کا منفی اثر ہو سکتا ہے۔ یادر ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 2011 میں قرار داد 1988 کے ذریعے افغان طالبان کے گروپ کو بین الاقوامی امن کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے طالبان سے منسلک افراد اور تنظیموں کے اثاثے ضبط کرنے کے ساتھ ساتھ طالبان کے بعض رہنماؤں پر سفری پابندیاں عائد کر دی تھیں اور طالبان کے مطالبے کے باوجو ابھی تک سلامتی کونسل کی تعزیراتی فہرست سے طالبان رہنماؤں کے نام تاحال حذف نہیں کیے گئے ہیں۔

 

بنگلہ دیش نے 1971 کی نسل کشی کے لئے پاکستان سے معافی مانگنے کا کیا مطالبہ

حالانکہ پاکستان نے بنگلہ دیشی شہریوں کے دورہ پاکستان کے لئے ویزا کی تمام پابندیاں ختم کردی ہیں لیکن ڈھاکہ نے 1971 میں ہونے والی نسل کشی کے لئے پاکستان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہےتاکہ دونوں ممالک کے تعلقات کوآگے بڑھانے کی راہ ہموار ہو سکے۔ یہ مطالبہ ایک ایسے سال میں اہمیت کا حامل ہے جب بنگلہ دیش اپنی آزادی کے50 سالہ تقریبات منائے گا۔ بنگلہ دیش کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ، شہریار عالم نے جمعرات کے روز ڈھاکہ میں نئے پاکستان ہائی کمشنر عمران احمد صدیقی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش میں پھنسے پاکستانیوں کی وطن واپسی مکمل کرنے اور اثاثوں کی تقسیم کے معاملے کو حل کرنے کے ساتھ معافی مانگنے کا عمل، پاکستان کے ساتھ تعطل کے شکارباہمی مسائل کو حل کرنے میں اہمیت کا حامل ہے۔وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک ریلیز کے مطابق، بنگلہ دیش کے وزیرخارجہ نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ SAFTA کی گنجائشوں کے تحت مزید بنگلہ دیشی مصنوعات تک رسائی فراہم کرے اور منفی فہرست اور دیگر تجارتی رکاوٹوں کو نرم کرے۔ دریں اثنا پاکستان کے نئے مندوب نے بنگلہ دیشی حکومت کو بتایا کہ پاکستان نے پہلے ہی بنگلہ دیشی شہریوں کے پاکستانی ویزوں پر تمام پابندیاں ختم کردی ہیں۔ بنگلہ دیشی شہریوں کے ویزا پرسے ہر قسم کی پابندی ختم کرنے کے بعد شیخ حسینہ حکومت کا معافی طلب کرنے کامطالبہ سامنے آیا ہے۔ ڈھاکہ نے کہا کہ معافی مانگنے سے دونوں ممالک کو آگے بڑھنے میں مدد ملے گی۔

 

ہندوستان کے ساتھ مساوات پر مبنی دوستی چاہتے ہیں: نیپالی وزیر اعظم اولی

نیپال کے وزیر اعظم کے پی شرما اولی نے کہا کہ نیپال بھارت کے ساتھ مساوات پر مبنی دوستی چاہتا ہے۔ اتوار کے روز پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے غیر معمولی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے  مسٹر اولی نے کہا کہ وزیر خارجہ پردیپ کمار گیوالی (Gyawali)، 14 جنوری کو سرحد سے متعلق تنازعہ اور متعدد دیگر امور پر تبادلہ خیال کرنےکے لئے ہندوستان جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان زیریں ، پر یتیندھی (Pratinidhi)سبھا کو تحلیل کرنا ضروری تھا اور ان کی سربراہی میں حکومت،استحکام کو یقینی بنانے کے لئے، ایک نیا سیاسی مینڈیٹ حاصل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ نیپال نے بین الاقوامی تعلقات کے میدان میں بڑی پیشرفت کی ہےاور یہ کہ وہ  ہندوستان کا ایک حقیقی دوست بننا چاہتے ہیں ۔  انہوں  نے کہا کہ نیپال بھارت کے ساتھ مساوات پر مبنی دوستی کا خواہاں ہے اوروہ اسے ایک نئی بلندی پر لے جائے گا۔ مسٹر اولی نے، پارٹی کے اندر اپنے حریفوں اور ناقدین پراس ہمالیائی ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئےکہا کہ وزیر خارجہ پردیپ کمار گیوالی 14 جنوری کو ملک کی سرحدوں سے متعلق امور اور کئی دیگر امور پر تبادلۂ خیال کے لئے ہندوستان جائیں گے کیونکہ وہ اچھے باہمی تعلقات چاہتے ہیں۔ اس اعلان نے تعلقات کو بحال کرنے میں ایک ایسے دورے کے بارے میں ہفتوں کی قیاس آرائیوں کو ختم کردیا ہے جو قریب ایک سال سے کالاپانی علاقائی تنازعہ سے متاثر تھا۔ اتوار کو ایوان زیریں کی تحلیل کے بارے میں تبادلۂ خیال  کے لئے منعقدہ قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم اولی نے اپنے ناقدین پر استحقاق کے دور کو واپس لانے کی کوشش کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ وہ ہارس ٹریڈنگ کی سیاست متعارف کروانا چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم اولی نے کہا کہ حکمران جماعت کے اندرونی  مسائل ہی20 دسمبرکو پر یتیندھی سبھا کو تحلیل کرنے کی اصل وجہ بنے تھے۔ انہوں نے کہا  کہ انہوں نےپوری ذمہ داری  سے یہ قدم اٹھایا تھا اور اب انتخابات جدول کے مطابق اپریل میں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ نیپال میں ایک طبقہ ہے جس نے ان کی حکومت کا تختہ الٹنے اور عدم استحکام لانے کی کوشش کی کیونکہ وہ جاگیرداری نظام کے ووٹر ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ غریب نیپالیوں کے لڑکے اور لڑکیاں تعلیم یافتہ اور طاقتور بنیں۔ وہ پرانے جاگیردارانہ نظام پر یقین رکھتے ہیں کیونکہ وہ نہیں چاہتے ہیں کہ معاشی طور پر پسماندہ افراد کے بچے ہماری پارلیمنٹ کا ممبر بنیں۔