12.01.2021

سیٹلائٹ کی امیجری کے مطابق، چین، تبت میں نیا فوجی لاجسٹک مرکز بنانے میں مصروف

۔ سیٹلائٹ کی نئی امیجری کے مطابق چین، تبت کے زیگٹس میں ایک اہم فوجی رسد کا مرکز بنانے پر کام کر رہا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ اقدام بیجنگ کی جانب سے لائن آف ایکچوول کنٹرول (ایل اے سی) کے ساتھ ساتھ آپریشنز کے لئے رابطے اور بنیادی ڈھانچے کو بڑھانے کی کوششوں کے مطابق ہے۔ ہندوستان ٹائمز کی ایک خبر کے مطابق ،ٹویٹر پرایٹ دی ریٹ  ڈیٹریسفا نام استعمال کرنے والے، اوپن سورس انٹیلی جنس تجزیہ کار نے، پیر کے روز شیئر کی گئی اس تصو یر میں ،  زیگا سیہوائی اڈے کے جنوب میں ،بنیادی ڈھانچہ کے اپ گریڈ کو دکھایا ہے جو اس سہولت کو ریل ٹرمینل سے مربوط کرتا ہے۔ تصویر سے پتہ چلتا ہے کہ بنیادی ڈھانچہ ،چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے لاجسٹک مرکز کا حصہ ہوگا۔ منظر کشی کے ذریعہ زیر تعمیر ڈھانچوں میں ایک سطح سے ہوا تک مار کرنے والی میزائل سائٹ ، ایک مشتبہ فوجی امدادکی عمارت ، ایک نیا ریلوے ٹرمینل اور نئی ریلوے لائن  اور ایندھن کا ایک ممکنہ ذخیرہ شامل ہیں۔ اسی دوران بیلجیم میں مقیم سیکیورٹی کے تجزیہ کار،سم ٹیک نے بتایا کہ تبت کےخودمختار خطے میں، چین کی لاجسٹکس کی سہولیات اور رابطے کو بڑے پیمانے پر اپ گریڈ کرنے کے سیٹلائٹ امیجری کی شکل میں بہت سے ثبوت موجود ہیں۔ انہوں نے کہا ، مصنوعی سیارہ کی تصویری تجویز یہ بھی تھی کہ اکیسوئی چن سے اروناچل پردیش تک ، ایل اے سی کے تمام علاقوں میں فوجی کارروائیوں کی مدد کے لئے بنیادی ڈھانچے کو اپ گریڈ یا تعمیر کیا جارہا ہے۔ زیگٹسی  میں واقع ریلوے اسٹیشن، خطے کا سب سے بڑا اسٹیشن ہے اور فوج اور فوجی ہارڈویئر کی نقل و حرکت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ چین کا منصوبہ یہ بھی ہے کہ زیگٹسی سے نیپال کی سرحد تک اس لائن کو بڑھایا جائے۔

امریکہ نے تائیوانی حکام سے روابط رکھنے پر عائد پابندی ختم کر دی

۔ امریکی محکمۂ خارجہ نے تائیوان کے ساتھ غیر سرکاری تعلقات کے تحت، دونوں ملکوں کے حکام کے مابین روابط پرعائد ،خود ساختہ پابندی ختم کر دی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ امریکہ کی طرف سے کیا گیا یہ اقدام تائیوان میں سراہا جائے گا لیکن چین اس سے ناراض ہو گا۔ ایک بیان میں امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ امریکہ نے گزشتہ کئی عشروں سے اپنے سفارت کاروں اور حکام پر، تائیوان کے حکام سے روابط کے معاملے پر پابندیاں عائد کر رکھی تھیں جنہیں اب ختم کیا جا رہا ہے۔وی او اے کے مطابق انہوں نے کہا کہ تائیوان امریکہ کا قابلِ اعتماد پارٹنر ہے۔ لہذٰا اب امریکی حکومتی اداروں کے تائیوان کے حکام اور اداروں کے ساتھ تعلقات پر عائد پابندی کو ختم سمجھا جائے۔ اس سے قبل امریکہ کے اعلیٰ حکام کی تائیوان جانے پر ممانعت تھی کیوں کہ ایسا کرنے سے چین کی ناراضگی مول لینے کا خطرہ رہتا تھا۔ ان پابندیوں کے باعث تائیوان کے صدر، نائب صدر، وزرا برائے امور خارجہ و امور دفاع کے واشنگٹن آنے پر ممانعت تھی۔ خیال رہے کہ چین، تائیوان کو اپنا حصہ سمجھتا ہے اور چینی قیادت مختلف مواقع پر یہ واضح کر چکی ہے کہ وہ اسے چین میں ضم کرنے کے لیے طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہیں کرے گی۔ تائیوان کے معاملے پر چین اور امریکہ کے درمیان تناؤ رہتا ہے۔ تائیوان سے روابط رکھنے پر چین، امریکہ سے نالاں رہتا ہے۔ امریکہ میں تائیوان کے اقتصادی اور ثقافتی دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ کا یہ اقدام، دو طرفہ تعلقات کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کے اعلی عہدیدار، ڈریو تھامسن کہتے ہیں کہ روابط پر پابندیاں، امریکہ اور تائیوان، دونوں کے لیے بے سود تھیں اور امریکہ کا تائیوان کے ساتھ قریبی تعاون، واشنگٹن کے حق میں ہو گا۔

پاک مندر حملہ: برطانوی ہندو، بورس جانسن کی مداخلت کے خواہاں

 ۔ روزنامہ ہندو نے ایک خبر شائع کی ہے کہ برطانوی ہندو تنظیموں نے برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن کو ایک مشترکہ خط تحریر کیا ہے جس میں انہوں نے گذشتہ ماہ صوبہ خیبر پختونخوا میں ایک مندرکوحال ہی میں نذر آتش کرنے کے واقع کو اجاگر کرتے ہوئے، پاکستان میں ہندوؤں کے خلاف جاری زبردست ظلم و ستم پر پاکستان سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ برطانیہ کے ہندو فورم کے صدر،ترپتی پٹیل، ہندوسیوم سیوک سنگھ کے صدر دھرج شاہ ، ہندو کونسل یوکے ،کے جنرل سکریٹری رجنیش کشیپ، نیشنل کونسل ہندو ٹیمپلس یوکے، کے صدر ارون ٹھاکراور وشوا ہندو پریشد کے صدر تری بھون جوتنگیا کے ذریعہ دستخط شدہ اس خط  کو ہفتے کے روز لندن میں 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کے لئے جاری کیا گیا۔ خط میں  کہا گیا ہےکہ برطانیہ میں ہندوؤں کےاداروں کے نمائندے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان کےوزیر اعظم، پاکستان میں ہندوؤں کے خلاف جاری مظالم کو روکنے کیلئے ہر ممکن کوشش کریں۔حالیہ ماضی میں پاکستان میں ہندوؤں جیسی اقلیتوں کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مسئلے کی حکومتی تحقیقات کریں۔خط میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کے اجتماعی قتل ، نسل کشی اور ظلم و ستم کو روکنا ہوگا۔ خط میں گذشتہ سال 30دسمبر کو ایک واقعے کی تفصیل دی گئی ہے، جب پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں علماء کی سربراہی میں ہزاروں جنونیوں پر مشتمل ہجوم نے ایک ہندو مندر کو جلاکر خاک کردیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق ، کرک ضلع کے ٹیری گاؤں میں ہزاروں افراد نے ہندو مندر کو آگ لگانے سے پہلے اس پر حملہ کیا تھا۔ ہندو برادری کے ممبروں نے اپنی دہائیوں پرانی عمارت کی تزئین و آرائش کے لئے مقامی حکام سے اجازت حاصل کی تھی جسکے بعداس مندر پر حملہ کیا گیا تھا۔ حملہ آور ہجوم نے مندر کی پرانی عمارت سے منسلک نو تعمیر شدہ کام کو منہدم کردیا تھا۔ خط  میں مزید کہا گیا ہے کہ برطانیہ کی بڑی اکثریت اور بین الاقوامی خبر رساں ادارے مذہبی جنون کے اس نفرت انگیز جرم کواجاگرکرنے میں ناکام رہے ہیں۔ یہ اقدام پاکستان میں اعلی سطحی شخصیات کے ذریعہ ظاہر کردہ متنازعہ جذبات کی بھی عکاسی کرتا ہے ، جس میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہندو مندر کی تعمیر کی مخالفت بھی شامل ہےجسکا نتیجہ ہندوؤں کے خلاف جنون کی شکل میں سامنے آیا ہے۔یہ نفرت صرف ہندوؤں کے خلاف ہی نہیں بلکہ کرسچین برادری بھی اسی ظلم و ستم کا شکار ہے۔

امریکہ کا حوثی عسکریت پسندوں کو دہشت گرد گروپ قرار دینے پر غور

۔ امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو کا کہنا ہے کہ وہ یمن کے حوثی  باغیوں کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔وی او اے رقم طراز ہے کہ توقع کی جا رہی ہے کہ یمن کے حوثی عسکری گروپ کو 19 جنوری سے دہشت پسند تنظیم قرار دے دیا جائے گا۔وزیر خارجہ پومپیو نے اتوار کی شام ایک بیان میں کہا کہ اس اقدام کے ذریعے ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں اور ان کے تین سرکردہ لیڈروں کو سرحد پار حملوں کے ذریعے شہریوں، بنیادی ڈھانچے اور تجارتی جہازرانی کو نشانہ بنانے کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ پومپیو کا کہنا تھا کہ اس اقدام کامقصد یمن میں جاری تنازعے کو ختم کرنے کی کوششوں کی حمایت کرنا ہے جو 2014 میں حوثیوں کی طرف سے یمن کے دارالحکومت ثناء پر قبضے سے شروع ہوا تھا۔ اس میں بعد ازاں شدت اس وقت آئی جب 2015 میں سعودی عرب کی سربراہی میں دارالحکومت سے باغیوں کو باہر نکالنے اور یمن میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی بحالی کی کوششوں کا آغاز ہوا۔ اقوام متحدہ کے انسانی بھلائی کےدفتر کی طرف سے دسمبر میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یمن میں 2 لاکھ  33ہزار کے قریب لوگ ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے 131,000 اموات، خوراک اور صحت کی خدمات کے فقدان جیسی بالواسطہ وجوہات کی بنا پر ہوئیں۔ انسانی بھلائی کی بین الاقوامی تنظیموں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی طرف سے حوثیوں کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے اقدام سے یمن کے شہریوں کو امداد کی فراہمی کی کوششیں متاثر ہوں گی۔وزیر خارجہ پومیو کا کہنا ہےکہ امریکہ کو اس بات کا احساس ہے کہ پابندیوں سے انسانی بھلائی کی کوششیں متاثر ہوں گی۔ تاہم امریکہ ایسے اقدامات کر رہا ہے جن سے انسانی بھلائی کی کوششیں کم سے کم متاثر ہوں۔پومپیو نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حوثیوں کیلئے اسلحہ سمگل کرنا بند کرے۔ انہوں نے حوثیوں سے بھی کہا ہے کہ وہ ایران کی انقلابی گارڈ کور کے اہل کاروں سے اپنے رابطے ختم کر دیں۔

نیپال: کھٹمنڈو میں بادشاہت کے حامی مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ

۔ اخبار الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو میں پیر کو فسادکنٹرول کرنے والی پولیس اور سیکڑوں مظاہرین کے مابین جھڑپیں دیکھنے میں آئیں ، جو دو سال قبل مسلح ماؤنواز بغاوت کے 10 سال کے خاتمے کے بعد، 2008 میں ختم ہونے والی بادشاہت کی واپسی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پولیس نے دارالحکومت میں وزیر اعظم کے دفتر جانے والی مرکزی سڑک کو بلاک کر دیا ، مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا گیا جسکے جواب میں مظاہرین نے پولس پرپتھراؤ  کیا۔البتہ کسی کے شدید زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ یہ مظاہرہ مختلف گروہوں کے ذریعہ وزیراعظم اولی کی حکومت کے خلاف احتجاج کے سلسلے میں تازہ ترین تھا ، جس میں انکی حکمراں کمیونسٹ پارٹی کی ایک جماعت بھی شامل ہے۔ اسی دوران مظاہرین نے پیر کو حکومت پر بدعنوانی اور پر امن جلسوں کے خلاف طاقت کا استعمال کرنے کا الزام عائد کیا۔مظاہرین نے ملک کا جھنڈا لہراتے ہوئے نعرے لگائے کہ بادشاہ کو واپس اقتدار سنبھال لینا چاہیئے اور اپنے ملک کو بچانا چاہیئے ۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ بادشاہت واپس آئے اور ، جمہوریت کو ختم کردیا جائے۔ واضح رہے کہ2006 میں سڑکوں پر ہونے والے احتجاج نے اس وقت کے بادشاہ گیانندر کو اپنی آمرانہ حکمرانی ترک کرنے اور جمہوریت متعارف کرانے پر مجبور کردیا تھا۔ دو سال بعد ، ایک نو منتخب پارلیمنٹ نے بادشاہت کے خاتمے کے لئے ووٹ دیا اور نیپال کو جمہوریہ قرار دیا جس میں صدر کو سربراہ ریاست کی حثیت حاصل تھی۔تب سے ، گیانیندر نیپال میں ایک نجی شہری کی حیثیت سے رہ رہے ہیں جس کے پاس کوئی طاقت یا سرکاری تحفظ نہیں ہے۔انہیں اب بھی کچھ لوگوں کی حمایت حاصل ہے البتہ ان کا اقتدار میں واپس آنے کا بہت کم امکان ہے۔مظاہرین ، بادشاہ پرتھوی نارائن شاہ مرحوم کی یوم پیدائش منا رہے تھے جنہوں نے صدیوں قبل نیپال کی مملکت قائم کی تھی۔ مظاہرین نے نیپال کو ایک بار پھر ہندو ریاست قرار دینے کا مطالبہ بھی کیا۔ 2006 میں ماؤنوازوں کے مرکزی دھارے کی سیاست میں شامل ہونے کے بعد عبوری آئین کے ذریعہ ہمالیائی ریاست کو 2007 میں سیکولر ریاست کادرجہ دیا گیا تھااور 2015 میں نئے آئین کے ذریعہ اسکی سیکولر حیثیت کی توثیق کردی گئی تھی۔