افغانستان میں طالبان کی نئی حکمت عملی

ہر نیا سال کچھ تازہ امیدیں کچھ نئی امنگیں اپنے دامن میں سمیٹ کر لاتا ہے اور دنیا کی جھولی میں ڈال کر رخصت ہو جاتا ہے۔ دنیا ان خوابوں کو حقیقت میں تبدیل کرنے کا جتن کرتی ہے اور ایسی حکمت عملی تیار کرتی ہے کہ ہر سال گزشتہ سال سے بہتر اور پر سکون ہو۔ ایسے ہی خواب افغانستان کے حصے میں آئے جن کی تعبیر وہ دہائیوں سے تلاش کر رہے ہیں۔ کشت و خون کا ایک طویل سلسلہ وہاں جاری ہے حالانکہ  امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحہ  میں ہونے والے امن مذاکرات کے بعد امید کی جا رہی تھی کہ وہاں جلد ہی زندگی معمول پر آ جائے گی اور عوام سکون کی سانس لے سکیں گے۔  لیکن بدقسمتی سے ان معاہدوں کے باوجود وہاں مستقل  امن کی بحالی کی راہ ہموار نہیں ہو سکی ہے۔

طالبان پہلے  خودکش حملہ آوروں  کا استعمال کرتے تھے اور بڑے شہروں میں  اہم شخصیات  یا مراکز کو نشانہ بنایا کرتے تھے لیکن اب انھوں نے اپنی حکمت عملی یکسر تبدیل کر لی ہے۔ اب انھوں نے عام شہریوں، سرکاری ملازمین، صحافیوں، انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والوں، اعتدال پسند مذہبی رہنماؤں اور عوامی مقبولیت کی حامل خواتین کو بھی اپنے ہدف میں شامل کر لیا ہے۔ وہ اب  خودکش حملوں کے ذریعہ سرخیوں میں رہنے کی بجائے اپنے ہدف کو مارنے کے لئے ایسے   گھریلو مقناطیس بموں کا  استعمال کر رہے ہیں جنھیں بآسانی گاڑیوں  میں چپکا دیا جاتا ہے اور شکار ہونے والے کو خبر بھی نہیں لگتی۔ اب ایسی واردات کی تعداد بھی زیادہ ہوتی جا رہی ہے جن پر کوئی دعویٰ نہیں کرتا کہ یہ کارستانی اس کی ہے اور طالبان  بھی ان حملوں  میں اپنا ہاتھ ہونے سے انکار کرتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ  اس کا سبب  امریکہ اور طالبان کے درمیان فروری 2020 میں ہونے والا وہ معاہدہ ہے جس کی رو سے  طالبان پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں کہ وہ محدود پیمانے پر کچھ مخصوص جگہوں کے علاوہ کہیں اور حملے نہیں کر سکتے۔

طالبان کا ارادہ دراصل افغان حکومت کی ساکھ کو ٹھیس پہنچانا اور اپنے مخالفین پر دباؤ بنانا ہے۔ ستمبر 2020میں قطر میں ہوئے معاہدے  میں بین افغان مذاکرات پر بھی سمجھوتا ہوا تھا جس میں  جنگ بندی اور مستقل امن کے لئے  وہاں کی منتخبہ حکومت کے ساتھ اقتدار میں ساجھے داری کی بات بھی کہی گئی تھی۔ لیکن معاہدے کے فوراً بعد سے ہی  اہم سیاسی اور  سماجی شخصیتوں کی نشان زد ہلاکت کے لئے بھی طالبان کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔ ایک جنوری کو صوبہ غور میں ہلاک کئے گئے بسم اللہ عادل  پانچویں صحافی تھے جنھیں گزشتہ دو مہینوں کے دوران ہلاک کیا گیا۔ گزشتہ سال ہی دسمبر میں حقوق نسواں کے لئے کام کرنے والی  فرشتہ کوہستانی  کو نامعلوم افراد نے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ کابل کے ڈپٹی صوبائی گورنر محبوب اللہ محبی بھی مقناطیس  بم کا شکار ہو ئے۔ ان تمام ہلاکتوں نے عوام کی ناراضگی اور غصے کو بڑھادیا  اور ان شہروں میں خوف کا ماحول بنایا جہاں طالبان کی مخالفت کرنے والے لوگوں کی بڑی تعداد ہے۔اس نئی حکمت عملی کا مقصد  افغان حکومت کے زیر انتظام علاقوں میں اپنی برتری ثابت کرنا اور عوام کو دہشت زدہ کر کے گھٹنے ٹیکنے کے لئے مجبور کرنا تھا۔ یہ نفسیاتی غلبہ حاصل کرنے کی بھیایک ترکیب تھی۔ حالانکہ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ان تمام الزامات کو پروپیگنڈہ کہہ کر مسترد کر دیا ہے لیکن افغان حکام اور تجزیہ کاروں کو مکمل طور پر یقین ہے  کہ ان حملوں کے پیچھے صرف اور صرف طالبان کا ہاتھ ہے۔ افغان انٹیلیجنس کے  چیف احمد ضیا سراج نے  بتایا کہ انھوں نے طالبان کی ایک خاص یونٹ کے 270 لوگوں کو گرفتار کیا ہے جو ٹارگٹ کلنگ میں ملوث رہ  چکے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ حکومت خود بھی کافی دباؤ میں ہے اور مکمل طور پر بیرونی امداد اور فوجی اتحاد پر ٹکی ہوئی ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا  ہے کہ407 اضلاع میں سے صرف تیس فیصد ہی پوری طرح افغان حکومت کے اختیار میں ہیں باقی تمام علاقے یا تو طالبان کے کنٹرول میں ہیں  یا  ان  کے لئے رسہ کشی جاری ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ طالبان کی نئی حکمت عملی  ان پابندیوں کے نتیجے میں ہے جو امریکہ نے ان پر عائد کی ہیں۔ جن میں بڑے شہری مراکز میں خود کش حملوں کو معاہدے کی خلاف ورزی مانا گیا ہے۔  طالبان عائد کردہ پابندیوں پر کار بند رہتے ہوئے اپنی طاقت کا بھی مظاہرہ کرتے رہنا چاہتے ہیں۔ طالبان کی ان حرکتوں پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے  امریکی فوج نے  کہا کہ امریکی فوجیوں کا انخلا  امن کا قیام  کے ساتھ ہی مشروط ہے جس کی پاسداری کا خیال رکھا جانا چاہئے۔ نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ انتقامی کارروائی کے تحت  طالبان کے ٹھکانوں پر ہوائی حملے دوبارہ شروع کر دیے گئے ہیں جس پر طالبان رہنما چراغ پا  ہیں۔ عالمی برادری کو امن کے قیام کے لئے کچھ اور سنجیدہ اقدام کرنے   کی ضرورت ہے تاکہ افغان عوام چین کی سانس لے سکیں۔