13.01.2021

پاک اپوزیشن کے لئے ، عمران خان کو بے دخل کرنا ہے ‘جہاد’۔

ٹائمز آف انڈیا نےروزنامہ ڈان کے حوالے سےخبرشائع کی ہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے عمران خان کی موجودہ حکومت کے خلاف 11 پارٹیوں کی تحریک کو ‘جہاد’ قرار دیا ہے۔ خیبر پختون خوا کے مالاکنڈ میں منعقدہ پی ڈی ایم ریلی میں ، انہوں نے اعلان کیا کہ قوم اس مقصد کے لئے کسی بھی طرح کی قربانی دینے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ جب تک حکمراں غریبوں پر ظلم بند نہیں کرتے، اس وقت تک جہاد جاری رہے گا۔ ملاکنڈ کی ریلی ،پی ڈی ایم کے ذریعہ عمران خان کی بدعنوان حکومت کو بے دخل کرنے کے لئے منعقد ہونے والی متعدد ریلیوں میں شامل ہے۔ انہوں نے کرپشن کے الزامات کے تحت 31 جنوری تک عمران خان سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ مالاکنڈ کے جلسے میں مولانا نے عمران کی زیرقیادت حکومت کو جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کی جابرانہ حکومت کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھی ملک میں جمہوریت نہیں تھی ۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پی ڈی ایم کی چھتری تلے جمع ہوں تاکہ اس نااہل حکومت کو ختم کیا جا سکے اور ملک میں حقیقی جمہوریت بحال ہو۔ قومی احتساب بیورو (نیب) پر عمران حکومت کے حکم پر عمل کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے انہوں نے ملک میں جاری احتساب کے عمل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس کو جزوی قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ نیب صرف اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کے خلاف مقدمات درج کر رہا ہے اور اس نے موجودہ حکومت کے رہنماؤں کی بدعنوانی پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ اسلام آباد مارچ کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ پورا ملک عمران خان کی بدعنوان حکومت کو بے دخل کرنے کے لئے تیار ہے۔ خبر کے مطابق ، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ریلی منتخب حکومت کے خلاف ریفرنڈم ہے ، انہوں نے مزید کہا کہ عوام ایک طویل عرصے سے ان نااہل اور جعلی حکمرانوں کے ہاتھوں مسلسل مصائب کی وجہ سے حکمرانوں سے تنگ آچکے ہیں۔بلاول نے  مزید کہا کہ ملک کی معیشت کو منتخب حکومت کی پالیسیوں نے برباد کردیا ہے۔یہاں تک کہ افغانستان اور بنگلہ دیش جیسے غریب ممالک کی معیشتیں بھی تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے نیب کے جاری احتساب کے عمل کو یک طرفہ اور ایک منتخب قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ معاشرے سے بدعنوانی کا خاتمہ تب ہی ہوسکتا ہے جب احتساب کا عمل منصفانہ ہواور سیاست دانوں ، ججوں اور آرمی جرنیلوں سمیت سب کے لئے یکساںہو۔ 

امریکہ نے کیوبا کو ’ریاستی کفالت برائے دہشت گردی‘کی فہرست میں دوبارہ کیاشامل۔       

امریکی محکمہ خارجہ نے پیر کو کیوبا کو دہشت گردی کا ریاستی کفیل قرار دیتے ہوئے اسےایک بار پھر  بلیک لسٹ میں ڈال دیا ہے۔امریکی سکریٹری برائے خارجہ مائک پومپیو نے ایک بیان میں اس اقدام کا اعلان کیا جس میں کہا گیا ہے کہ کیوبا نےامریکی مفروروں کو پناہ دینے کے ساتھ ساتھ وینزویلا کے رہنما نیکولاس مادورو (Nicolas Maduro )کی حمایت بھی کی ہے۔ صدر ڈونلڈ  ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے 20 جنوری کو صدر منتخب ہونے والے جو بائیڈن کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے کی جانے والی بڑے پالیسی اقداموں کا یہ تازہ ترین سلسلہ ہے۔ کیوبا کو 2015 میں اس وقت کے صدر براک اوباما نے اس فہرست سے ہٹا دیا تھا جب انہوں نےاس ملک سے تعلقات معمول پر لانے کے اقدام کئے تھے۔ پومپیو نے کہا کہ کیوبا کو دوبارہ بین الاقوامی دہشت گردی کی کارروائیوں کے لئے بار بار مدد فراہم کرنےکے ساتھ ساتھ امریکی مفرور اور کولمبیا کے باغی رہنماؤں کو پناہ دینے کے لئے بلیک لسٹ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ، مذہب اور اظہار رائے کی آزادی سمیت جمہوری حکومت اور انسانی حقوق کے احترام کی خواہش کے لئے کیوبا کے عوام کی حمایت کرتا رہے گا۔ کیوبا کے وزیر خارجہ نے اس اقدام پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ کی شدید مذمت کی ہے۔ دہشت گرد ملک قرار دیئے  جانے کیے بعد، ہوانا (Havana)اور کیوبا کے عوام کے  لئے بڑے نتائج سامنے آئیں گے۔ اب غیر ملکی سرمایہ کاروں کو کیوبا میں لین دین کے لئے امریکی امتیازی سلوک کا خطرہ مول لینا پڑے گا۔ دوبارہ سے عائد کردہ پابندیوں میں امریکہ اور کیوبا کے درمیان اہم سفر پر پابندی بھی شامل ہے۔ 

مائیک پومپیوکی القاعدہ کی حمایت پر ایران کی سخت سرزنش۔

منگل کوامریکی سکریٹری برائے خارجہ مائیک پومپیو نے ایران پرالقائد ہ نیٹ ورک کے ساتھ خفیہ تعلقات رکھنے کا الزام عائد کیا اور متعدد سینئر ایرانی عہدیداروں پر نئی پابندیاں عائد کردی ہیں۔ پومپیو کے تبصرے ٹرمپ انتظامیہ کے اقتدار سے رخصت ہونے سے ایک ہفتہ قبل سامنے آئے ہیں اور اس کا مقصد صدر منتخب ہونے والے جو بائیڈن کی ایران کے ساتھ 2015 کے جوہری معاہدے کے بارے میں دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کی خواہش کو نشانہ بنانا نظر آتا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ 2018 میں اس معاہدے سے دستبردار ہوگئے تھے۔ نیشنل پریس کلب میں اپنے خطاب میں ، پومپیو نے القائدہ کے ساتھ مبینہ خفیہ تعلقات کے الزام کے ساتھ ایران پر حملہ کیا ، جس میں انٹیلیجنس کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ تہران نے گروپ کے نمبر 2 کےابو محمد المصری کو پناہ دی ،  جو مبینہ طور پر اسرائیلی ایجنٹوں کے ہاتھوں اگست میں مارا گیا تھا۔ 1996 میں جب سے بن لادن کو پناہ دینے والے طالبان نے افغانستان کا اقتدار سنبھالا تھا ، اس وقت سے ان کے دوستانہ تعلقات ہیں۔ دو سال بعد ، ایران نے طالبان پر اس کے شمالی شہر مزار شریف میں متعدد سفارتی عملے کے قتل کا الزام عائد کیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ایران نے 11 ستمبر 2001 کو امریکہ میں دہشت گردی کے حملوں سے قبل،القاعدہ کے ممبروں کی قریب سے نگرانی کی تھی اور جوہری معاہدے کے بعد اس طرح کی سرگرمیاں تیز کردی تھیں نیز ان کی فعال طور پر حمایت کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ پومپیو نے دعوی کیا کہ سن 2015 میں ، جب اوباما انتظامیہ ، فرانس ، جرمنی اور برطانیہ کے ساتھ مل کر ، جوہری معاہدے کو حتمی شکل دے رہی تھی ، تو القاعدہ اور ایران کے مابین تعلقات میں بڑے پیمانے پر بہتری آئی تھی۔پومپیو نے کہا کہ ایران-القائدہ کےگٹھ جوڑ میں ایک وسیع تبدیلی واقع ہورہی تھی۔ایران نے اس شرط پر القائدہ کو ایک نیا آپریشنل ہیڈ کوارٹر قائم کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا تھا کہ ایران میں موجود القائدہ کےافراد، ملک میں القائدہ کے قیام کے لئے،حکومت کے قواعد کی پابندی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ 2015 سے ایران نے القائدہ رہنماؤں کو ایران کے اندر نقل و حرکت کی زیادہ سے زیادہ آزادی دی  اور انہوں نے القاعدہ کو محفوظ پناہ گاہیں اور لاجسٹک مدد فراہم کی ہے۔ پومپیو نے زور دے کر کہا کہ القاعدہ نے اب تہران میں اپنی قیادت کی بنیاد رکھی ہے اور وہ وہاں سے امریکہ اور مغربی اہداف پر حملوں کی سازشیں کررہی ہے۔ 

پاک میں، جے یو ڈی کے تین رہنماؤں کو دہشت گردی کی مالی اعانت کے لئے سزا۔

منگل کو لاہور میں قائم انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے کالعدم تنظیم جماعت الدعو کے ترجمان یحیی مجاہد کو دہشت گردی کے لئے مالی معاونت کے ایک مقدمے میں 15 سال قید کی سزا سنائی۔ عدالت نے اسی معاملے میں ظفر اقبال اور عبدالرحمن مکی ، جے یو ڈی کے دو دیگر رہنماؤں اور 2008 کے ممبئی دہشت گردی کا ماسٹر مائنڈ حافظ سعید کو بھی اسی معاملے میں سزا سنائی ہے۔ اقبال کو ساڑھے 15 سال اور مکی کو چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ پنجاب کےانسداد دہشت گردی کے محکمے نے دہشت گردی کی مالی اعانت سے متعلق متعدد مقدمات ان دہشت گردتنظیموں کے رہنماؤں کے خلاف درج کیے تھے جو خاص طور پر ہندوستانی جموں و کشمیر میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں سرگرم عمل ہیں۔ تاہم ، عدالتوں نے ان کو ان الزامات کے تحت مجرم قرار دے کر سزا سنائی ہے جو کسی خاص دہشت گردی کے حملے سے منسلک نہیں ہیں۔ پاکستان نے دہشت گردی کےعالمی ادارہ ، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی طے شدہ شرائط کو پورا کرنے کی کوشش میں پنجاب میں مقیم دہشت گردرہنماؤں کے خلاف کارروائی میں تیزی پیدا کی ہوئی ہے۔

پاک مظالم کو اجاگر کرنے کیلئے، پشتون تحریک امریکہ میں 350 میل کے مارچ کا کرے گی انعقاد۔

پی ٹی ایم ، پشتون تحفظ موومنٹ ، ایک سول سوسائٹی کا گروپ ہے جو بنیادی طور پر نسلی پشتونوں پر مشتمل ہے جو پاکستان کے قبائلی علاقوں ، خیبر پختونخوا اور صوبہ بلوچستان ، اور کراچی کے کچھ حصوں میں رہتے ہیں۔ پاکستان میں پشتونوں کی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف پشتون تحفظ موومنٹ نے ہفتے کے روز واشنگٹن ڈی سی میں امریکہ میں پاکستانی سفیر کی رہائش گاہ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔مظاہرین میں سے ایک ممبر نے نیو یارک سے واشنگٹن ڈی سی کے لئے 350-میل کے طویل مارچ کے حوالے سے ایک اہم اعلان بھی کیا جو جلد ہی منعقد کیا جائےگا۔مظاہرین نے کہا کہ وہ نیویارک سے واشنگٹن ڈی سی تک 350 میل طویل لانگ مارچ کا اہتمام کرنے جارہے ہیں۔مظاہرین میں سے ایک اورشخص  کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ ان کے خلاف رہا ہے۔ ماضی میں حکومتوں نے انکےرہنماؤں اور حامیوں کی گرفتاری اور سفری پابندیوں کا سلسلہ جاری رکھا لیکن عمران خان کی حکومت میں تو پی ٹی ایم کے مظاہرین ہلاک کئے جا رہے ہیں ۔ 

عالمی اداروں کی افغانستان کے لیے ایک ارب 30 کروڑ ڈالر امداد کی اپیل ۔

اقوام متحدہ کے انسان دوست اداروں اور ان کی ساتھی تنظیموں نے اس سال ایک کروڑ ساٹھ لاکھ افغانیوں کے لیے ایک ارب 30 کروڑ ڈالر کی امداد  کی اپیل کی ہے۔ وی او اے کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے غیر محفوظ لوگوں کو کئی عشروں سے جاری جنگ، قدرتی آفات، اور کووڈ19-کے پیدا کردہ سماجی اور مالی مسائل نے آ گھیرا ہے اور اب انہیں زندہ رہنے کے لیے مدد کی ضرورت ہے۔ گزشتہ چار سالوں میں ایسے افراد کی تعداد میں چھ گنا اضافہ ہوا ہے جنہیں امداد کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر بچوں کے معاملے میں صورت حال پریشان کن ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن ڈئجارک کے مطابق پانچ سال کی عمر کے ہر دو میں سے ایک افغان بچے کو خوراک کے شدید مسائل کا سامنا ہے۔ لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع ختم ہونے سے ایسے لوگوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جنہیں خوراک دستیاب نہیں ہے۔ یہاں تک کہ اس برس افغانستان کی نصف آبادی کو انسان دوستی کے تحت دی گئی امداد کی ضرورت ہو گی۔ انسان دوستی کے تحت دی گئی امداد کے بندوبست میں تعاون کرنے والے ادارے او سی ایچ او کا کہنا ہے کہ تقریباً ایک کروڑ 84 لاکھ لوگوں کو امداد کی ضرورت ہے۔ کرونا وائرس کی عالمی وبا سے اس تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔امدادی ادارے کی معاون اعلی، پروتھی راماسوامی کہتی ہیں کہ یہ لوگ اگرچہ مشکلات جھیل لیتے ہیں، لیکن اس وقت وہ پریشان ہیں ۔ان حالات میں امداد نہ ملنے سے ایک کروڑ 60 لاکھ افراد کو بہت  سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔