پاکستان میں صحافیوں پر مظالم

آئی سی آئی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں انیس سو نوے سے ابتک ایک سو اڑتیس صحافی جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔  آئی سی آئی کے یہ اعداد و شمار یہ بات ظاہر کرنے کے لئے کافی ہیں کہ پاکستان میں صحافی اپنے کام کی کتنی بھاری قیمت چکا رہے ہیں۔  دسمبر دو ہزار بیس میں صحافیوں  کی حالت زار اور صحافتی سرگرمیوں  پر جاری وہائٹ پیپر میں پاکستان صحافیوں کے لئے خطر ناک ترین ملکوں کی فہرست میں شامل ہے۔ صحافیوں کے لئے خطر ناک ترین ملکوں کی اس فہرست میں عراق، میکسیکو اور فلپائن بھی شامل ہیں۔ 

ویسے تو پاکستان صحافیوں کے لئے کبھی بھی محفوظ نہیں رہا لیکن  جب سے عمران خاں وزیر اعظم بنے ہیں انکی حکومت پرفوج  کا اثررسوخ بڑھ گیا ہے۔ رپورٹرس وداؤٹ بارڈرس کی ایشیا پیسیفک ڈیسک  کے سربراہ ڈینیل بسٹارڈ کا کہنا ہے کہ مئی دو ہزار انیس اور اپریل دو ہزار بیس کے درمیان پاکستان میں میڈیا ارکان کے خلاف  حملوں کے نوے سے زائد واقعات ہوئے جن  میں سات  افراد مارے گئے۔ دو صحافیوں کو اغوا کیا گیا۔ شک ہے کہ انہیں خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے اغوا کیا۔ نو کو حراست میں لیا گیا۔ دس کے خلاف کیس درج کئے گئے۔ سینسر شپ کے دس معاملے سامنے آئے۔ صحافیوں پر حملوں  کے دس واقعات ہوئے جن میں پانچ کے جسموں  پر گہرے زخم آئے۔ تحریری اور زبانی دھمکیوں کے بیس واقعات بھی رونما ہوئے۔  صوبہ بلوچستان میں دو رپورٹرس کا قتل بھی  واقعات میں شامل  ہے۔ کراچی میں ایک رپورٹر کو اسکے گھر سے گرفتار کیا گیا۔ اور ایک سرکردہ صحافی کے خلاف بغاوت کا کیس درج کیا گیا۔  صحافیوں کو سرکار اور  ملٹری کی تنقید اور نکتہ چینی کی بھاری قیمت چکانا پڑ رہی ہے۔ دی ایکسپریس ٹری بیون کے ایک ایڈیٹر بلال فاروقی کو   ملٹری کو بدنام کرنے اور نفرت پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ صحافی کی سوشل میڈیا پوسٹ کے سلسلے میں ایک فیکٹری ورکر نے شکایت درج کرائی تھی، جسکے بعد یہ کاروائی کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا پوسٹ  میں ملٹری کی نکتہ چینی کی گئی تھی۔ ملک کی الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے سابق چیئرمین اور سرکردہ صحافی ابصار عالم  کے خلاف جہلم میں کیس درج کیا گیا۔ انکے خلاف ایک وکیل نے شکایت کی تھی کہ انہوں نے وزیر اعظم عمران خاں اور سرکاری اداروں کے  خلاف ہتک آمیز ٹویٹ کئے تھے۔صحافیوں کو ہراساں کئے جانے کے معاملات  لگاتار جاری ہیں۔ پاکستان  کے ایک بڑے میڈیا ادارے  جنگ گروپ کے ترسٹھ سالہ مالک میرشکیل الرحمان کو زمین کی خرید و فروخت کے ایک پینتیس سال پرانے   کیس میں گرفتار کیا گیا ہے۔ نو ماہ بعد نومبر میں سپریم کورٹ سے انہیں ضمانت پر رہائی نصیب ہو سکی۔ فریڈم نیٹ ورک ادارے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں دارالحکومت اسلام آباد صحافیوں کے  لئے خطرناک ترین مقام ہے۔ صحافیوں کے  خلاف حملوں کے نوے  میں سےاکتیس واقعات وفاقی راجدھانی میں ہی  رونما ہوئے۔ فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق میڈیا ارکان کے خلاف تشدد کے بیالیس فیصد کیسوں میں  مظلوم صحافیوں  اور انکے رشتےداروں  کو ان واقعات میں حکومت اور ایجنسیوں  کے ملوث ہونے کا شک ہے۔ پرو ٹیکٹ جرنلسٹ کی کمیٹی برائے ایشیا کے ڈائریکٹر اسٹیون بٹلر کو یہ کہتے ہوئے پاکستان   چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا کہ پاکستان میں میڈیا کی آزادی خطرے میں ہے۔

رپورٹرس وداؤٹ بارڈرس آر ایس ایف کے مطابق دو ہزار بیس میں  صحافتی آزادی کے معاملے میں پاکستان ایک سو پینتالیسویں  مقام پر  تھا جبکہ دو ہزار اٹھارہ  میں وہ ایک سو انتالیسویں مقام پر تھا۔ پاکستان میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا  کا گلا گھونٹنے کی بھی کوشش کی جارہی ہے۔ اسکی تازہ مثال آن لائن مواد پر نظر رکھنے سے متعلق  وزارت اطلاعات کے ذریعے جاری  کئے گئے نئے ضابطے ہیں۔ بظاہر تو ان ضابطوں کا مقصد  الکٹرانک جرائم کے انسداد کے ایکٹ  پی ای سی اے دو ہزار سولہ کے آرٹیکل سینتیس کو قانونی فریم ورک مہیا کرانا ہے لیکن  اس سے  پاکستان کی ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی  پی ٹی اے کو بے پناہ اختیارات مل گئے ہیں۔  آر ایس ایف کے مطابق  نئے ضابطوں سے  انٹر نیٹ پر سے بھروسے مند آزاد جانکاری حاصل کرنے کے عام  شہریوں کے حقوق پر ضرب لگتی ہے۔ ان ضابطوں  کی وجہ سے کسی سرکاری افسر  کے خلاف کسی بھی قسم کی نکتہ چینی سینسر کی جاسکتی ہے۔  انٹر نٹ پر موجود کسی مواد کے بارے میں فیصلہ کرنے کے معاملے میں ان ضابطوں کے تحت  پی ٹی اے کو مدعی اور جج دونوں کا درجہ حاصل ہوجاتا ہے۔ با خبر ذرائع  کا دعوی ہے کہ پاکستان کی وفاقی جانچ ایجنسی  ایف آئی اے انچاس صحافیوں  اور سوشل میڈیا  کارکنوں کے خلاف  آن لائن مواد پر نظر رکھنے کے لئے جاری نئے ضابطوں کے تحت  اب تک کیس درج کرچکی ہے۔وزیر اعظم عمران خاں پاکستان میں میڈیا کے خلاف کریک ڈاؤن کے الزام کی تردید کرتے ہیں لیکن حقیقت اسکے بر عکس ہے۔ پریس کی آزادی کے لئے آواز بلند کرنے والوں اور صحافیوں کے خیال میں پاکستان میں میڈیا کے خلاف کریک ڈاؤن  جاری ہے۔